images 1

پنجاب حکومت کی دینی مدارس، علماء اور مشائخ کے ساتھ زیادتیاں

مولانا زبیر احمد صدیقی
ناظم وفاق المدارس پنجاب
………………………………………..images
ملک بھر میں عموماََ اور پنجاب میں خصوصاََ چند سالوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی قلعے، ملک وملت کے معمار تعلیم و رفاہ کے علمبردارادارے دینی مدارس و جامعات اور ان سے وابستہ ہزاروں قابل قدر علماء کرام و مشائخ عظام کے ساتھ ناروا سلوک کانہ صرف سلسلہ جاری ہے بلکہ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ مدارس کے خلاف میڈیا پروپیگنڈہ سے شروع ہونے والے اقدامات، رجسٹریشن کی بندش ، مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھلوانے پر غیر اعلانیہ پا بندی، سرچ آپریشن کے نام پر پولیس یلغار،بے قصور علماء مشائخ کو فورتھ شیڈول کرنے ، قربانی کی کھالوں کے حصول پر پابندی،بیسیوں علماء وطلباء کی جبری گمشدگی اور مجوزہ چیئریٹی بل تک جا پہنچے ہیں۔ علاوہ ازیں مساجد سے آذان وعربی خطبہ کے لیئے استعمال ہونے والے ایک سے زائد بیرونی لاؤڈ اسپیکر پر پابندی ،ایمپلی فائر ایکٹ میں سزاؤں کا اضافہ اور ہزاروں خطباء و علماء پر جھوٹے مقدمات ، دینی اجتماعات پر اعلانیہ و غیر اعلانیہ پابندی جیسے غیرمذہبی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی اقدامات بھی جاری ہیں ۔ یہ سب کچھ صرف پنجاب اور عملاََ صرف ایک مسلک یعنی اہل السنت والجماعت حنفی دیوبندی کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے اگر چہ ضمناََ دیگر مسالک بھی ان اقدامات کی زد میں ہیں ۔ ایک مسلک کو ٹارگٹ کرکے باقی مسالک کو دباؤ میں رکھا جارہا ہے ۔ یوں ملک میں اکثریتی صوبہ پنجاب میں علما ء مشائخ پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔ ان ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے مذہبی طبقات میں نہ صرف مسلم لیگ نواز کی حکومت سے نفرت پیدا ہوگئی ہے بلکہ پنجاب و مرکز کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے مسلم لیگی حکمرانوں کو بد دعائیں دی
جا رہی ہیں۔ بد دعائیں دینے والوں میں مساجد کے نمازی ، مشائخ کے مریدین اور لاکھوں طلباء دین بھی شامل ہیں ۔
پنجاب کے حکمرانوں کو ان ظالمانہ اقدامات سے باز رکھنے کے لیئے علماء کرام نے متعدد کوششیں کیں اور انہیں سمجھایا، حکمرانوں نے اپنی پالیسیاں درست کرنے کے وعدے کے باوجود عملاََ خلاف ورزی کی۔
مورخہ 16اگست 2017کو اس سلسلہ میں اتحاد تنظیمات مدارس کے قائدین اور جمعیت علماء اسلام کے راہنماؤں نے ایک میٹنگ زیر قیادت مولانا محمد حنیف جالندھری دامت برکاتھم ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان پنجاب کے اعلیٰ افسران بشمول چیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری، آئی جی پنجاب، مختلف انٹیلی جینس اداروں کے ذمہ داران اور متعدد محکموں کے سکیٹریز سے کی ، ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں علماء مشائخ اور دینی مدارس کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر احتجاج کیا گیا، جبکہ دوسرا اجلاس مذکورہ قائدین کا قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتھم کی قیادت میں وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف اور دیگر حکومتی اہلکاروں کے ساتھ ہوا ان راہنماؤں میں مولانا محمد حنیف جالندھر ی، مولانا غلام محمد سیالوی، مولانایاسین ظفر، حافظ ریاض حسین نجفی، مولانا امجد خان، مولاناپیر عزیزالرحمٰن ہزاروی،مولاناعبدالمصطفیٰ ازہری، مولانا ارشاد احمد ، مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمٰن اور رقم الحروف زبیر احمد صدیقی شامل ہوئے۔
دونوں اجلاسوں میں یقین دہانی کرائی گئی کہ:۔۔۔
1)۔۔۔
گزشتہ دوسالوں میں مدارس پر قربانی کی کھالوں کے حصول کی بندش صوبائی حکومت کے احکامات نہ تھے بلکہ ڈی سی صاحبان نے مدارس کو اجازت نہ دی جو سراسر زیادتی ہے، امسال اس زیادتی کا ازالہ کیا جائے گا ، نہ صرف مدارس کو حصول چرم قربانی کی اجازت دی جائے گی بلکہ جن مدارس کے خلاف شکایت ہوگی انہیں صفائی کا موقع بھی دیا جائے گا، وہ ڈپٹی کمشنر کے پاس نظر ثانی اور کمشنر کے پاس اپیل کا حق رکھیں گے، اور یہ سارا عمل عشرہ ذی الحجہ کے اوائل میں مکمل ہوگا، مذکورہ بالاوعدوں کی نہ صرف خلاف ورزی ہوئی بلکہ دھجیاں بکھیری گئیں، اگر چہ چند اضلاع میں بر وقت اجازتیں دے دی گئیں لیکن بہت سے مدارس کو بے بنیاد الزامات کی وجہ سے کھالیں جمع کرنے سے روک دیا گیا، جبکہ پنجاب کے اکثر اضلاع میں معاملات کوچھٹیاں ہونے تک معلق رکھا گیا اور آخری ورکنگ ڈے میں بہت سے مدارس کو کھالیں جمع کرنے سے روک کر نہ تو انہیں اپیل کا حق دیا گیا نہ نظر ثانی کا ، نتیجتاً سینکڑوں مدارس کا ذریعہ آمدنی محدود ہوکر رہ گیا۔
چناچہ بہت سے مرکزی مدارس و جامعات جن میں ہزاروں طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں انہیں اس حق سے محروم کردیا گیا، جن مرکزی مدارس کو اجازت نہیں ملی اور اعلیٰ تعلیمی فرائض سرانجام دے رہے ہیں ان میں سے چند کے نام در ج ذیل ہیں۔
۱۔جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ ۲ جامعہ اشرف العلوم گوجرانوالہ ۳۔ دارالعلوم عید گاہ کبیر والہ خانیوال
۴۔ جامعہ مدینہ بہاول پور ۵۔دارالعلوم رحیمہ ملتان ۶۔ جامعہ اشرفیہ مان کوٹ خانیوال
۷۔جامعہ عبداللہ بن عباس کچا کھوہ خانیوال
علاہ ازیں خانیوال کے 180مدارس
۸۔ جامع العلوم عید گاہ بہاول نگر ۹۔ جامعہ صادقیہ عباسیہ منچن آباد بہاول نگر ۱۰۔ جامعہ محمودیہ جشتیاں
علاوہ ازیں بہاول نگرکے 129مدارس
۱۱۔ جامعہ حسینہ دینیہ ضلع جہلم ۱۲۔ جامعہ علوم شرعیہ ساہیوال ۱۳۔ جامعہ حفصہ للبنات چیچہ وطنی ۱۴۔جامعۃالسراج چیچہ وطنی ساہیوال ۱۵۔ جامعہ شیخ زکریا چیچہ وطنی ساہیوال ۱۶۔ جامعہ قاسمیہ شرف الاسلام مظفر گڑھ ۱۷۔ جامعہ مظاہر العلوم کوٹ ادومظفر گڑھ ۱۸۔ جامعہ کنز العلوم قصبہ ضلع مظفر گڑھ ۱۹۔ جامعہ محمدیہ تونسہ ڈیرہ غازی خان علاوہ ازیں ڈیرہ غازی خان کے 150سے زائد مدارس۔
۲۰۔ جامعہ دارالھدیٰ میانوالی
علاوہ ازیں ضلع میانوالی کے اکثر مدارس۔
ضلع ڈیرہ غازی خان ، ضلع ناروال ، ضلع پسرور ضلع بہاول نگر وغیرہ میں اکثر مدارس کو اجازت نہیں دی گئی۔
اس بنیاد پر بعض علاقوں میں بہانہ سازی کرتے ہوئے بغیر اجازت کھالیں جمع کرنے پر مقدمات قائم کرکے علماء کو گرفتاربھی کیا گیا۔عید سے قبل حکمرانوں سے بار بار رابطہ کرکے انہیں انکا وعدہ بھی یاد دلایا گیا اس سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری زید مجدھم مسلسل افسرانِ بالا سے رابطے میں رہے احقر بھی ان ایام میں ہر ضلع سے پل پل کی خبریں لیتا رہا اور اکابرین تک پہنچاتا رہا، قائد جمیعت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم نے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کو فون فرمایا اور ذمہ داران سے مسلسل رابطے کرتے رہے ، عید سے ایک روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب نے پابندی کی زد میں آنے والے مدارس کی فہرست بھی طلب کی یہ فہرست بھی
انہیں ارسال کردی گئی لیکن کسی قسم کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

