بھارتی دینی مدارس میں15اگست کو وندے ماترم کا ترانہ لازمی قرار

bbc
بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سمیت ملک کی بعض ہندوتوا نواز حکومتوں نے یہ حکم جاری کیا ہے کہ 15 اگست کو یوم آزادی کے موقعے پر ریاست کے سبھی مدرسے اپنے طلبہ کے ساتھ قومی ترانہ گانے اور پرچم کشائی کا اہتمام کریں اور ثبوت کے طور پر اس تقریب کی ایک ویڈیو مقامی انتظامیہ کو دیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یوم آزادی کو عمومآ ملک کے سبھی سکول بند ہوتے ہیں۔ تو پھر صرف مدرسوں کو قومی ترانے گانے اور پرچم کشائی کی تقریب منعقد کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟
سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر جو بحث چھڑی ہوئی ہے اس کے مطابق حکمراں بی جے پی اور اس کی ہمنوا ہندتوا تنظیمیں مسلمانوں اور ان کے مدرسوں کے بارے میں یہ تصور رکھتی ہیں کہ وہ ملک کے وفادار نہیں ہیں اور وہ اپنے بچوں میں حب الوطنی کے جذبات نہیں پیدا ہونے دیتے۔
کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملک کے ہندوؤں کی غالب اکثریت اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ ملک کے مسلمان قومی گیت وندے ماترم اس لیے نہیں گاتے کیونکہ وہ ملک سے محبت نہیں کرتے اور چونکہ ان کا مذہب غیر ملک سے آیا ہے اس لیے ان کی وفاداریاں ملک کے باہر سے وابستہ ہیں اور مشکوک ہیں۔ مسلمان طرح طرح کےعمل اور دلیلیوں سے اپنی غیر مشروط وفاداریوں کی یقینی دہانی کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
حب الوطنی، وندے ماترم اور وفاداریوں کی اس بحث میں ایک طرف ہندتوا کے نظریات کی تنظیمیں ہیں اور دوسری جانب مسلمان علما اور ان سے سیاسی وابستگی رکھنے والے مسلم سیاسی رہنما۔ اس پوری بحث اور ٹکراؤ کا محور اور مقصد سیاسی ہے اور دونوں کی اس کشمکش میں پھنسے ہوئے ہیں کروڑوں مسلمان جو اپنی روزی روٹی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور جنھیں اس بحث سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ صرف ہندو نواز حب الوطنی اور مذہب کے علم برداروں کی سیاست کی بساط کا مہرہ ہیں۔
قومی ترانہ جن گن من کے ساتھ وندے ماترم کو ملک کے قومی گیت کے طور پر تسلیم کیے جانے کے ساتھ ہی اس کے بارے میں تنازع پیدا ہو گیا تھا۔
مسلم علما کا کہنا تھا کہ چونکہ اس گیت میں ملک کے پہاڑوں دریاؤں اور زمین کے آگے سر جھکانے کی بات کہی گئی ہے اس لیے مسلمان یہ گیت نہیں گا سکتے کیونکہ وہ صرف خدا کے آگے سر جھکا سکتے ہیں۔
کافی بحث ومباحثے کے بعد علما نے یہ طے کیا کہ مسلمان وندے ماترم کے ابتدائی دو بند گا سکتے ہیں۔ تقریبات میں دراصل یہی دو بند گائے جاتے ہیں۔ یہ گیت تحریک آزادی کے ابتدائی دنوں میں لکھا گیا تھا اور آزادی کی تحریک میں اس کا اہم کردار تھا۔ قومی ترانہ جن گن من کے برعکس یہ قومی گیت بیشتر لوگوں کو یاد نہیں ہے اور اسے بہت کم گایا جاتا ہے۔ لیکن علما کی مخالفت اور طرح طرح کے فتووں کے باعث یہ گیت پچھلے کچھ برسوں میں تیزی سے مقبول ہوا ہے. بشکریہ بی بی سی اردو

877total visits,1visits today