جے آئی ٹی کی وزیراعظم، بیٹوں اور مریم نواز کیخلاف نیب ریفرنس کی سفارش


پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیراعظم، ان کے بیٹوں اور مریم نواز کے خلاف نیب ریفرنس بھیجنے کی سفارش کردی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 256 صفحات پر مشتمل رپورٹ حاصل کرلی جس میں کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے ذرائع آمدنی اور ان کے رہن سہن میں مطابقت نہیں ہے جب کہ پاکستان میں موجود کمپنیوں کامالیاتی ڈھانچہ بھی مدعاعلیہان کی دولت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جے آئی ٹی نے رپورٹ میں شریف خاندان کے خلاف کارروائی کے لیے نیب آرڈینینس کے سیکشن 9 (اے، وی) اور قانون شہادت کا حوالہ دیا ہے۔

یاد رہے کہ نیب کے متعلقہ سیکشن کا تعلق عوامی عہدہ رکھنے والے شخص سے ہے⁠⁠⁠⁠ اور سیکشن 9 کی ذیلی دفعہ (وی) اثاثوں،آمدنی کے ذرائع میں فرق سے متعلق ہے۔

رپورٹ میں نیب کے سیکشن 14 کی ذیلی دفعہ(سی) کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو کہ نیب کورٹ کو کرپشن پر کارروائی کا اختیار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جے آئی ٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ نوازشریف، حسن، حسین اور مریم نواز نے ظاہر کیے گئے اثاثوں سے زیادہ اثاثے بنائے، وزیراعظم، حسن اور حسین نواز کی دولت معلوم ذرائع سے زیادہ ہے۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جو تحقیقات ہوئیں اس کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ حسین نواز کی طرف سے نوازشریف کو کروڑوں روپے کی رقم بھجوائی جاتی رہی ہے اور بڑی رقوم کی قرض اور تحفے کی شکل میں بھاری رقوم کی بے قاعدگی سے ترسیل کی گئی جو نوازشریف، حسین نواز اور حسن نواز کو ملی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بےقاعدہ ترسیلات لندن کی ہل میٹل کمپنی، یو اے ای کی کیپٹل ایف زیڈای کمپنیوں سےکی گئیں، سعودی کمپنی ہل میٹل اور برطانوی کمپنی فلیگ شپ سے غیر قانوی ترسیلات کی گئیں اور نوازشریف، حسین، حسن نواز جے آئی ٹی کے سامنے رقوم کی ترسیلات کی وجوہات نہیں بتا سکے۔

رپورٹ کے مطابق یہ رقوم سعودی عرب میں ہل میٹل کمپنی کی طرف سے ترسیل کی گئیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ سعودی عرب کے اندر جو ہل میٹل اسٹیل ملز ہے اس کے لیے قرض لیے گئے اور جو دیگر ذرائع آمدن ہے اس کا واضح جواب نہیں دے سکے ہیں۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا یہ بات کہ لندن کی پراپرٹیز اس بزنس کی وجہ سے تھیں یہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

رپورٹ کے مطابق حسن نواز کی لندن میں جو فلیگ شپ اونر کمپنی اور جائیدادیں ہیں اس میں بھی تضاد پایا جاتا ہے کیونکہ برطانیہ کی کمپنیاں نقصان میں تھیں مگر بھاری رقوم کی ریوالونگ میں مصروف تھیں۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ان فنڈز سے برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خریدی گئیں، انہی آف شور کمپنیوں کو برطانیہ میں فنڈز کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران آف شور کمپنیوں کا برطانیہ میں کاروبار سے تعلق سامنے آیا، آف شور نیلسن اور نیسکول سے تعلق ملا، کمپنیز لیمکن ،کومبر گروپ اور ہلٹن انٹرنیشنل سے بھی تعلق ملا، ان کمپنیز کے ذریعے برطانیہ میں کاروبار کو سرمایہ فراہم کیا گیا جب کہ تمام کمپنی کے ڈائریکٹرز، شیئرز ہولڈرز اور مالک خاندانی افراد ہی تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نیب آرڈیننس سیکشن9 اے وی کےتحت یہ کرپشن اور بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا جے آئی ٹی مجبور ہے کہ معاملے کو نیب آرڈیننس کے تحت ریفر کردے۔

645total visits,1visits today