مذہبی سیاسی اتحاد،مثبت اور منفی پہلو

bilal-khan1
(محمد بلال خان)

………………………………………………………..
دینی جماعتوں کے سیاسی اتحاد کے نام پر اپنی اپنی دوکانداری کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے، جمیعت علمائے اسلام کے عبدالغفور حیدری صاحب دھڑا دھڑ ملاقاتیں کئے جارہے ہیں، جبکہ جماعتِ اسلامی بھی خاصی متحرک ہے، آج ڈپٹی چئیرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری صاحب نے سینیٹر ساجد میر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ “پاکستان کو سیکیولر سٹیٹ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، اسی لئے دینی جماعتوں کا اتحاد ناگزیر ہوچکا ہے” سب سے پہلے تو سوال بھولے بھالے عبدالغفور حیدری صاحب اور ان کی جماعت سے بنتا ہے کہ ان “کوششوں” میں آپ کی اتحادی جماعت سب سے پیش پیش رہی، آپ نے پھر انہیں کس بنیاد پر سہارا دیا اور سپورٹ کیا ؟
خیر اب نئے انتخابات قریب آتے ہی راہیں جدا ہونے والی ہیں، ہر ایک نے نیا تیر پھینکنا ہے، پرویز مشروف جیسا پاکستان فروش اورقانون شکن بھی کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں سدھاروں گا، تو اس دوران باقی جماعتیں بھی اپنا اپنا منشور یا چورن بیچنے کیلئے میدان میں ہیں، بنیادی نکتی یہ ہے کہ پاکستان میں نظریاتی لوگ اور مذہبی ذہنیت کی بہتات کے باوجود ہر اتحاد بدترین ناکامی کا شکار کیوں ہوتا ہے ؟ متحدہ مجلس عمل، پھر متحدہ دینی محاذ اور اب دوبارہ ایم ایم اے کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، متحدہ مجلس عمل اور جمیعت کے حروف تہجی کی تعداد میں دھڑے دیوبندی مکتب فکر کے ووٹ تقسیم کرنے کی بنیادی وجہ ہیں، کیونکہ یہ باہر تو ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، مگر اندرون خانہ دوریاں اس قدر ہیں کہ ایک جمیعت کیلئے ووٹ “جہاد” ہے تو دوسری کیلئے ووٹ طاغوت کی حمایت، یہی کچھ سلسلہ بریلوی مکتب فکر کیساتھ بھی ہے، بریلوی مکتب فکر پاکستان کا سب سے بڑا مکتب فکر ہے، دوسرے نمبر پر دیوبندی مکتب فکر کی ابادی ہے، مگر ہیں دونوں حنفی، سوائے چند فروعی امور کے باقی ان میں کوئی خاص اختلاف نہیں، اس مرتبہ بریلوی مکتب فکر بھی ممتاز قادری شہیدؒ کے بعد سیاسی میدان میں شدت سے آگے آرہا ہے، جسے لیڈ کرنے والے علامہ خادم حسین رضوی ہیں، خادم رضوی صاحب جہاں بریلوی مکتب فکر میں بہت تیزی سے سیاسی شعور بیدار کرکے اپنا مقام بنا رہے ہیں، وہیں کچھ کاروباری مسند نشینوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کو ووٹ ڈلوانے کیلئے اپنے مریدین کو ترغیب دینے والوں کیلئے بھی دردِ سر بنے ہوئے ہیں، ممکنہ طور پر پہلے الیکشن میں خادم رضوی صاحب کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ حاصل کرپائیں، لیکن ان کے ساتھ ان کے چند اور ایسے مخلص اور جان کھپانے والے موجود ہوئے تو یقیناً بریلوی مکتب فکر بہت جلد اپنا نظریاتی ووٹ بینک بنانے میں کامیاب ہوگا۔
دیوبندی مکتب فکر کے نظریاتی ووٹ کی تقسیم کی بنیادی وجہ جماعتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور فروعی معاملات کو ایک الگ مسلک بنانے کی حد تک لیجانے کی وجہ سے دیوبندی مکتب فکر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جے یو آئی بھی اس وقت تک مطلوبہ ووٹ بینک حاصل نہیں کرسکی، جس میں کچھ جے یو آئی کی کمزور پالیسیاں ہیں، جے یو آئی کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم نے سب سے زیادہ نقصان دیا ، کیونکہ افرادی قوت کے لحاظ سے اہلسنت والجماعت یعنی سپاہ صحابہ دیوبندی مکتب فکر کی سب سے بڑی جماعت ہے، اور اہل تشیع کے حوالے سے سخت گیر نظریہ رکھتے ہوئے کسی بھی ایسے اتحاد کی قائل نہیں، جس میں اہل تشیع موجود ہوں، جبکہ اہل تشیع کے حوالے سے دیوبندی مکتب فکر کا وہی مؤقف ہے، جو سپاہ صحابہ کا ہے، بلکہ سپاہ صحابہ نے دیوبندی مکتب فکر کے اسی موقف کی بنیاد پر اپنی جدوجہد شروع کی، مگر جب جمیعت ف نے مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر ساجد نقوی کو شامل کرلیا تو سپاہ صحابہ جیسی ایک بڑی قوت کھو دی، سپاہ صحابہ کو دیکھتے دیکھتے دیگر دیوبندی احباب نے اس اتحاد کی شدید مخالفت کی، میرے خیال میں جمیعت اس اٹھاد کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھا چکی ہے، اور مزید بھی اٹھائے گی، کیونکہ ایک ساجد نقوی کو شامل کرنے کی وجہ سے جہاں وہ لاکھوں دیوبندیوں کا ووٹ بینک گنوا رہی ہے، وہاں کسی ایک سیٹ پر بھی اہل تشیع مل کر جمیعت کو ایک سیٹ نہیں دلا پائیں گے، کیونکہ شیعت پر تکفیر کا فتویٰ جمیعت کے سرخیل مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے والد گرامی مفتی محمود رحمہ اللہ بھی لگا چکے ہیں، اس لئے اہل تشیع اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتے، اہل تشیع قیادت کی مولانا فضل الرحمٰن سے قربت صرف ایک بات کا جواز پیدا کرنے کیلئے ہے ، وہ یہ کہ لوگوں کو کہہ سکیں کہ دیوبندیوں کی سب سے بڑی سیاسی تنظیم کا سربراہ ہمارے ساتھ ہے، باقی دیوبندی ہمارے متعلق جو نظریہ رکھتے ہیں، یہ اس کی تردید کی نشانی ہے، اور شیعہ نجی محافل میں قاضی حسین احمد مرحوم اور مولانا فضل الرحمٰن صاحب پر قہقہے لگاتے ہیں۔
جبکہ اس کے مقابلے میں دیوبندی جماعتوں کا اپنا ہی اتحاد اور بالخصوص اہلسنت والجماعت اور جمیعت کا ہی اتحاد ہوجائے تو ایم ایم اے سے کئی بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں، جس کی ایک جھلک گزشتہ ہفتے این اے 260 بلوچستان میں دیکھنے کو ملی، جہاں اہلسنت والجماعت اور جمیعت کا اتحاد تھا، اب اگر جمیعت ایسے اہم موڑ پر شیعہ کو اتحاد میں شامل کرکے اہلسنت والجماعت اور دیگر دیوبندی جماعتوں کی ناراضگی اپنے سر لیتی ہے تو یہ اپنے ہی پیروں میں کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا، جبکہ اس سے بہتر حل یہ ہے کہ مسلمان مکاتب فکر (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث) کا آپس میں اتحاد ہو، جس میں اہلسنت والجماعت اور جمیعت بھی شامل ہوں، بریلوی مکاتب فکر بھی متحد ہوں، اہلحدیث بھی شامل ہوں تو پہلے ہی اتحاد میں کایا پلت سکتے ہیں، کیونکہ ن لیگ کو ووٹ دینے والے پنجاب کے 80 فیصد ووٹرز بریلوی ہیں، جبکہ دیوبندی متب فکر کا ووٹ ہمیشہ منتشر رہا ہے، تبلیغی جماعت کی ایک بڑی تعداد نوزشریف کو دیتی ہے، کے پی کے مین گزشتہ الیکشن میں اہلسنت والجماعت اور پی ٹی آئی کا اتحاد اس بات کا مظہر ہے کہ وہاں دیوبندی مکتب فکر کا بڑا ووٹ بینک پی ٹی آئی کے حق میں چلا گیا، اس لئے اگر اب مذہبی سیاسی جماعتیں اتحاد کرنا چاہیں تو انہیں ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے ، جن سے انہیں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو۔
کیونکہ ایک پلاننگ کے تحت اہل تشیع اب پیپلزپارٹی کے دائرے سے نکل کر پی ٹی آئی میں بڑی تعداد میں شامل ہورہے ہیں، کراچی میں ایم کیو ایم کا اہل تشیع سے مضبوط اتحاد، باقی سندھ میں پیپلز پارٹی اور اب پی ٹی آئی کو ابھرتا دیکھ کر اہل تشیع نے اس پارٹی کو ہائی جیک کرنے کیلئے منظم کام شروع کردیا ہے، اور تقریباً کراچی ڈویژن میں پی ٹی آئی مکمل شیعوں کے نرغے میں ہے، اہل تشیع ہمیشہ ایک منظم پالیسی کے تحت چلتے ہیں، جہاں جس (سیکیولر) سیاسی جماعت کا زور ہو، وہاں ان سے اتحاد کرکے ان سے مفادات حاصل کئے جاتے ہیں، باوجود اقلیت ہونے کے اس پالیسی میں شیعہ ناکام ہوئے، تو پھر کیوں پاکستان کی اکثریتی آبادی یعنی اہلسنت مسلمان اپنا مضبوط سیاسی سیٹ اپ بنانے میں ناکام ہیں ؟ اس کی وجہ میری سمجھ مین صرف ایک نکتہ آرہا ہے کہ ہر مسلک کے اندر کئ دھڑے بنے ہیں، اور ہر دھڑے پر ایک گروہ قابض ہے، جو اپنی دکانداری بچانے کے چکروں میں اتحاد ہونے نہیں دیتا، ایسے میں تمام مسالک کی لیڈنگ پاور کو ذاتی، فروعی اور مسلکی اختلافات کو یکطرف چھوڑ کر ملی اور اجتماعی معاملات کیلئے اسی طرح متحد ہوں،جیسے تحریکِ ختم نبوت صلی اللہ علیہ والسلم کیلئے متحد ہوئے، یا ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یکجا نظر آتے ہیں، جبکہ علمی اختلافات علمائے کرام کے حلقوں تک محدود کیا جائے، اور فروعی اختلافات عوام میں نہ لائے جائیں تو بڑی حد تک کامیاب اتحاد ممکن ہے، اور یہ واحد راستہ ہے، جہاں سے دینی قوتیں مل کر اس نظام کو بدل سکتی ہیں، لیکن جب یہ آپشن بھی نہ رہے تو پھر انقلاب آخری حل ہے، جس کے دو ہی آپشن ہیں، یا تو آپ ترک قوم جیسی غیرت پیدا کرلیں، یا پھر خونی انقلاب کیلئے اپنی گردنیں پیش کریں

478total visits,2visits today