7

جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت، شریف خاندان کے اعتراضات

اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے

سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف،ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں میں پاناما کیس میں تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا گیا ہے۔
یہ درخواستیں پیر کی صبح سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پر سماعت سے قبل جمع کروائی گئیں۔
اعتراضات پر مشتمل درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور جو رپورٹ پیش کی اس میں نام نہاد شواہد شامل کیے گئے ہیں لہذا اس رپورٹ کو اور شریف خاندان کے خلاف درخواست کو مسترد کیا جائے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مدعا الیہان کی جانب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جن 13 سوالات کے جوابات معلوم کرنے کو کہا تھا ان پر کوئی کام نہیں کیا گیا اور کمیٹی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔
عدالت میں جمع کروائے جانے والے اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور رپورٹ میں غیر جانبداری کا عنصر موجود نہیں ہے۔
شریف خاندان اور ان کے وکلا نے رپورٹ کی جلد 10 کی نقل حاصل کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔ یہ جلد جے آئی ٹی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے خفیہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ شریف خاندان کا کہنا ہے کہ جلد نمبر دس کے حوالے سے اگر نواز شریف کوئی الگ درخواست دائر کرنا چاہیں تو اس کی اجازت بھی دی جائے۔
پاناما کیس میں مزید تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آنے کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے پیر کو اس معاملے کی سماعت دوبارہ شروع کی۔
سماعت کے دوران پہلے مدعیان کے وکلا نعیم بخاری، آصف توفیق اور شیخ رشید نے دلائل دیے جبکہ شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث منگل کو اپنے دلائل دیں گے۔
دلائل کے دوران درخواست گزار عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ اس رپورٹ میں ایسے حقائق سامنے آئے نہیں جن کی دوبارہ تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت یہ سمجھے کہ اس معاملے میں قانونی موشگافیاں رہ گئی ہیں تو عدالت نواز شریف کو طلب کر سکتی ہے اور ان کا بیان ریکارڈ کیا جا سکتا ہے تاہم اس صورت میں انھیں بھی ان پر جرح کی اجازت بھی ملنی چاہیے۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے لیے جے آئی ٹی کی سفارشات پر عمل درآمد لازم نہیں ہے اور اس معاملے کو قانون کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
خیال رہے کہ عدالت نے جب 17 جولائی کو اس معاملے کی سماعت کا اعلان کیا تھا تو فریقین سے یہ بھی کہا تھا کہ اب وہ پاناما کیس میں عدالتی فیصلے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ پر بات کریں اور ایسے دلائل نہ پیش کیے جائیں جو اب تک دیے جا چکے ہیں۔
خیال رہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دس جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کی گئی اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مدعا علیہان تحقیقاتی ٹیم کے سامنے رقوم کی ترسیل کے ذرائع نہیں بتا سکے اور بھاری رقوم کو قرض یا تحائف کی صورت میں دینے سے متعلق بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔
یہ رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستانی پارلیمان میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
سماعت سے قبل سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم اب استعفیٰ دیں گے نہیں بلکہ ان سے استعفیٰ لیا جائے گا۔
ادھر متحدہ قومی مومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ ’وزیراعظم کو اخلاقی جواز پر وزارت سنبھالنی چاہیے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد جو معلومات سامنے آئی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب کے پاس اب کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے اور انھیں استعفی دے دینا چاہیے۔ ‘
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے چارروز قبل کابینہ اجلاس میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ الزامات، بہتان اور مفروضوں کا مجموعہ ہے۔
ان کی جماعت کی جانب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کسی بھی دلیل یا مستند مواد پر مشتمل نہیں۔،

(بی بی سی اردو)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں