اعتدال اور مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی مظاہری
syed-abul-hassan-ali-nadvi1
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی 31 دسمبر 1999کو اپنا کام پورا کر کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور اپنی تحریروں اور تقریروں کی روشنی میں ہمارے لئے ایک راہ متعین فرما گئے۔ اور زندگی گزارنے کا ایک ایسا طریقہ بتا گئے جس پر چل کر کامیابی سے ہمکنار ہو ا جا سکتا ہے۔ آپ نے ہندوستان اور ہندوستان کے علاو ہ دوسرے مشرقی و مغر بی ممالک میں دین کاکام کرنے کے لئے ایسی راہ اپنائی جو اعتدال و توازن کی راہ تھی اور ایسا منہج اختیار کیا جس میں نزاع اور اختلاف کی کم سے کم گنجائش تھی، آپ نے حاکموں سے بھی تعلق رکھا ،لیکن ان کی کرسی تک پہنچنے کے لئے نہیں بلکہ ان کرسی نشینوں کے دلوں میں ایمان کی تخم ریزی کر نے کے لئے اور اپنے زہد واستغنا اور بے نیازی سے ہمیشہ یہ ثابت کیا کہ آپ بڑے ہیں اور وہ چھوٹے، آپ دینے والے ہیں اور وہ لینے والے، ان کا بھلا تو آپ سے ہو سکتا ہے لیکن آپ کاان سے کوئی بھلا ہونے والا نہیں، یہی وجہ تھی کہ حکمران کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور جو احترام آپ کو وہاں حاصل تھا اور جس عقیدت و محبت کا معاملہ آپ کے ساتھ وہاں کیا جاتا تھا۔ وہ کسی بھی عالم کے حصہ میں نہیں آیا۔ فن حدیث میں ہندوستانی علماء کی کتابیں عالم عرب میں ضرور پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں لیکن امر اء و حکام اور عوام کی سطح پر ان کو وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جو حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کو اپنی جامعیت، اپنے اعتدال، اپنی حکمت اور اپنی بے نیازی کی بدولت حاصل ہوا۔
حضرت مولانا نے دنیا کے سامنے اعتدال کی راہ پیش کی اور اس کی راہ کی افادیت کا سب نے اعتراف کیا۔ اپنوں نے بھی اور غیروں نے بھی، ایک ملاقات کے دوران خود مجھ سے شیخ الازہر شیخ عبدالحلیم محمود نے کہا کہ ”شیخ ابو الحسن حسنی ندوی کی طرح اس دور میں کسی نے بھی اعتدال کی راہ نہیں پیش کی“ آپ کی تحریریں اور تقریریں، عبادات و معاملات، اذکار و اور اد، آہ سحر گاہی اور نالہ نیم شبی کسی بھی چیز پر نظر ڈالی جائے تو اعتدال کی چھاپ ہر جگہ نظر آئے گی۔ حضرت مولانا کی تصانیف نے عرب دنیا پرجتنا گہر اثر ڈالا ہے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ آپ نے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر کام کے بڑے وسیع اور متنوع میدان چھوڑے ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ کے بتائے ہوئے بلکہ چل کر دکھائے ہوئے راستے کو اپنایا جائے اور آپ کے چھوڑے ہوئے کاموں کو آگے بڑھایا جائے۔آپ جن اشخاص پر جو ذمہ داریاں ڈال گئے ہیں اور جن حضرات کو جن کاموں پر مامور کر گئے ہیں اس میں نہ اختلاف کی گنجائش ہے اور نہ ترمیم کی۔ ہم کو چاہیے کہ انہی حضرات سے وابستہ رہ کر کام کریں۔ الگ ہو کر نہیں، بڑے بن کر نہیں ہم کو خادم بن کر کام کرنا، معاون بن کر رہنا، اور مددگار بن کر جینا ہے۔
اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس کی برکت کے اثرات ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور اس کا فائدہ کھلے طور پر اپنی زندگی میں محسوس کریں گے اس وقت ملک کو اور ملت کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو توڑنے پر نہیں جوڑنے پر یقین رکھتے ہوں، جذبات سے نہیں حکمت سے کام لیتے ہوں، افراط و تفریط کا شکار نہیں اعتدال و توازن کی راہ پر چلنے والے ہوں، حضرت مولانا کی زندگی میں یہیں تین وصف سب سے نمایاں تھے۔ ان ہی تین وصفوں کو اپنانے کی اس وقت سخت ضرورت ہے

107total visits,3visits today

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *