download 18

شام کا مختصر تاریخی پس منظر اور موجودہ حالات

تحریر : عبیدالرحمان
download
سیریا مشرقی وسطی کا ایک ملک ہے جس کا سرکاری نام عرب جمہوریا سوریا ہے۔براعظم ایشیا کے انتہاء مغرب میں واقع ہے۔اس کے مغرب میں لبنان جنوب مغرب میں فلسطین اور مقبوضہ فلسطین واقع ہیں۔
اس کا دارلحکومت دمشق ہے جو مشہور اسلامی شہر ہے۔سوریا درحقیقت اس تاریخی خطے کا مرکزی حصہ جسے دنیا شام کے نام سے جانتی ہے۔قدیم زمانہ میں شام سوریا،لبنان ، مقبو ضہ فلسطین اور اردن پر مشتمل تھا۔ اب میں کچھ باتیں سرزمین شام کے بارے میں لکھوں گا جس سے میرا اور آپ کا اسلامی رشتہ قائم ہے اور ہمارا جذبہ ایمانی ان علاقوں سے وابستہ ہے ۔سر زمیں شام وہ مبارک سرزمین ہے جس کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ہم نے ابراھیم کو بھی نجات دی اور لوط کو بھی یہاں پر نجات دی اس زمین میں لے جا کرجس زمیں کے اندر ہم نے پورے عالم کے لیئے خیر برکت رکھی ہے۔ شام کے فضائل بہت زیادہ ہیں امام حاکمؒ نے ایک روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے میں نے دیکھا کتاب کے ستون کو میرے تکیے کے نیچے سے لے جایا جا رہا ہے،میں نے اس کی طرف اپنی نظریں د وڑائیں تو وہ ایک چمکتی ہوئی روشنی تھی جسے شام کی طرف لے جایا جا رہا تھا،خبردار جب فتنے برپا ہوں گے تو ایمان شام میں ہو گا۔
شام میں فتوحات کاسلسلہ خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیقؓ کے دور میں شروع ہوا۔آپ نے سن 13ھجری بمطابق 634 ؁ء کو4 اسلامی لشکر شام روانہ کئے اور ان کے پیچھے حضرت خالدؓ بن ولید کو بھی عراق سے شام چلے جانے کا حکم دیا جسکی فتح خلیفہ دوئم حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں مکمل ہوئی۔
میرے آقا حضرت محمد ﷺنے فرمایا جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے میری امت کے حالات کچھ اس طرح ہوں گے……پھر ایسے ہو جائیں گے…..پھر یہاں سے ادھر بھاگیں گے ….پھر اس شہر بھاگیں گے…..پھر اس ملک میں بھاگیں گے …پھر بھی لوگوں کو پناہ نہیں ملے گی…..پھر پناہ لینے کے لیئے عراق کی طرف دوڑیں گے جب یہ باتیں ارشاد ہوئیں تو ایک صحابیؓ نے پوچھا کے یا رسول اللہ اگر یہ دور میری زندگی میں آ جائے تو میں ہجرت کر کے کہاں چلا جاؤں تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تم ملک شام چلے جانا صحابی نے عرض کی کہ وجہ؟
تو میرے آقا ﷺنے ارشاد فرمایا کہ خیر کے دس حصے ہیں نو شام میں ہیں اور ایک باقی ملکوں میں ہے اور شر کے بھی دس حصے ہیں ایک شام میں ہے اور نو باقی ملکوں میں ہیں ۔یعنی شام میں خیر بہت زیادہ اور شر بہت کم(نہ ہونے کے برابر) ہے۔ارشاد کا مفہوم ہے کہ شام کا ذمہ اللہ نے میری وجہ سے خود اٹھایا ہوا ہے۔اب تاریخ اسلام بھری پڑی ہے پھر اکثر صحابہ کرامؓ ہجرت کر کے شام آگئے ۔
شام کے لوگوں کے چہروں پر اطمینان کی ایک جھلک دیکھائی دیتی ہے اور انتہائی مہمان نوازاور اعلی اخلاق کے مالک ہیں وہ مہمان نوازی کر کے بھی مہمان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں خدمت کا موقع فراہم کیا۔
ملک شام کی سات سالہ جنگی اور موجودہ صورت حال پر
شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے لا کھوں لوگ لقمہ اجل ہو گئے اور ابھی بھی بشارالاسد اور اس کے اتحادی روس کی بمباری سے روزانہ معصوم بچے اور عورتیں شھید ہو رہی ہیں۔اقوام متحدہ یہاں پر بظاہر جنگ بندی کے لیئے کوشش کر رہی ہے لیکن حکومت پر قابض بشارالاسد کسی صورت میں بھی ملک کے اقتدار سے اپنا قبضہ چھوڑنے کے لیئے قطعی تیار نہیں۔
15مارچ2011میں عرب ملک شام میں شروع ہونے والی ایک ایسی خو ن ریز جنگ جس کی شروعات میں کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اٹھنے والی یہ جنگ اتنی خون ریزی مچائے گی جس میں سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جائیں گے اور اتنے ہی لوگ بے گھر ہو جائیں گے۔لیکن ابھی بھی 6/7سال سے چلنے والی جنگ کا مستقبل طے نہیں ہے۔
