سندھ میں ایک ہزار دینی مدارس غیر قانونی قرار

محکمہ داخلہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے مدارس کی تحقیقات کرے گا

(RNS1-dec22) The students of Institute of Islamic Sciences study during a library class. For use with RNS-PAKISTAN-MADRASSA, transmitted on December 22, 2014, Religion News Service photo by Naveed Ahmad.

اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ گذشتہ چار سالوں میں تھر پارکر میں 60 مدارس قائم کیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے آبادی کی اکثریت ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ داخلہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے مدارس کی تحقیقات کرے گا۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں نئے ناموں کے ساتھ کام کرنے والی کالعدم تنظیموں پر بھی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں، پولیس اور رینجرز اس حوالے سے ضروری کارروائی کریں۔
ایپکس کمیٹی کے 20 ویں اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال، کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید دیگر نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ مقدمات کی جانچ پڑتال اور جائزہ لینے کے بعد ضروری کاغذات کے ساتھ انھیں فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت 90 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیج چکی ہے، جس میں سے 37 زیر سماعت ہیں جبکہ 21 مقدمات میں سز ا ہو چکی ہے

308total visits,3visits today

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *