برما لہولہو ۔۔۔۔۔خون مسلم ارزاں

تحریر: زاہدعلی برکی
1234
رنگون جسے 1996 تک برما اور اب میانمار کہا جاتا ہے۔ برما 1824 سے 1886 تک انگریزوں کے ساتھ تین جنگیں لڑنے کے بعد 1886 کو انگریزوں کے زیر تسلط آیا ۔ تاریخ کے کتب میں برما کے کالا پانی کا تذکرہ مشہور ہے اس زندان نے آخری مغل حکمران بہادر شاہ سے لیکر مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا محمود الحسن سمیت بڑے بڑے شخصیات کو پابند سلاسل دیکھا۔اس زندان کے درودیوارانگریزوں کے مظالم کے عینی شاہد ہے فاقہ مستوں نے ستم گروں کے تیرو تفنگ کے آگے اپنے سینے پیش کیے اس زندان نے بڑے بڑے شخصیات کے عنفوان شباب کو کہولت،کہولت کو شیخوخت میں بدلتے دیکھا۔۔۔
مگر سوز یقین اور جذبہ سے سرشاریہ قلندرحالات کے قدموں میں نہیں گرے۔ طوطی چشمی کا ثبوت دیتے ہو ئے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے بہتے دریا کے ساتھ نہیں بہے،
مرغان بادغا اور ہوا خواں سننے کے بجائے انہوں نے اپنوں کی بے اعتنائی سہی،بیگانوں کی مخاصمت برداشت کی معاشرے کی کج ادائی کا مشاہدہ کیا مگر ان کٹھن منزلوں، حالات کے جبر مسلسل اور اذیت پیہم اوقات میں انہوں نے دامن دل سے فانوس ایمان کو روشن رکھا ان کے سر وقت کے نماردہ اور فراغنہ کے درباروں میں کٹے تو سہی مگر جھکے ہرگز نہیں اور دنیا نے دیکھا کہ آخر کار دنیا مانند غلام ان کے پیچھے چلنے پر مجبور ہوئی بقول شاعر
صبح چلتے ہیں شام چلتے ہیں
عشق والے مدام چلتے ہیں
ساتھ چلتی ہے ان کے یوں دنیا
جیسے پیچھے غلام چلتے ہیں
1948 میں برما کو آزادی ملی مگر1962 میں ڈکٹیٹر نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا ۔ زمانہ مارشل لامیں جہاں برما میں مقیم دیگر مذاہب کے لوگوں پر سختی برتی گئی تو وہاں مسلمان جو کہ برما میں صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں خصوصی طور پر ان کا تختہ مشق بنے رہے۔
دور آمریت کا زمانہ 2010 کو ختم ہوا جب عام انتخابات میں نوبل انعام یافتہ “انگ سوچی “کو کامیابی ملی تو امید تھی کہ صوبہ ارکان کے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے دکھ درد ختم ہو جایئنگے مگر یہاں جمہوریت روہنگیا مسلمانوں کے باب میں آمریت کے برابر رہی۔ حالیہ فسادات کی لہر جب شروع ہوئی تب سے آفتاب افق جب سرزمیں برما پر طلوع ہوتا ہے تو اس کے لیے روز ایک نیا نظارہ ہوتا ہے وہ خون دیکھتا ہے جو روز مثل اب بہتا ہے،وہ روز تڑپتی لاشیں دیکھتا ہے جوتڑپ تڑپ کر ٹھنڈی ہو جاتی ہے وہ ظلم،بربریت اور وحشت کے قہقہوں کا شور سنتا ہے ،وہ مظلوموں کی آہ و بکاسنتا ہے ،وہ خون کے فواروں کا جوش و خروش دیکھتا ہے کہ برما لہو لہو ہے اور مثلِ اب خون مسلمان آرزاں ہے۔
امید تھی کہ بدھ مت کی اس دہشتگردی ،امن گردی اور انسان گردی پر خود کو دنیائے امن کا علمبردار کہنے والا اقوام متحدہ بچوں کے سینے گولیوں سے چھلنی دیکھ کر ،زندہ انسانوں کو آگ پر روسٹ بنتے دیکھ کر،آباد شہروں کو خاک و خون میں نہتا دیکھ کر،ان کے مردہ ضمیر جاگ جائے ،ان کے سینے سے آہ نکلے ۔۔۔۔۔۔ان کے آنکھوں میں آنسو ڈبڈبائیں۔۔۔۔افسوس کا ایک کلمہ ان کے لبوں سے نکلے۔۔۔۔۔ان کے قلب رقیق ان سے متاثر ہو مگر خاموشی ،خاموشی اور محض خاموشی کا سماں چند مذمتی بیانات پر ختم ہوا ۔غیروں کا کیا گلہ کروں اپنوں نے بھی بیگانوں کا رویہ رکھا اور مملکت پاکستان کی ساری کاروائی محض چند بیانات تک محدود رہی ۔سندھ میں تین ہندو عورتوں کے مسلمان ہونے پر باولہ بننے والا ، ملالہ کو آسمان پہ چڑھانے والا اور سیاسی جلسوں کی سولہ سولہ گھنٹے کوریج کرنے والا پاکستانی میڈیا بھی “لن اکلم الیوم انسیا” کا تصویر بنا رہا۔برما سے جلاوطن کیے جانے والے ۔بنگلہ دیش سے دھتکارے جانے والے اور دنیا کے کسی سطح زمین پر زندگی کے حق سے محروم مظلوم روہنگیا کے مسلمان آج بھی مسلمان کے منتظر ہے ۔۔۔۔۔مگر کیا کوئی مسلمان زندہ ہے؟کیا کسی ابن قاسم کے شجاعت کے علم کھل سکتے ہیں کیا کوئی حجاج جیسا غیرت مندہے؟کیا عموریہ کا متعصب اب بھی کوئی ہے؟کیا اندلس کا طارق آج بھی زندہ ہے؟کیا میسور کا ٹیپوسلطان مرا نہیں ہے تاریخ ان سوالات کے جوابات بہت جلد دیگی۔
اللہ پاک برما کے بے یارومددگار مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور دہشت کے علامت بدھ مت کو نمونہ عبرت بنادے (آمین)

69total visits,1visits today