نواز شریف کی لاہور واپسی: گوجرانوالہ میں پڑاؤ

kam

nazirjkj
سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت عظمیٰ کی جانب سے نااہل ہونے کے بعد ریلی کی صورت میں لاہور جا رہے ہیں۔ گجرات اور جہلم میں اپنے خطاب میں انھوں نے عدالتی فیصلے پر شدید تنقید کی۔
بدھ کی صبح پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کے بعد نواز شریف راولپنڈی کے جی ٹی روڈ سے جہلم پھر گجرات اور اب گوجرانوالہ میں موجود ہیں۔
مبصرین کے مطابق میاں نواز شریف کے استقبالی جلسے میں گجرات اور گوجرانوالہ میں ن لیگ کے حامیوں کی خاصی تعداد موجود تھی۔
جمعے کو گجرات اور گوجرانوالہ دونوں شہروں میں نواز شریف نے مختصر خطاب کیا۔
ان کے خطاب کا اہم نکتہ پاناما کیس کا فیصلہ ہی تھا جس پر انھوں نے ایک بار پھر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے خلاف ساڑھے تین سال سے سازشیں ہو رہی ہیں اور آج انھیں وزارت عظمی سے بڑی رسوائی سے نکالا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے’ پاکستان سے کونسی عذاری کی، کوئی کرپشن ثابت تو کرو۔ نواز شریف کو کیوں نکالا گیا۔‘
سابق وزیراعظم نے گوجرانوالہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ جب ججوں کی بحالی کے لیے وہ لانگ مارچ کر رہے تھے تو جب لاہور سے گوجرانوالہ پہنچے تو اطلاع ملی تھی کہ ججوں کو بحال کر دیا گیا ہے۔
جمعے کی سہ پہر مسلم لیگ ن کے جلسے میں نواز شریف کے خطاب سے کچھ ہی دیر پہلے ایک حادثے میں 14 سالہ لڑکے کی ہلاکت ہو گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق بچے کی ہلاکت سابق وزیراعظم کے پروٹوکول میں موجود ایک گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں ہوئی تاہم صوبائی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ جس گاڑی سے بچہ ٹکرایا وہ پروٹوکول کی گاڑی نہیں تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سابق وزیراعظم نے گوجرانوالہ میں اپنے مختصر خطاب کے اختتام پر کہا کہ وہ ہلاک ہونے والے کارکن کے گھر جائیں گے اور ان کے اہلِ خانہ کی جس قدر ہو سکا مدد کریں گے۔
ہلاک ہونے والے حامد کے اہلخانہ کی جانب سے میڈیا کو ان کی کچھ تصاویر دی گئی ہیں۔ حامد چھٹی جماعت کے طالبعلم تھے
اپنے خطاب میں نواز شریف نے اپنے تینوں ادوار حکومت کے خاتمے کا حوالہ دیا اور کہا ’ایک بار مجھے صدر نے ایک بار پرویز مشرف نے اور اب عدلیہ نے عہدے سے ہٹایا ہے۔ ‘
انھوں نے جلسے کے شرکا سے سوال کیا کہ کیا وہ نواز شریف کا ساتھ دیں گے؟‘
یاد رہے کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل کر دیا تھا۔ ان کی خالی ہونے والی نشست حلقہ این اے 120 میں اب ان کی اہلیہ کلثوم نواز نے ضمنی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔
ادھر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے 16 اگست کو لاہور کے مال روڈ پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔
جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب میں 2014 میں ماڈل ٹاؤن میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین مال روڈ پر دھرنا دینا چاہتے ہیں اس لیے وہ ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جائیں گے۔

184total visits,1visits today

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *