افضل ہے کل جہاں سے گھرانہ حسینؓ کا

قاضی محمداسرائیل گڑنگی
nazir-nasir
ان کا ذکرِخیرکیاجارہاہے جن کانام خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ان کا ذکر خیر کیا جارہاہے جن کے کان میں خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آذان دی ،ان کاذکرِخیرکیاجارہاہے جن کودیکھنے خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمان کے گھر تشریف لایاکرتے تھے،ان کا ذکرِخیرکیاجارہاہے جن کے رونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوجایاکرتے تھے۔ان کاذکرِخیرکیاجارہاہے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناپھول کہاہے۔ ان کا ذکرخیرکیاجارہاہے جن کا جسم مبارک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے مشابہ تھا۔وہ جن کا مبارک نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان پر آیااورباربارآیااورپیار سے فرماتے حسین رضی اللہ عنہ)ان کے بڑے نازہیں ان کے نانانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کی نانی حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ ہیں۔ان کی خالائیں حضرت زینب،حضرت رقیہ ،حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنھن ہیں۔ان کی والدہ محترمہ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھااوروالد محترم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔یہ نواسہ رسول ہیں۔جگر گوشۂ بتول امت کے بے مثال پھول ہماری آنکھوں کے نور اوردل کا سرور ہیں ان سے محبت ہماراایمان ہے۔ہم اسی پہ جیناچاہتے ہیں اوراسی پہ موت کے طلب گار ہیں اس موقع پر حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب ؒ مہتمم دارالعلوم دیوبندکی ایک بہت ہی پیاری عبارت نقل کی جاتی ہے حضرت حسین کی صحابیت قرآن کی دلالت حدیث کی صداقت محدثین ومؤرخین اوراصولیین وغیرھاتمام طبقات کے اتفاق سے ثابت شدہ ہے توقرآن وحدیث میں صحابہ کے جومناقب وفضائل اور احوال ومقامات وارد ہوئے ہیں وہ سب کے سب حضرت حسینؓ کے لیے ثابت ہوں گے نیزصحابہ کے جوحقوق کتاب وسنت نے امت پر عائدکیے ہیں وہ سب کے سب حضرت حسینؓ کے بھی ماننے پڑیں گے اسی کے ساتھ صحابہ کے خلاف اور مخالف اقدام کرنے والوں کاجوحکم ہے وہ بھی بلاشبہ مخالفین حسینؓ پرہوناناگزیرہوگا۔سوجہاں تک مقام صحابیت کاتعلق ہے اس کی عظمت وجلالت کے ثبوت میں اللہ اوررسول سے زیادہ سچاکون ہوسکتاہے (شھیدکربلا صفحہ ۵۲)
ایک دلچسپ واقعہ
ایک مرتبہ ایک شخص ملاجویزید کی وکالت کررہاتھامیں نے عرض کیاوہ صحابی نہیں ہے۔اس نے جب مزیدبات کی تومیں نے عرض کیامیں ان باتوں میں نہیں پڑتاچل ہاتھ اٹھا۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھے حضرت حسینؓ کے ساتھ اٹھائے اور تجھے یزید کے ساتھ پھر کیاتھااس کا رنگ سرخ ہوگیااورکہنے لگاایسی دعااہرگزنہ کرنا میں نے عرض کیاکہ قیامت میں اس کے ساتھ اٹھناتجھے پسند نہیں اوردنیامیں اس کی وکالت کرتے ہو؟بس خاموش ہوگیا۔
یہی واقعہ میں نے حضرت مولاناخواجہ خان محمد ؒ کے جنازہ کے موقع پر خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میں لاکھوں کے اجتماع میں اپنے تعزیتی بیان میں عرض کیا۔۔۔
ہم سب کے غلام ہیں
ہم صدیقی بھی ہیں اورفاروقی بھی ہیں،ہم عثمانی بھی ہیں اورحیدری بھی ہیں،ہم حسنی بھی ہیں اورحسینی بھی ہیں اس بات پر ہم شہیدِکربلاحضرت سیدناحسینؓ کاایک بہت ہی پیاراقول نقل کرتے ہیں۔آل محمدﷺ کے گروہ میں وہ لوگ داخل ہیں جوحضرت ابوبکرؓحضرت عمرؓحضرت عثمانؓ حضرت علیؓ حضرت معاویہؓ کوگالی نہ دے(تاریخ ابنِ عسکرجلدنمبر۴صفحہ ۳۱۲)
حضرت حسینؓ کی محبت میں ہم اتنے آگے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کوئی مقابل نہیں ہے۔ظفراقبال نے کتنی پیاری آوازلگائی ہے۔۔۔
میں چلتے چلتے اپنے گھر کاراستہ بھول جاتاہوں جب اس کویادکرتاہوں توکتنابھول جاتاہوں
ضروری ضابطے ضروری فرائض قیمتی قدریں میں اس کودیکھ کرساراتماشہ بھول جاتاہوں
وہ حضرات بڑے مقام والے ہیں ان کی نسبت بڑی چیزہے ہم حسینی ہیں اور حسینی نسبت کی لاج رکھتے ہیں کتناخوبصورت شاعر نے منظرکھینچاہے۔
افضل ہے کل جہاں سے گھرانہ حسین کا نبیوں کاتاجدارہے ناناحسین کا
اک پل کی تھی بس حکومت یزیدکی صدیاں حسین کی ہیں زمانہ حسین کا
حضرت حسینؓ کودوھرامقام حاصل ہے ایک صحابی ہیں اوردوسرے اہل بیت میں بھی شامل ہیں ہم یوں کہناپسندکریں گے
حسین میرا،حسین تیرا ،حسین رب کا حسین سب کا۔۔۔۔۔حسین اگرنہ شہید ہوتا توآج گھرگھریزیدہوتا
قاری محمدعبداللہ گوجرصاحب کاگوجری میں کلام ہے
زندگی کوسامان محبت حسین کی زندگی کوارمان الفت حسین کی
نجات کوپروان نسبت حسین کی اچھائی کی پہچان عقیدت حسین کی
ایک ننھے معصوم بچے کی خوبصورت آوازجب میں نے سنی تومیرادل جھوم اُٹھاآیئیے آوازنہیں تواس کاپڑھاہواکلام آپ کے سامنے رکھتے ہیں ایمان تازہ ہوجائیگا
شبیر نے کربل میں تن من کولٹایاہے ظلمات کی بارش میں قرآن سنایاہے
بچپن میں جنہیں آقاکندھوں پہ اُٹھاتے تھے ان پیارے نواسوں کوسینے سے لگاتے تھے
شبیر کوآقانے لب اپناچُوسایاہے شبیر نے کربل میں ۔۔۔۔۔۔
حسین کوماں زہراء جب دودھ پلاتی تھی یٰسین وہ پڑھتی تھی جب جھولاجھلاتی تھی
ماں زہراء نے جھولی میں قرآن سنایاہے شبیر نے کربل میں ۔۔۔۔۔۔
شبیرکااے ثاقب مضبوط بلندایماں حق کونہیں چھپایاتن من کیاقرباں
جسے جام شہادت کواللہ نے پلایاہے شبیر نے کربل میں ۔۔۔۔۔۔
ہماری دعاہے اللہ تعالیٰ اس تعلق اورنسبت کوقائم ودائم رکھے۔اللہ تعالیٰ اپناخاص بندہ بناکران حضرات کاسچااورسُچاغلام بناکر قیامت کے دن جماعت انبیاء ؑ اور صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓعظام اور اولیاء اللہ اور علماء حق کے غلاموں میں اٹھائے(آمین)

60total visits,1visits today