پانامافیصلہ،ایک اچھا آغاز!

مولانامحمد جہان یعقوب
hgjklll4
لگتا نہیں تھا کہ اتنا طاقت ور وزیراعظم یوں گھربھیجا جاسکے گا:…جس کے پاس بھاری مینڈیٹ تھا اور اس کا اسے زعم ہی نہیں غرور اور گھمنڈ بھی تھا…جس کی پشت پرپاک فوج بھی ایک عرصے تک رہی…جس نے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے جال بچھائے،جن میں سے فیتے تو سب کے کاٹے گئے،لیکن جو مکمل ہوئے وہ بھی کسی بھی سابق حکومت کے منصوبوں سے زیادہ تھے…جس نے ملک کو سی پیک کی صورت میں روشن مستقبل کا ایک ایسا سنگ میل دیا،کہ اگر یہ سنگ میل عبور ہوگیاتوملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ پڑیں گی،خوش حالی کا دو ردورہ ہوگا،مہنگائی کا تناسب آدھے سے بھی کم رہ جائے گا،پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا…جس نے ملک سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے کئی وسیع البنیادمنصوبے شروع کیے جواپنی تکمیل کی طرف روں دواں ہیں…اس سب کے باوجود،آخروہ کیا عوامل تھے جن کی وجہ سے قہّار وجبّار کی قہّاری وجبّاری کو جوش آگیا،اس کی داروگیریوں چشم زدن میں اپنا اثر دکھاگئی،کہ سب انگشت بدنداں ہیں،موافقین بھی اور مخالفین بھی۔
سیاسی اشرافیہ کی لغت میں شاید’ کسی کے انجام سے عبرت لینے یا ماضی سے سبق حاصل کرنے‘ کا کوئی تصور موجود نہیں،ورنہ میاں صاحب کو شاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
ان کے پہلے دور اقتدار کا خاتمہ582-B کی تلوار سے ہوا،جس کاحل انھوں نے یہ نکالا کہ اپنے طاقت ور مینڈیٹ کا استعمال کرکے اس شق کو ہی ختم کردیا،اب وہ بے خوف ہوگئے کہ کوئی طاقت ان کے مضبوط مینڈیٹ پر شب خون نہ مارسکے گی،سو اپنے اگلے دور حکومت میں انھوں نے اداروں اور افراد میں سے جس کسی کو اپنے عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا،اس کے ساتھ محاذآرائی کی،اور بڑے بڑے برج ان کی انتقامی حس کی نذر ہوگئے،کئی ایک ان میں سے حیات ہیں اور میاں محمد اظہر،جسٹس سید سجاد حسین شاہ سمیت کئی ایک آج اس داستانِ انتقام کو سنانے کے لیے موجود نہیں۔
582-Bکی تلوارکے خاتمے کے باوجودقدرت کی داروگیر کا جب فیصلہ ہواتووزیراعظم سے’’ اسیرِ اعظم‘‘ کا سفرایک جست میں طے ہوا،فوجی بوٹوں کی چاپ نے سارانشۂ غرور وپندار ہرن کردیا،لانڈھی جیل کی ہواکھانی پڑی،جہاں سے سعودی حکم رانوں کی منتیں اور ترلے کرکے ان کی مداخلت سے خلاصی پائی اور قدرت نے ایک اور موقع دیا،ایک لمباموقع،اور وہ بھی دیارِحبیب ﷺ میں بلاکر،کہ اپنے ماضی پر غورکرکے غلطیوں کی تلافی کی کوئی سبیل کرو،پھر امتحان کے طور پر تیسری بار بھی ملک کا سب سے بڑا عہدہ ملا،مگر بھاری مینڈیٹ کا غروراذہن سے اتر سکااور نہ ہی اس مہلت کو ماضی کی تلافی کے لیے آخری موقع سمجھا گیا،بلکہ اب کی بار میاں صاحب نے اپنا قبلہ ہی بدل لیا،وہ میاں صاحب جو کسی دور میں’’ امیر المؤمنین ‘‘کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے…جو مذہبی سوچ کے حامل سمجھے جاتے تھے…جو ملک میں شریعت بل کے نفاذ کے نعرے کو ووٹ اور عوامی حمایت کے لیے استعمال کرتے تھے…جن کو دینی طبقے کی ہم دردیاں اور اعتماد حاصل تھا،انھوں نے اپنا قبلہ یوں چشم زدن میں بدل لیا،کہ ہراس شخص نے حیرت کااظہار کیا،جو ان کے خاندانی پس منظراور سیاسی کیریکٹر کی کچھ بھی معلومات رکھتا تھا۔
ہولی اور دیوالی میں شرکت،ہندوؤں اور قادیانیوں کو اپنا بھائی قرار دینا،علامہ اقبالؒ کی تعطیل ختم کرکے اقلیتوں کے ایام میں عام تعطیل کا فیصلہ،قائداعظم یونی ورسٹی اسلام آباد کے فزکس ڈپارٹمنٹ کا نام ننگِ دین ووطن ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام سے رکھنا،وطن عزیز کا نظام ِتعلیم امریکی این جی اوکے حوالے کرنا،قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کے وعدے کرکے ووٹ لینے کے باوجوددانستہ اس معاملے میں کسی قسم کا کوئی کردار اداکرنے سے عملی طور پر اجتناب کرنا،ملک کو سیکولر ریاست بنانے کے عزائم کا برملا اظہار،سوشل میڈیا پر اعلانیہ توہینِ رسالت کے واقعات کے باوجودگستاخوں کے ساتھ غیراعلانیہ رعایت برتنا،بھارت جیسے ازلی دشمن سے دوستی کی پینگیں بڑھانا،نوبت بایں جارسید کہ… قانونِ توہینِ رسالت تک کے خاتمے کی انکل سام کو یقین دہانیاں کرائی گئیں،کہ بس اقتدار کا دوام چاہیے اس کے لیے آپ ہم سے جو کرانا چاہیں ،فرماں بردار غلام تعمیل حکم کے لیے حاضر ہے۔
اسی فرماں برداری کا شاخسانہ تھا کہ پوری قوم کی شدیدترین مخالفت یہاں تک کہ اپنی جماعت کے اہم ترین راہ نماؤں کی بھی عدم رضامندی کے باوجودغازی ممتاز حسین قادری کو تختہ دار پر لٹکادیا،ویسے اسلام سے وفا کے جرم میں ریاستی جبر وتشدد اور جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والوں کی ایک طویل قطار ہے،جو میاں صاحب کی حس انتقام اور اندھی فرماں برداری کا نشانہ بنے،لیکن ممتاز قادری کو پھانسی پرچڑھاناان کا سب سے بڑا اور گھناؤنا جرم تھا۔میاں صاحب کی وزارت علیا کے دور میں بطورِ گورنر پنجاب سلمان تاثیر انھیں بڑا ٹف ٹائم دے چکے تھے،اس تناظر میںمیاں صاحب کی حس انتقام سے واقف ارباب سیاست کا بھی یہ خیال تھا کہ اپنے بدترین مخالف کے قاتل کو میاں صاحب ریلیف دیں گے،لیکن انکل سام کی وفاداری اس حس انتقام پر بھی غالب آگئی اور ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی،عجیب اتفاق ہے کہ وہ بھی28 تاریخ تھی اور میاں صاحب کی نااہلی کا فیصلہ بھی 28 تاریخ ہی کو ہوا ہے۔
اس سے قطع نظر،کہ کیا آف شور کمپنیاں صرف میاں صاحب اور ان کے بچوں نے بنائی تھیں؟اثاثوں کے بارے میں غلط بیانی کیا صرف شریف خاندان کا جرم ہے؟غلط گوشوارے کیا صرف شریف خاندان نے پیش کیے؟دھری شہریت کیاصرف شریف خاندان اور ان کے ہم نواؤں ہی کا جرم ہے؟اس میں کوئی دورائے نہیں کہ میاں صاحب کو قدرت کا انتقام لے ڈوباہے۔کیا ہمارے سیاست دان ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں گے؟کیا میاں صاحب کی جانشینی کااعزازجن صاحب کے نام کیا جارہا ہے وہ ان غلطیوں سے بچنے اور تلافیِ مافات کی کوئی مخلصانہ کوشش کریں گے؟یا اقتدار کی دیوی کو اپنے اوپر مہربان رکھنے کے لیے انکل سام ہی کی بارگاہ میں جبینِ نیاز ٹیکنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا؟
سیاسی اشرافیہ کو اس حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہییں کہ رب کی پکڑسے کسی بڑی سے بڑی قوت کی پشت پناہی بھی نہیں بچا سکتی،اورانکل سام ہو یا کوئی دوسری عالمی استعماری طاقت،اس کو کسی سے ذاتی ہم دردی ہوتی بھی نہیں،اس کے سامنے اصل اہمیت اس کے اپنے مفادات کی ہوتی ہے،اورمسلم ممالک کے سیاست دانوں کو،خواہ ان کا تعلق اپوزیشن سے ہو یا اصحابِ اقتدار سے،وہ مہروں سے زیادہ اہمیت دینے کو کبھی تیار نہیں ہوئے۔
جے آئی ٹی کی رپورٹیں اور ان کی روشنی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک اچھا آغاز توقرار دیا جاسکتا ہے،لیکن یقینااتنا کافی نہیں۔عوام کے پیسے سے ذاتی جائیدادیں بنانے والا کوئی بھی ہو،وہ اسی انجام کا مستحق ہے جس کا سامناآج میاں صاحب اور ان کے یمین ویسار کو ہے۔جس’ حمام میں سب ننگے‘ ہوں ،اصلاح احوال کے لیے ان سب کی طنابیں کھینچنا ضروری ہوتا ہے۔سندھ اسمبلی نے جوامتناع احتساب بل منظور کیا ہے،کیا ان عوامی نمایندوں سے کوئی سوال کرے گا کہ آپ کواکثریت حاصل ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ چوروں کوآزادی سے کھل کھیلنے کے لیے چوکیداروں پرقدغن لگائیں؟
سراج الحق صاحب!اس اسمبلی میں کوئی صادق وامین نہیں،کیا پاناما کے فیصلے کے بعد بھی آپ کی جدوجہدجاری رہے گی یا آپ بھی سکون کا سانس لے کربیٹھ جائیں گے؟عمران خان کوبھی اس فیصلے کے بعد اپنا جدوجہد کا دائرہ مزید وسیع کرنا چاہیے،ایک سال قبل انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ نواز شریف کے بعد اگلا ہدف زرداری ہوں گے،کیا وہ اپنے اس عزم پر قائم رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ پاناماکے فیصلے پر مطمئن ہوکر بیٹھنے کے بجائے اس معاملے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھی جائیں ا ور اس سلسلے میں عدلیہ،سیاست دان اور صحافی ومیڈیاتمام اسٹیک ہولڈرز اپنا کردار ادا کریں،ورنہ اگر’ کتوں کوآزادچھوڑنے اورپتھروں کو باندھنے ‘کا سلسلہ جاری رہا،توخطرہ ہے کہ کہیںقومی خزانے کی لوٹ مارکا بھیانک کھیل ملک کو کسی بڑی انارکی کی طرف نہ دھکیل دے۔

304total visits,2visits today