2)۔۔۔ فورتھ شیڈول
پنجاب میں سینکڑوں علماء و مشائخ کو فورتھ شیڈول کرکے ان کے شناختی کارڈ منسوخ، بینک اکاؤنٹس منجمد، درس وتدریس، وعظ و ارشاد ، امامت و خطابت اور ہر قسم کی نجی ، سرکاری ملازمتوں سے محروم کردیا گیا، یہ سینکڑوں لوگ ملک میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ، شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے شہری حقوق معطل ہیں، انکے بارے میں یقین دہانی کرائی گئی کہ اس سلسلے میں پہلے سے قائم کمیٹی کو فعال کر کے عید سے قبل اس کا اجلاس بلایا جائے گا اوربے قصور علماء مشائخ کو فارغ کیا جائیگا، لیکن تا حال اس سلسلہ میں کوئی کاروائی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی اجلاس بلایا گیا۔
میاں شہباز شریف کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمٰن نے اس قانون کو انسانیت سوز اور ذلت آمیز قرار دیکر اسکے خاتمے کا مطالبہ کیا جبکہ علماء کرام نے نقطہ اٹھایا کہ آج تک کسی سیاستدان ،ٹی وی اینکر ،وکیل یا کسی دیگر طبقہ کو فورتھ شیڈول کیوں نہیں کیا گیا؟

3)۔۔۔ مجوزہ چئیریٹی بل
شنید ہے کہ حکومت پنجاب کی کابینہ چئیر یٹی بل کی منظوری دے چکی ہے اور اسے اسمبلی سے منظور کرانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، اس بل کی منظوری کے بعد نہ ہی کوئی شخص بلا اجازتِ حکومت زکوٰۃ دے سکے گا اورنہ ہی لے سکے گا، علماء و مشائخ اس بل کو دینی
مدارس بند کرنیکی ایک سازش سمجھتے ہیں، یہ بل واپس لیا جائے!
اجلاس میں یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ بل علماء کودیا جارہاہے علماء اپنے تحفظات پیش کریں جن کا ازالہ کیاجائیگا، لیکن تاہنوز یہ بل علماء کرام کو نہیں دیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ حکومتِ پنجاب مدار س کے خلاف اقدام کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اسے ہرصورت منظور کرانا چاہتی ہے۔

4)۔۔۔
علاوہ ازیں مدارس کی رجسٹریشن ، لاپتہ حضرات اورمدارس پر چھاپوں کے سلسلہ میں بھی مدارس کی مشکلات کے ازالہ کامطالبہ کیا گیا جس کے جواب میں حکومتی تسلیاں بظاہر طفل تسلیاں ہی لگتی ہیں۔ شاید علماء کرام کوبزور بازو اپنے حقوق حاصل کرنے
پڑیں پنجاب کے حکمران دلیل کی زبان کے بجائے دھرنے اور احتجاج کی زبان سمجھتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں