یونیورسٹی گرلز ہاسٹل سے مدارس تک

رضوان اللہ خان
رضوان اللہ خان 22/05/2017 70754 مناظر دلیل پنجاب یونیورسٹی، پی سی ہوٹل، دینی مدارس، گرلز ہاسٹلز، نائٹ پارٹیز، یونیورسٹی نائٹ
ڈرائیور اچانک بولا سر! معذرت چاہتا ہوں لیکن کچھ دن پہلے رات کے ڈیڑھ بجے پنجاب یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل سے مجھے کال آئی اور میں ان لڑکیوں کو پی سی (PC) چھوڑنے گیا۔
میں اور میری کمپنی کے مارکیٹنگ ہیڈ ابوبکر لاہور کی ایک یونیورسٹی میں منعقدہ ایگزی بیشن میں شرکت کے لیے جا رہے تھے جہاں دو دن قبل ہی مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ راستے میں کچھ موضوعات پر گفتگوکے دوران ہی ہاسٹل لائف اور گرلز ہاسٹل پر بات چھڑی تو گاڑی کے ڈرائیور نے اچانک ہمیں اپنی جانب متوجہ کیا۔ وہ بتا رہا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی یہ سٹوڈنٹس مجھے انتظار کا کہہ کر ہوٹل میں داخل ہوئیں اور 2 گھنٹے بعد جب باہر آئیں تو شراب کے نشے میں دھت تھیں۔ ڈرائیور بتانے لگا:
سر! وہ جیسے ہی گاڑی میں بیٹھیں تو میں نے سوال کیا:
بیٹا آپ کو کہاں اتاروں؟
وہ غصے میں کہنے لگیں:
رشتے داریاں نہ بنائیں، بس برکت مارکیٹ اتار دیں۔
سارا راستہ ان لڑکیوں نے اونچی آواز میں گانے چلائے اور ونڈو سے نکل کر شور مچاتی رہیں۔ برکت مارکیٹ جا کر گاڑی روکی تو ایک لڑکی نے کہا:
آپ بہت اچھے ہیں، ہمارے ساتھ آ جائیں
تو میں نے پریشانی سے جواب دیا:
میری بیٹی سولہ سال کی ہے اور آپ کی عمر بھی شاید 18 سال سے زائد نہ ہو، بس اللہ آپ کو ہدایت عطا فرمائے۔ مزدوری کمانے نکلے اس ڈرائیور کی باتیں حیران کردینے والی تھیں لیکن یہ کوئی نئی بات تو نہ تھی۔

یونیورسٹیز سے باہر ایسی پارٹیز الگ معاملہ ہے لیکن یہاں تو یونیورسٹی نائٹ، نائٹ پارٹیز اور نائٹ کنسرٹس میں کتنے ہی واقعات ہوتے ہیں جنھیں میڈیا کی زینت نہیں بننے دیا جاتا۔ کتنے ہی لڑکوں کو ان نائٹس میں شراب میں مدہوش ہم نے اپنی گریجویشن کے دور میں دیکھا۔ پھر شراب میں بدمست ان نوجوانوں کے ساتھ گاڑی میں روانہ ہونے والی ان کی کلاس فیلوز یا یونیورسٹی فیلوز اتنی رات گئے کیا گل کھلاتے ہوں گے، کون جانتا ہے۔ کتنے ہی ایسے واقعات میڈیا پر آنے سے اس لیے روک دیے جاتے ہیں کہ اس سے یونیورسٹی انتظامیہ کا پول کھلے گا اور غیرت مند والدین کی غیرت کا جنازہ نکلے گا۔ لاہور کی معروف یونیورسٹیز میں ایسی ہی نائٹ پارٹیز کے بعد کئی لڑکوں کی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد قتل ہونے والی لڑکیوں کو انصاف کہاں سے ملتا؟

کتنی ہی یونیورسٹیز کے لڑکے لڑکیاں مل کر نشہ کرتے ہیں، ناچتے ہیں،گاتے ہیں اور یہ تھرکتے بدن جہاں تعلیمی نظام کو گالی دیتے ہیں وہیں والدین کے منہ پر طمانچوں کا کام کرتے ہیں۔ یونیورسٹیز کے درمیان مقابلے کا رجحان تعلیمی میدان میں ہونا چاہیے تھا لیکن یہاں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے نت نئے فحش پرگرامات اور لباس متعارف کروائے جاتے ہیں۔

پی سی جیسے ہوٹلز میں ہونے والے یہ پرگرامات کوئی مدرسے کا طالب علم تو نہیں کرواتا؟
انھی تعلیمی اداروں سے نکل کر آنے والا پولس آفیسر قاتل اور رشوت خور کیوں بنتا ہے؟
یونیورسٹیز کے ڈگری ہولڈر ججز اور وکلا کیسے کیسے ظالم کھیل کھیلتے ہیں؟
جدید تعلیمی اداروں کے سند یافتہ سیاست دان کرپشن میں سر سے پاں تک کیسے غرق ہوتے ہیں؟
گریجویشن، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈیز کیے ہوئے لوگ ملازمتوں میں بے ایمانی، کاروبار میں دھوکے بازی اور پراڈکٹس میں ملاوٹ کیوں کرتے ہیں؟
ملاوٹ شدہ دودھ بیچنے والی کمپنیاں اور مردہ مرغیاں کھلانے والے بڑے ریسٹورنٹ چلانے والے کون لوگ ہیں؟
جرنلزم اور ماس کام پڑھ کر میڈیا انڈسٹری میں آ کر جھوٹ بولنے اور حکمرانوں کے تلوے چاٹنے والے ایسا کیوں کرتے ہیں؟
کیا یونیورسٹیز میں صرف ڈگری بیچی جاتی ہے؟ کیا تربیت کا کوئی امکان نہیں؟ اگر امکان ہے تو اس پر کام کیوں نہیں ہوتا؟
ان سب باتوں پر سوچنے کے بجائے ہمارے ہاں ایک طبقے کا نزلہ آئے روز دینی مدارس ہی پر کیوں گرتا ہے؟

میں پچھلے چار سال سے مدارس کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں، وہاں کے لوگوں کے ساتھ روابط بڑھائے، ان سے بات کرنے کا موقع ملا اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے اس قدر فرق دیکھا۔ بچپن سے اب تک جن تعلیمی اداروں سے نکلا ہوں، وہاں اور دینی مدارس میں یہ فرق دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میں ہمیشہ سنتا آیا تھا کہ علما دنیاوی تعلیم کے مخالف ہیں، ہمارا میڈیا بھی کچھ ایسی ہی باتیں یاد کروانے کی کوشش میں مگن رہتا تھا۔ ایک دن پلان کیا اور گھر کے پاس مسجد کے مولوی صاحب سے پوچھا تو ان کا جواب تھا ہم تو دنیاوی تعلیم کے ہرگز مخالف نہیں۔ سوچا یہ نرم دل انسان ہے، کسی اور سے ملتا ہوں، سنا تھا بڑے مدارس کے علما سخت مخالف ہیں، تو بس جامعہ اشرفیہ جا پہنچا، جواب ملا ہم تو بس کو ایجوکیشن کے خلاف ہیں۔

سوچا لوگ جماعت اسلامی، جماعت الدعوہ اور ایسے ہی دوسرے لوگوں کو شدت پسند کہتے ہیں لیکن وہاں سے بھی یہی جواب آیا کچھ اس تبدیلی کے ساتھ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ نیا علم ہونا ضروری ہے تاکہ باقی دنیا سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

میں تمام مسالک کے علما اور جماعتوں سے ایک جیسا جواب سن کر بھی مطمئن نہ تھا، اور مختلف علما سے ملتا رہا اور ان کی رائے جانتا رہا۔ ایک دن ملتان میں ایک ٹریننگ سیشن سے باہر نکل کر ایک بینر پر نظر پڑی، ایک دوست سے اس متعلق پوچھا اور شام کو اس پروگرام میں جا پہنچا۔ سامنے ایک عالم دین بہت جذباتی بیان فرما رہے تھے، وہ مسلمانوں کے زوال اور پستی کے اسباب پر روشنی ڈال رہے تھے، وہاں ساری گفتگو اسلام اور پاکستان کی حفاظت کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی طرف لوٹ آنے سے متعلق تھی اور کشمیر میں ہونے والا ظلم سنایا جا رہا تھا۔ سوچا آج مجھے ٹھیک ٹارگٹ ملا ہے، ان سے دنیاوی تعلیم سے متعلق سوال کرتا ہوں، یہ خاصے شدت پسند معلوم ہوتے ہیں۔ بہ مشکل ان تک پیغام پہنچایا اور ان کا وقت لیا۔ ان کا نام مولانا طلحہ تھا جو ایک کشمیری حریت پسند تحریک سے تعلق رکھتے تھے۔ سوال وہی تھا لیکن جواب حیران کر دینے والا۔ فرمانے لگے:
اگر اسلامی نظامِ حکومت ہو تو حکومت پر فرض ہے کہ دنیا میں جو بھی نیا علم یا نیا سبجیکٹ آئے، اپنی عوام میں سے کچھ لوگوں کو خود اپنے فنڈ سے اس کی تعلیم دلوائے، لیکن چونکہ یہاں تو خود حکمران عوام کی کھال اتار رہے ہیں تو ایسے میں عوام میں سے ایک گروہ پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں آنے والا نیا علم ضرور حاصل کرے۔
میں نے حیران ہوتے ہوئے سوال کیا:
کیا آپ دنیاوی تعلیم کے مخالف نہیں؟
انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:
ہم اس نظامِ تعلیم کے مخالف ہیں جہاں لوگوں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں، وگرنہ جس طرح امت میں علما کا ایک گروہ ہونا ضروری ہے، اسی طرح امت مسلمہ میں جدید علم کا حامل ایک گروہ بھی ضروری ہے جو دین کو سچا مانتے ہوئے اسلام کو اور اپنے وطن کو اپنے علم سے فائدہ پہنچائے۔

جب دنیاوی تعلیم کی بھی اس قدر اہمیت ہے اور جگہ جگہ سکول، کالجز اور یونیورسٹیز بنائی جا رہی ہیں تو ضروری ہے کہ اب تربیت پر کام بھی شروع کیا جائے، کہ یہیں سے نکل کر لوگ ملک کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں اور انھی اداروں سے نکلے لوگ اپنے ہنر اور قابلیت سے اسلام و پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ مگر اس جانب توجہ دینے کے بجائے ان اداروں سے نکلنے والے لوگ مدارس کا نظام دیکھے بنا انھیں گالیاں اور الزام دیتے نہیں تھکتے۔ ہمارے ہاں مدارس پر شدت پسندی کا الزام لگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ملک کا امن تباہ کرنے والے ادارے صرف مدارس ہیں، کوشش رہے گی کہ اس بات کا جواب اگلے مضمون میں دے سکوں۔ ان شا اللہ

430total visits,1visits today