اس تنازع کا آغاز مارچ 2011میں ہوا جب شامی ڈکٹیٹر بشارالاسد کی جانب سے پرامن مظاہرین پر گولیاں برسائیں گئیں ۔جولائی کے مہینے میں کچھ مظاہرین نے مزاحمت شروع کر دی اور بشار کی فوج کا ایک حصہ بشار کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہوااور اس سے الگ ہو کر مظاہرین کی حمایت کا اعلان کر دیا جسے FSA(فری سیرین آرمی) کہا جاتا ہے اور یوں شام کے لوگ بشار کے خلاف ایک طاقت بن کر ابھرے ۔تقریباً اسی دوران شمال میں موجود کرد(kurds)قبائل جو ایک عرصہ سے خودمختاری کی جدودجہد کر رہے تھے انہوں نے بھی ہتھیار اٹھالیئے اور بشار الاسد کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا اور بشار کی فوج کو ہر جگہ پسپائی ہونے لگی اور یہ وہ دور تھاجب بشار کے اقتدارکی کشتی ہچکولے کھارہی تھی اور چند مہینوں کی مہمان تھی۔اسی دوران ایران نے خالصتاً فرقہ وارانہ بنیاد پربشار کی حمایت کے لیئے مداخلت شروع کر دی اور 2012سے روزانہ کی بنیاد پر کئی جہاز(اسلحہ اور فوجیوں کے) شام میں جانا شروع ہو گئے اور اس کے ردعمل میں خلیجی عرب ریاستوں نے FSA اور دیگر(جو مظاہرین بشا ر کے خلاف لڑ رہے تھے) کو ترکی کے راستے اسلحہ اور روپیہ بھیجناشروع کر دیاتا کہ اس خطہ میں ایران کا اثرورسوخ کم کیا جا سکے۔
2012میں دہشت گرد تنظیم حزب اللہ نے ایران کی جانب سے بارڈر کراس کر کے شام میں مسلم آبادی پر حملہ کر دیا اور ان لوگوں کے خلاف لڑنا شروع کر دیا جو بشارالاسد کے ظلم کے خلاف آواز بلندکر رہے تھے۔اسی دوران خلیجی عرب ریاستوں اور سعودی عرب نے FSA اور دیگر(جو مظاہرین بشا ر کے خلاف لڑ رہے تھے)کی مدد مزید تیز کر دی۔2013تک مشرق وسطی تقسیم ہو چکا تھا جس میں بیشتر سنی ممالک اورFSA دیگر(جو مظاہرین بشا ر کے خلاف لڑ رہے تھے)کی مدد کر رہے تھے اور شیعہ بشار کی۔اگست میں بشار نے عام شہریوں پر کیمیائی حملہ کر دیا جس کی وجہ سے بشار پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بن گیا۔المختصر، روس بھی بظاہر داعش کا بہانہ بنا کرآجاتا ہے لیکن وہ داعش کے بجائے عام شہریوں پر بمباری شروع کر دیتاہے جو کے ابھی تک جاری ہے۔
2017میں بشارنے دوبارہ عام شہریوں پر کیمیائی حملہ کر دیا جس میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں لوگ شھید ہوئے اور اتنے ہی زخمی اور معذورہوئے۔اب روزانہ کی بنیاد پرروس کے جنگی جہاز شامی مسلمانوں پر بے دریع بمباری کر رہے ہیں۔
بشار روس کو اس بمباری میں مکمل سپورٹ کر رہا ہے۔ روسی حملوں میں پورے پورے خاندان شھید ہو رہے ہیں۔بچے یتیم ہو رہے ہیں۔ بمباری کے بعد کے رقت آمیز مناظر ہم سوشل میڈیا پر بھی دیکھتے ہیں بمباری کے بعد بچوں کے جسم کے اعضاء بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔کہیں ملبے سے معصوم بچوں کو نکالا جا رہا ہوتاہے کہیں بچہ اپنے شھید ماں ، باپ اور بھائیوں کے جنازوں کے پاس بے یار و مددگار کھڑاہوتا ہے۔کہیں ماں اپنے بیٹے کو گرے ہوئے مکان کے ملبے کے نیچے دیکھ کر چلارہی ہوتی ہے اور وہاں وہ رقت آمیز مناظر ہوتے ہیں جن کو بیان کرنے سے میری زبان قاصر ہے۔
اگر فرانس میں 10یا12 گستاخ رسول مارے جائیں تو پوری دنیا متحد ہو کر سوگ مناتی ہے لیکن روزانہ شہید ہونے والے شام کے بچوں کا کوئی نام تک نہی لیتا آخر وجہ کیا ہے؟۔ان بچوں کا قصور کیا ہے؟
قصور صرف یہی ہیکہ یہ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں۔جب تک مسلمانوں کاآپس میں اتحاد قائم نہیں ہو گا اور مسلمان بیدار نہیں ہوں گے اس وقت تک دشمن مسلمانوں پر ظلم جاری رکھے گا۔اللہ پاک جہاں کہیں مسلمان ماریں کھا رہے ہیں ان کی مددو نصرت فرمائے اور مسلمانوں کو آپس میں اتحاد واتفاق نصیب فرمائے (آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں