sad-rafeeq 5

وفاقی وزراءکا جے آئی ٹی میں حساس اداروں کی شمولیت پر اعتراض

sad-rafeeq
حکمران جماعت مسلم لیگ (ن )نے پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی قائم جے آئی ٹی کی رپورٹ سے 2 دن پہلے ہی تحقیقاتی ٹیم پر اعتراضات کردیئےاور حساس اداروں کی شمولیت پر بھی اعتراض داغ دیا ۔

چار وفاقی وزراءخواجہ محمد آصف ،خواجہ سعد رفیق،احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی نے دھواں دھار مشترکہ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ جے آئی ٹی پہلے دن سے ہی متنازع ہے،فون ٹیپ کرنے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی ؟قطر کے سابق وزیراعظم کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا تو تحقیقاتی رپورٹ ناقابل قبول ہوگی ۔

وفاقی وزراء کا کہناتھاکہ مارک سیگل، مشرف سمیت کئی مثالیں ہیں جہاں بیان ان کے پاس جاکر ریکارڈ کیے گئے، تصویر لیک کی گئی لیکن نام پتا بتانے کو کوئی راضی نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تین دن سے خبر چل رہی ہے کہ جے آئی ٹی کا انتظام و انصرام ایک حساس ادارے کے پاس ہے، اس خبر کی تصدیق یا تردید کیوں نہیں کی جا رہی؟ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ سربراہی ایف آئی اے کے پاس ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی ،ایم آئی کے نمائندوں کی شمولیت پر بھی تحفظات تھے لیکن اس کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے،انہوں نے استفسار کیا کہ پاکستان میں وہ کون سا قانون ہے جس کے تحت وزیراعظم ہاؤس کے فون ٹیپ کیے گئے؟

خواجہ آصف نے مطالبہ کیاکہ جے آئی ٹی کارروائی کی آڈیو وڈیو عوام کے سامنے لائی جائے، عوام کو بتایا جائے وزیر اعظم اور دیگر سےکیا کیا سوالات ہوئے اور کیاکیا جوابات دیے گئےاور اس پر آنے والا خرچہ ہم سے لیا جائے۔

ان کا مزید کہناتھاکہ حساس اداروں کا پاکستانی سیاست سے کوئی تعلق نہیں، سارے ملک کے لیے ایک قانون اور شریف خاندان کیلئے دوسرا قانون نہیں ہونا چاہیے۔

احسن اقبال نے کہا کہ انتخابات میں شکست کھانے والے سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کرپشن کرپشن پکارنے والے 1963ء کی ٹرانزیکشن بنیاد بنا کر تلاشی مانگ رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی کا کہناتھاکہ وزیراعظم استثنیٰ لے سکتے تھے، نہیں لیا ، احتساب سے گھبرانے والے نہیں،وزیراعظم کی بیٹی تحفظات کے باوجود جے آئی ٹی میں پیش ہوئیں، اپنے تحفظات عوام کی عدالت میں پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں