بھارتی جاسوس کی پھانسی رکوانے کلئے عالمی عدالت میدان میں آگئی

عدالتی  حکم کے باوجود کلبھوشن کوپھانسی دی جا سکتی ہے. امریکا سمیت دیگر ممالک کی مثالیں ہیںl_166504_031333_updates

عالمی عدالت کے جج رونی ابراہم نے کہا ہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی.جبکہ عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجود کلبھوشن کو پھانسی دی جا سکتی ہے کیونکہ امریکا سمیت دیگر ممالک میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں عالمی عدالت کے جج رونی ابراہم نے گزشتہ روز کلبھوشن کیخلاف پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا اور کہا کہ عالمی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل1کےتحت عدالت کےپاس ویانا کنونشن کی تشریح میں تفریق پرفیصلہ دینے کااختیار ہے،دونوں ملکوں کے درمیان ویانا کنونشن کے تحت کونسلر رسائی پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کومطلع کرنے میں ناکامی ویانا کنونشن کے دائرے میں آتی ہے،ویانا کنونشن سے جاسوسی میں گرفتار افراد کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا،کلبھوشن یادوکا معاملہ عالمی عدالت انصاف کےدائرہ کارمیں آتا ہے۔

عالمی عدالت کے جج رونی ابراہم نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادوتین مارچ 2016 سےپاکستان کی قید میں ہے۔پاکستان نےبتایاکہ اس نےیادوکامعاملہ بھارتی ہائی کمیشن کےساتھ اٹھایا۔

جج نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ جنوری 2017میں پاکستان نےبھارت سےتحقیقات میں معاونت کے لیے خط لکھا،پاکستان نےبھارت کوبتایاکہ قونصلررسائی کافیصلہ پاکستانی خط کےجواب پرہوگا۔

انہوں نے اپنے فیصلے کے دوران اس کیس سے متعلق مختلف دفعات کا خلاصہ بھی پیش کیا جس میں پاکستان اور بھارت کے سیاسی معاملات کے پس منظر کا تذکرہ تھا۔

واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے نہ صرف پاکستانی موقف بھر پور انداز میں پیش کرتے ہوئے عالمی عدالت میں ثبوت دکھائےبلکہ کلبھوشن کے کرتوت بتائےاوراس کے سہولت کاروں کے نام بتائے۔بلکہ دنیا کے سامنے یہ بات بھی دہرائی کہ پاکستان نے بھارت سے جو معلومات مانگیں ،بھارت نے ان پر تعاون کرنے کے بجائے فرار اختیار کیا۔

بھارتی جاسوس اوربھارتی نیوی میں حاضر سروس آفیسر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری 16مارچ 2016کو حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی مدد سے بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں عمل میں آئی جہاں وہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاکستان مخالف تخریبی اور دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا ۔

گرفتاری کے چند روز بعد ہی کل بھوشن یادوکا اعترافی بیان جاری کیا گیا جس میں اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا،اس سے پہلے 2004اور2005میں وہ ’را‘ کے دہشت گرد مقاصد کے حصول کیلئے کراچی کے دورے بھی کرچکا ہے ۔

جاسوسی اور دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے اعتراف بعد فوجی عدالت نے10اپریل 2017 کو موت کی سزا سنائی۔

پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی سے متعلق کل بھوشن کے انکشافات پر اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھائی ۔اس متعلق ثبوت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے حوالے بھی کیے گئے ۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی جاسوس کل بھوشن کا آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا۔ اسے اپنے دفاع کے لیے لیگل ٹیم بھی فراہم کی گئی اور تمام الزامات ثابت ہونے پر فوجی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی۔
عالمی عدالت انصاف کےفیصلے کے باوجود بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کو پھانسی دی جاسکتی ہے ۔ عالمی عدالت انصاف کے روکنے کے باوجود امریکا کی ایسی تین مثالیں موجود ہیں۔

عالمی عدالت انصاف کے حکم کے باوجود ماضی میں امریکا نے 3 مجرموں کو زہریلا انجکشن لگا کر اور گیس چیمبرز میں سزائے موت دے دی ۔

پہلا کیس:

پیراگوئے بنام امریکا:

1998 میں پیرا گوئے نے آئی سی جے میں اپنے شہری اینجل فرانسسکو بریڈ کو امریکا میں سنائی گئی سزائے موت رکوانے کی اپیل کی ۔

آئی سی جے نے حکم دیا کہ سزا روکی جائے لیکن امریکا نے اسی سال فرانسسکو کو زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دے دی۔ فرانسسکو پر جنسی زیادتی اور قتل کے الزامات تھے ۔

دوسرا کیس:

جرمنی بنام امریکا:

جرمنی نے 1999 میں اپنے شہری والٹر لا گرینڈ کو امریکا میں سنائی گئی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں اپیل کی۔

عدالت نے حکم دیا کی سزا روکی جائے لیکن لا گرینڈ کو آریزونا کے گیس چیمبر میں سزائے موت دے دی گئی۔ اس پر قتل اور بینک ڈکیتی کے الزمات تھے۔

تیسرا کیس:

میکسیکو بنام امریکا:
.
میکسیکو نے اپنے شہری جوز میڈیلین کی امریکا میں سزائے موت کے خلاف 2003 میں عالمی عدالت انصاف میں اپیل کی۔

عدالت نے حکم دیا سزا روک دی جائے لیکن جوز میڈیلین کو اگست 2008 میں ٹیکساس میں زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دے دی گئی۔ میڈیلین پر جنسی زیادتی اور قتل کے الزامات تھے۔

228total visits,1visits today