8 7

چیئرمین نیب کے لئے ججوں اور بیوروکریٹس کے نام ان کی رضامندی کے بغیر تجویز

8

لاہور: وزیر اعظم ، قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف نے ریٹائرڈ ججوں اور سابق بیوروکریٹس سے رضامندی حاصل کئے بغیر ان کے نام چیئرمین نیب کے لئے تجویز کر دئے ۔ چیئرمین نیب کے عہدہ پر تقرر کے لئے تجویز کردہ متعدد شخصیات سے رابطہ کیا گیا تو حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ ان کے نام تجویز کرنے سے قبل ان سے رضامندی حاصل کی گئی اور نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا گیا تاہم معلوم ہوا ہے کہ قائد حزب اختلاف نے اپنی تجویز کردہ شخصیات کو بعد میں اس بابت ضرور آگاہ کیا جب کہ وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے تاحال متعلقہ شخصیات کو رسمی طور پر بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ ججوں اور سابق بیوروکریٹس سے رضامندی حاصل کئے بغیر ان کے نام تجویز کرنے کے اقدام کے باعث یہ خدشہ موجود ہے کہ ان میں سے کوئی بھی یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے، اس سلسلے میں ایک اعلیٰ قانونی شخصیت نے پاکستان کو بتایا کہ نام فائنل کرنے اور انہیں صدر کو بھجوانے سے قبل متعلقہ شخصیات کو اعتماد میں لیا جائے گا، ابھی تو صرف نام تجویز ہوئے ہیں اور مشاور ت جاری ہے ۔ قائد حزب اختلاف کی طرف سے چیئرمین نیب کے عہدہ کے لئے تجویز کی گئی ایک سابق عدالتی شخصیت نے بتایا کہ وزیر اعظم سے ملاقات اور ہمارے نام تجویز کرنے سے قبل سید خورشید شاہ نے ہم سے مشاورت نہیں کی تھی تاہم انہوں نے نام تجویز کرنے کے بعد ہمیں اس بابت آگاہ ضرور کیا ۔حکومت کی طرف سے اس عہدہ کے لئے جسٹس (ر)اعجاز احمد چودھری ،جسٹس (ر)رحمت حسین جعفری اور آئی بی کے سابق سربراہ آفتاب سلطان کے نام تجویز کئے گئے ہیں ۔ قائد حزب اختلاف نے جسٹس (ر) فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس (ر) جاوید اقبال کے علاوہ جماعت اسلامی کی طرف سے دئے گئے الیکشن کمشن کے سابق سیکرٹری اشیاق احمد کا نام بھی تجویز کیا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے جسٹس (ر) فلک شیر ،سابق آئی جی شعیب سڈل اور سابق بیوروکریٹ ارباب شہزاد کے نام اس عہدہ کے لئے اپوزیشن لیڈر کو بھجوائے گئے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں