_97718741_protester 10

روہنگیا کے انجام سے کشمیری خوفزدہ کیوں؟

_97718741_protester
مسلمانوں کے حق میں جمعے کو وادی اور جموں کی مساجد میں خصوصی دعائیہ مجالس کا اہتمام کیا گیا
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آئے روز ہونے والے تصادم، مسلح حملوں، ہلاکتوں، مظاہروں اور گرفتاریوں کے باعث کشمیر فی الوقت کشیدہ ہے لیکن اس سب کے بیچ وہاں کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے مظالم کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔
تاجروں، سول سوسائٹی کے اراکین اور علیحدگی پسندوں نے وادی اور جموں میں احتجاجی مہم شروع کی ہے۔ اس حوالے سے جموں اور کشمیر کے مختلف قصبوں میں جمعے کو بھی ہڑتال اور مظاہرے کیے گئے۔
علیحدگی پسند رہنماوں کی کال پر لوگوں نے وادی میں جگہ جگہ کتبے اٹھا کر مارچ کیا اور آنگ سان سوچی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔مظاہرین نے اقوامِ متحدہ سے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا نوٹس لینے اور برمی حکمرانوں کا مواخذہ کرنے کی اپیل کی۔
عدم تشدد کے قائل گاندھی کے انڈیا میں مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں: محمد یوسف چاپری
مظاہرے میں شریک تاجر انجمن کشمیر اکنامک الائنس کے رہنما محمد یوسف چاپری نے بتایا کہ’عجیب بات ہے کہ عدم تشدد کے قائل گاندھی کے انڈیا میں مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور مہاتما بدھ جیسے انسان دوست رہنما کے پیرو کار میانمار میں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ آج مہاتما بدھ کی روح کانپ رہی ہوگی۔’
سرکاری ملازمین کی انجمن ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما اعجاز خان نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ برمی حکمرانوں کے خلاف جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سزا کا اعلان کرے۔
ایسے وقت جب کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں، وادی کے لوگ روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر اس قدر منظم کیوں ہوئے؟ مورخ اور تجزیہ نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ کشمیریوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان کئی پہلوں سے مماثلت پائی جاتی ہے۔
اب کشمیریوں کو بھی لگتا ہے کہ ان کا انجام بھی روہنگیا جیسا ہوسکتا ہے: مورخ اور تجزیہ نگار پی جی رسول
ان کا کہنا ہے ‘رخائن اور جموں کشمیر دونوں کی جدید تاریخ برٹش راج سے شروع ہوتی ہے۔ دونوں مسلم اکثریتی صوبے تھے۔ برما اور ہندوستان سے برطانوی اقتدار کے خاتمے پر رخائن نے مشرقیِ پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش ظاہر کی جبکہ کشمیریوں کے مغربی پاکستان کے ساتھ لیکن دونوں کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ’رخائن میں بھی مسلمانوں کا قتلِ عام ہوا اور جموں کشمیر میں بھی۔ وہاں بھی مسلم اکثریتی حیثیت کو بدلنے کی کوششیں سالہا سال سے ہو رہی ہیں اور انڈین آئین میں موجود شہریت کے تحفظ کی شقوں کو ایک ایک کرکے ختم کیا جا رہا ہے۔ اب کشمیریوں کو بھی لگتا ہے کہ ان کا انجام بھی روہنگیا جیسا ہو سکتا ہے۔ انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ ان مظاہروں کے پیچھے خوف کا احساس بھی ایک اہم محرک ہے۔’
روہنگیا مسلمانوں کے حق میں جمعے کو وادی اور جموں کی مساجد میں خصوصی دعائیہ مجالس کا اہتمام کیا گیا۔
کئی اضلاع میں طلبہ اور سماج کے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ سرینگر کی جامع مسجد والے علاقے میں ایک نقاب پوش احتجاجی نے کہا ‘ہم ان حکمرانوں کے خلاف بھی ہیں جو اپنے ممالک کو اسلامی ملک کہتے ہیں لیکن گاجر مولی طرح کاٹے جا رہے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں۔’

بشکریہ بی بی سی اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں