rao-anwar 7

راؤانوار کا ایک اورپولیس مقابلہ،سوشل میڈیا میں شہریوں کی شدید تنقید

rao-anwarسوشل میڈیا میں ایس ایس پی ملیر راؤانوار پرشہریوں کی شدید تنقید گزشتہ روز مبینہ پولیس مقابلے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن عمار ہاشمی کو راؤ انوار نے جعلی مقابلے میں گولی کا نشانہ بنایا مقتول کے اہلخانہ کے مطابق طویل عرصے پولیس کے زیر حراست رہاہے اس کا اعتراف ایک سزایافتہ شخص بھی کرچکاہے ، اہل خانہ کے مطابق عمار ہاشمی دوسال سے غائب تھا جو پولیس کی کسٹڈی میں تھا جس کو راؤ انوار نے مقابلے کے نام پر قتل کر دیا.
ایس ایس پی ملیر راؤانوار کے مقابلے میں مارنے کا دعوے کے بعد شہری راؤانوار کیخلاف سوشل میڈیا میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں اور اس حوالے سے بھرپور مہم چلائی جارہی ہے جس میں حکومت سے راؤ انوار کیخلاف کاروائی کا مطالبہ سمیت فوری نوکری سے برطرفی کا مطالبہ کیاجارہاہے شہریوں کا کہناہے کہ راؤانوار شہر کے امن کا دشمن ہے،گزشتہ روز بھی ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مقابلے کے دوران کالعدم القاعدہ کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے مطابق نادرن بائی پاس کے قریب دہشت گردوں کی موجوگی کی خفیہ اطلاع پر مشکوک گھر کا محاصرہ کیا تو ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔
راؤ انوار نے بتایا کہ پولیس پارٹی کے پہنچنے سے قبل ہی ملزمان نے پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں، ملزمان کی فائرنگ کے بعد آدھے گھنٹے تک دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ایس ایس پی کے مطابق دہشت گردوں کا تعلق القاعدہ برصغیر کے پرویز پرو گروپ سے تھا اور ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہے جس کی شناخت ابراہیم مافیا کے نام سے ہوئی۔
راؤ انوار نے بتایا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور ہنڈ گرینیڈ برآمد ہوئے ہیں جب کہ دیگر دہشت گردوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے
جس پر شہریوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ راؤانوار سندھ حکومت اور وڈیروں کے آشیر باد سے بے گناہوں کی لاشوں کی سیڑی بناکر ترقی کے منازل طے کرنا چاہتاہے جو کہ معاشرے کےلئے انتہائی خطرناک ہے اس لیے حکومت فی الفور اس کیخلاف کاروائی کرے اور جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے تمام لوگوں کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف کیاجائے ، شہریوں کا کہناتھاکہ اس میں‌کوئی شک نہیں شہر میں پولیس دہشتگردوں کو گرفتار کررہی ہے اور مقابلوں میں‌مارے بھی جارہے ہیں‌جس کی وجہ سے امن قائم ہواہے، مگر ہتھکڑیوں میں جھگڑی لاشیں اور گمشدہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارے جانے سے معلوم ہوتاہے کہ راؤانوار کے اکثر پولیس مقابلے فیک اور اپنی ترقی کےلئے ہیں،
ہفتہ کے روز جب راؤانوار نے مقابلے میں چار دہشتگردوں کو مار گرانے کا دعوٰ ی تو سوشل میڈیا میں جوابی وار کرتے ہوئے شہریوں‌نے لکھا کہ راؤ انوار کی ایک اور بدمعاشی سامنے آگئی یقیقنا یہ مقابلہ بھی ماضی کے مقابلوں کی طرح جعلی ہوسکتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے مکمل تحقیق کرے راؤانوار مقابلوں کی مکمل تحقیق کی جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اگر شہریوں کی حفاظت پر معمور پولیس سے ہی شہریوں کا اعتماد اٹھ جائے تو یہ معاشرے کےلئے کافی نقصان کا باعث ہے ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں