پاکستان میں اعلی تعلیمی شعبہ کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار،رپورٹ

نومنتخب وزیراعظم کو تعلیمی نظام اور ایچ ای سی کو درپیش چیلنجز کا سامنا

ایچ ای سی کے 10ممبران کی چار سالہ مدت ختم نئے ممبران کی تقرری عمل میں نہ لائی جاسکی

hec-leaves-loophole-in-us-pakista

کراچی:نو منتخب وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کو اعلی تعلیمی کے شعبہ میں اصلاحات لانے کیلئے کئی چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے آرٹیکل 3کے مطابق وزیراعظم بطور چیف ایگزیکٹیو پاکستان ایچ ای سی کے کنٹرولنگ اتھارٹی ہونگے لہذا بطور کنٹرولنگ اتھارٹی انکو ملک میں اعلی تعلیم کے فروغ کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس وقت اعلی تعلیمی شعبہ اور بالخصوص ایچ ای سی کے حوالے سے کئی اہم مسائل درپیش ہیں۔
ان میں سب سے اہم ایچ ای سی کے اٹھارہ رکنی گورننگ بورڈ کے ممبران کی گزشتہ چار سال سے تقرری نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے اس اہم ادارے میں پالیسی ، مالیاتی اور انتظامی امور کے اہم فیصلے بورڈ کی منظوری کے
بغیر اجتماعی دانش کی بجائے انفرادی سطح پر کئے جارہے ہیں جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سمیت دیگر اسٹیک ہولڈر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں ۔ ایچ ای سی کے آرڈیننس کی شق 5اور6کیمطابق ایچ ای سی کے چیئر مین کی تقرری سمیت دیگر 10ممبران کی تقرری وزیراعظم پاکستان کرتے ہیں لیکن گزشتہ چارسالوں سے ان دس کمیشن ممبران کی چار سالہ مدت ختم ہونے کے باوجود تاحال نئے ممبران کی تقرری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔واضح رہے کہ موجودہ چیئرمین ایچ ای سی کی بھی چار سالہ مدت اپریل 2018 کو ختم ہوجائے گی اور نئے چیئر مین ایچ ای سی کی میرٹ اور شفاف انداز میں مسابقانہ عمل کے ذریعے تقرری وفاقی حکومت کیلئے چیلنج ہوگی ۔دوسرا اہم چیلنج اعلی تعلیمی شعبہ میں اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد نہ ہونا اورچھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا جانا ہے جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی حالیہ جاری کردہ سالانہ رپورٹ کیمطابق پاکستان میں اعلی تعلیمی شعبہ کی کارکردگی تسلی بخش نہ رہی ۔ رپورٹ کیمطابق 2016/17 کیلئے جاری کردہ کیو ایس ہائیر ایجو کیشن درجہ بندی کیمطابق پاکستان اعلی تعلیمی شعبہ میں کا کردگی کے حوالے سے نچلے درجے پر رہا اور ٹائمز ہائیر ایجو کیشن کی درجہ بندی کیمطابق پاکستان کی کوئی بھی جامعہ دنیا بھر 500صف اول کی جامعات میں جگہ بنانے میں ناکام رہی اور اپریل 2010 میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی اٹھارہویں ترمیم اور صو بوں کو تعلیمی شعبہ کی منتقلی کے باوجود اختیارات منتقل نہ ہوسکے ۔
بلو چستان کی یونیورسٹیوں کو وفاقی ہائیر ایجو کیشن کمیشن کے خلاف بہت سی شکا یات تھیں تاہم اٹھارہویں ترمیم کے تحت صو بائی حکو متوں کو اپنے اعلی تعلیمی کمیشن کا قیام عمل میںلانا تھا لیکن چھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود پنجاب اور سندھ نے اپنے ایچ ای سی قائم کردئے ۔ اٹھا رہویں آئینی ترمیم کے تحت متفرق لسٹ کا خاتمہ کرتے ہوئے تعلیم بشمول اعلی تعلیم کو دوبارہ صو بوں کے حوالے کردیا گیا جبکہ اعلی تعلیم میں معیارات اورتحقیق کو وفاقی مقنہ کی لسٹ کے پارٹ دوئم کے تحت وفاق اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ دائرہ اختیار میں دے دیا گیا ہے لیکن سات سال گزرنے کے باوجودان آئینی دفعات پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔اس سلسلے میں پنجاب کی جامعات کے وائس چانسلرز کی تعیناتی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار کے حوالے سے27اپریل 2017 کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سر براہی میں بنچ کی جانب سے 59صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کیمطابق صوبائی حکومتوں کو نہ صرف وائس چا نسلر ز کی تعیناتی کا اختیار دے دیا گیا ہے بلکہ اعلی تعلیمی شعبہ میںصوبے کی ضروریات اور معروضی حالات کیمطابق معیارات تعین کرنیکا اختیار بھی دیا گیا ہے فیصلے کیمطابق عدالت نے اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کرواتے ہوئے وفاقی ایچ ای سی کو آرٹیکل 154کے تحت مشترکہ مفادات کی کونسل کے کنٹرول میں دینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کی کونسل کو احکاما ت جاری کئے ہیںکہ وہ چھ ماہ کے عرصہ کے دوران ایچ ای سی کے طے کردہ تمام معیارات کا جائزہ لے اور قانونی طور پر وہی معیارات قابل عمل ہونگے جنکی منظوری مشترکہ مفادات کی کونسل دیگی ،فیصلے کیمطابق وفاقی ایچ ای سی کا ایکٹ آئینی طور پرمشترکہ مفادات کی کونسل کے تابع ہے اور اعلی تعلیمی شعبہ میں ہر طرح کے معیار اور گائیڈ لائن کیلئے مشترکہ مفادات کی کونسل کی منظوری ضروری ہے ۔فیصلے میں کینیڈا ، جنوبی افریقہ اور ہندو ستان کے وفاقی طرز حکومت اور عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام طرز حکومت میں مرکزی حکومتیں اور صوبائی حکومتیں مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں ۔فیصلے کیمطابق تعلیم کا شعبہ پاکستان میں صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیا ر میں رہا ہے اور اس حوالے معیارات اور پالیسی کے تعین کرنے میں آئینی اور قانونی طور پر صوبے بااختیار ہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی طرز حکومت صوبوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص حالات عوام الناس کے مفادات کومد نظر رکھتے ہوئے مخصوص پالیسیاں مرتب کرسکتی ہیں،آئین پاکستان کے آرٹیکل 142(c)کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کسی بھی معاملے پہ قانون سازی کرسکتی ہیں جنکا تعلق وفاقی
مقنہ کی فہرست سے نہ ہو۔ اس اہم آئینی فیصلے پر عملدرآمد کروانا بھی نئے وزیر اعظم کیلئے چیلنج ہوگا۔

85total visits,1visits today