کچھ کمی تو ہے!

مولانا محمدجہان یعقوب
……………………………………………………………………….

khatm-e-bukhari-2017-224

مدارس دینیہ کی رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ علوم نبوت کے شائقین کی آمد اور داخلوں کاسلسلہ عروج پر ہے۔ مدارس کے درودیوار تنگ دامنی کا شکوہ بہ زبان حال کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن منتظمین پوری وسعت قلبی کے ساتھ اپنے تمام مہمانوں کے لیے انتظام و انصرام میں مصروف ہیں۔

دو دہائی پہلے تک عمومی رجحان یہ تھا کہ نسبتا معمولی استعداد والا بچہ مدرسہ بھیجاجاتا تھا یا پھر جو جدی پشتی مدارس سے منسلک تھے، انہی کے بچے مدارس کا رخ کرتے تھے۔ اب فضا بدل چکی ہے۔ آپ کسی بھی مدرسے کا دورہ کر کے طلبہ کا جائزہ لیجیے، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ماسٹرز کیے ہوئے باصلاحیت نوجوان، ڈگریاں ہاتھوں میں لیے داخلے کی قطار میں کھڑے ہیں۔ والدین نے اپنے ذہین ترین بچے کا انتخاب مدرسے کی تعلیم کے لیے کر رکھا ہے، ان کی آنکھوں میں سجے فلاح و نجات اخروی کے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے انھوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے مدارس کے حوالے کر رکھے ہیں کہ شاید یہ ہمارے خواب کی تعبیر کا سامان کر سکیں۔

اس بدلی ہوئی فضا کی وجہ سے مدارس و اہل مدارس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ روایتی انداز تعلیم و تدریس اب کچھ تبدیلی چاہتا ہے۔ منجمد اذہان اب وسعت چاہتے ہیں۔ یہ طلبہ دو دہائی پہلے والے طلبہ نہیں کہ آپ کی ہر بات کو ”مستند ہے ان کا فرمایا ہوا” کا مقام دے کر سر تسلیم خم کر دیں۔ اب آپ کی ان کے سوالات کے جواب میں ”بےادب” کہنے سے گلوخلاصی نہیں ہوسکتی۔ انھیں مطمئن کرنا ہوگا۔ یہ ذہنی آوارگی کا دور ہے اور یہ طلبہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں، اس لیے انھیں ذہنی آسودگی فراہم کرنے کے لیے آپ کو مطالعہ کرنا ہوگا، ذہن کو وسعت دینی ہوگی،گرد و پیش سے باخبر رہنا ہوگا، ایک سخت گیر استاد کے بجائے ایک نرم خو دوست بننا ہوگا، رجعت پسندی کے بجائے حقیقت پسندی کی روش اپنانی ہوگی، انھیں اپنے قریب کرنے اور ذہنی دوریوں کے فاصلے پاٹنےکے لیے اپنی ماورائی حیثیت کے حصار سے نکلنا ہوگا، بسم اللہ کے گنبد میں قید مدرس خواہ اپنے فن میں کتنا ہی ماہر ہو، ان طلبہ کے لیے مثالی استاد ثابت نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں ایک نئے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے – مفتی محمد تقی عثمانی
ان نئےطلبہ کے لیے مدارس کا ماحول اجنبی ہے۔ آپ کا فرض بنتا ہے کہ ایک کام یاب اور روشن مستقبل کی طرف ان کی راہ نمائی کریں، آپ نے اس پہلو کو تشنہ چھوڑا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آٹھ دس سال لگانے کے بعد بھی یہ معاشرے کے لیے اجنبی اور ان فٹ ثابت ہوں، جیسا کہ عمومی المیہ ہے۔ وراثت نبوت کی ڈگری کے حاملین معاش کے لیے مختلف قلیل المدت ڈپلومے، اسپیشل کورسز اور تخصصات کورسز کرنے پر مجبور ہیں، جن کو یہ موقع نہیں ملتا، وہ چھوٹے موٹے کام کر کے زندگی کی گاڑی دھکیل رہے ہیں. ستم بالائے ستم یہ کہ اہل مدارس کواس سے کوئی سروکار بھی سروکار بھی نہیں کہ ہمارے ہاں اپنی تربیتی زندگی کے قیمتی ماہ و سال بتانے والا جس پر قوم کی لاکھوں کی رقم صرف ہوئی معاشرے کو کیا آؤٹ پٹ دے رہا ہے یا کیسے زندگی گزار رہا ہے۔

اس پرفتن دور میں جو طلبہ مدارس کا رخ کر رہے ہیں وہ آپ کے پاس اللہ کی نعمت ہیں۔ مستقبل میں دین کا دفاع، ترویج و اشاعت ان کے ذریعے ہونی ہے۔ ان کی درست کردار سازی پر معاشرے کی صلاح و فساد کا دارومدار ہے۔ آپ نے اس سلسلے میں کوتاہی کی تو مستقبل قریب میں اجتماعی طور پر امت مسلمہ اور معاشرے کے حق میں یہ کوتاہی انتہائی تباہ کن نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ ان کی تعلیم سے زیادہ ان کی کردارسازی اہم ہے۔ ان کے ذہن و دل کی خالی تختیوں پر درست عقائد، حب رسولؐ و اصحاب رسولؓ، حقانیت دین متین، عقیدت اکابر، اعتماد بر اسلاف، حب وطن اور تعمیر کردار کے انمٹ نقوش ثبت کیجیے تاکہ آنے والے وقت میں جو اس وقت سے کہیں زیادہ کٹھن ہوگا، ان میں سے کوئی پرویزی، چکڑالوی، منکرحدیث، منکرحیات انبیاء،گستاخ رسولؐ و شاتم صحابہؓ، اعجاب بالرائے کا شکار جاوید غامدی نہ بن سکے۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی گوشے میں کسی بھی پہلو سے کوتاہی کے مرتکب ہوئے تو اس جرم کی سزا پوری امت کو چکانی پڑ سکتی ہے۔ بقول کسے:
تاریخ نے قوموں کی، وہ دور بھی دیکھے ہیں

588total visits,1visits today