8 3

مفتی محمود رحمہ اللہ کا یوم وفات

14 اکتوبر 1980
آج یوم وفات ہے اس شخص کا جس کے در پہ دنیا بھکاری بن کر آئی تھی اور وہ دامن بچا کر نکل گیا تھا ۔
مفتی محمود۔
ْ انڈین نیشنل کانگرس کے رکن ۔جمعیت علمائے ھند کے رکن ۔جمعیت علمائے اسلام کے رکن ۔اور وزیر اعلیٰ سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ)
مفتی محمود کی سب سے اچھی بات جو مجھے ان کی زندگی میں پسند آئی کہ انہوں نے جس بات کو حق سمجھا اس پہ قائم رہے۔1964 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر فاطمہ جناح کے الیکشن لڑنے پہ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوی جاری کیا تھا۔پھر سارے پاکستان کی مخالفت برداشت کر لی لیکن مرتے دم تک فتوئ تبدیل نہیں کیا تھا۔
(تھے تو آباء وہ تمھارے ہی مگر تم کیا ہو )
مفتی محمود 9 جنوری 1919ء بمطابق 6 ربیع الثانی 1337 ھجری کو ضلع ڈیرہ سماعیل خان کے عبدالخیل گاوؑں میں پیدا ہوۓ۔ وہ لسانی طور پر مروت پشتون تھے۔ انکے والد محترم کا نام مولانا خلیفہ محمد صدیقؒ تھا۔
آپؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے اپنے گھر پر حاصل کی۔ آپ نے ان سے فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ مزید دینی تعلیم کے لئے آپ حضرت مولانا سید عبدالحلیم شاہؒ کے بھائی حضرت مولانا عبدالعزیزشاہؒ کے پاس اباخیل(لکی مروت)چلے گئے اور ان سے صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔
چھ برس کی عمر میں آپ کو پنیالہ کے مڈل سکول میں داخل کرا دیا گیا اور 1934 میں پنجاب بورڈ سے فرسٹ ڈیوزن میں مڈل اسکول پاس کیا ۔
مفتی محمود صاحب نہایت ہی ذہین واقع ہوئے تھے اور ذوق و شوق علم بھی رکھتے تھے، لہٰذا اپنے استاد محترم مولانا عبدالعزیزؒ اور دیگر بزرگوں کے مشورے سے مدرسہ شاہی مرادآباد میں داخل ہوئے۔ ایک مرتبہ مولانا عبدالرحمٰن امروہیؒ تعطیلات کے ایام میں تشریف لائے اور مفتی صاحب سے پوچھا کیا تم نے تحصیل علم مکمل کر لیا ہے، جب انہوں نے مثبت میں جواب دیا تو مولانا صاحب نے انکا امتحان لیا اور اپنی طرف سے حدیث کی سند عطا فرمائی۔
ا
مفتی صاحب جب تحصیل علم سے فارغ ہو کر واپس آئے تو شاہ عبدالعزیزؒ اور دیگر احباب نے اجلاس بلایا اور مشورہ کیا کہ علاقے میں ایک دینی درسگاہ تائم کرنی چاہئے، پس جامعہ عزیزیہ کے نام سے ایک درسگاہ قائم کی گئی اور مفتی صاحب تین سال تک اس میں پڑھاتے رہے۔ بعد میں وسائل کی عدم دستیابی کے وجہ سے مدرسہ بند کرنا پڑا اور آپ نے پڑھانے کی خدمات عیسیٰ خیل کے ایک دینی مدرسے کے سپرد کر دیں۔
آپ نے شاہ عبدالعزیز ؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلوک کی منازل طے کیں۔
1946میں آپ کی شادی پنیالہ کے قریب واقع عبدالخیل نامی گاؤں کے صوفی نیاز محمد کی بیٹی سے ہوئی۔
1947ء میں اپنے مرشد شاہ عبدالعزیز ؒ کے حکم پر بغرض امامت اپنے سسرالی گاؤں عبدالخیل چلے گئے۔
علاقہ بھر سے طلباء ان کے پاس آتے اور علم کے نور سے منور ہوتے۔ مقیم طلبہ کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی۔ انکے شاگردوں میں سے ایک ان دنوں مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کے سامنے مفتی صاحبؒ کی تدریسی صلاحیتوں اور علمی عظمت کا ذکر کیا تو مدرسہ کے ارباب انتظام و اہتمام نے حضرت مفتی صاحبؒ کو اپنے مدرسے میں پڑھانے کی دعوت دی اور1951 میں مفتی محمودصاحبؒ ملتان تشریف لے گئے۔
مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں آپکی تقرری بحثیت مدرس و مفتی ہوئی،چند سال بعد آپ شیخ الحدیث کچھ عرصہ بعد وہاں کے مہتمم مقرر ہوئے۔
1951 میں مفتی صاحب کے والد کا انتقال بھی ہوا تھا۔یہاں سے مفتی صاحب کی علمی وسیاسی ترقی کا سفر شروع ہوا اور ملتان آنے کے بعد مفتی صاحبؒ کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ اس میں خود انکی اپنی محنت، سعی وتوجہ اور دوڑدھوپ کا بہت عمل دخل تھا۔
آغازِ سیاست 1942ء جمعیت علماءہند سےکیا, ‘ہندوستان چھوڑ دو تحریک’ میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا,جمعیت علماءہند کی مجلس عاملہ کے رکن بنے۔
1946 میں سہارن پور میں ہونے والی جمعیت علمائے ھند کی کانفرنس میں سرحد کے نمائندے کی حیثیت سے شریک ہوئے۔
نظریاتی بنیادوں پہ تقسیم ھند اور قیام پاکستان کے خلاف تھے۔
قیام پاکستان کے بعد جب صدر جمعیت علمائے ھند مولانا حسین احمد مدنی نے کہا کہ مسجد کے قیام سے پہلے اس میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مسجد بن جانے کے بعد ہر مسلمان پہ اس کی حفاظت لازم ہے۔تو مفتی محمود نے خود کو تعمیر پاکستان کے لئے وقف کر دیا ۔
1953ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے بھر پور حصہ لیا اور ملتان جیل میں تحریک کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ آپ کو قید کر دیا گیا چھ ماہ بعد آپ کو رہائی ملی۔
1956ء پہلے آئین کی خامیوں پر جراح کی,
1958ء ایوب کے آمرانہ آرڈیننس کو سیاسی و قانونی بنیادوں مسترد کرتے ہوئے نقائص کو واضح کیا۔
1961 میں آپ والدہ کی شفقت سے محروم ہو گئے ۔
21 اپریل 1962ء, کو پہلی مرتبہ ڈیرہ اسماعیل خان کی واحد سیٹ پر انتخاب جیت کر بھاری اکثریت سے قومی اسمبلی کے ممبر بنے.
1970ء کے الیکشن میں مفتی محمود ؒ نے 13ہزار ووٹوں سے ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دی۔
سال 1970 ء کے انتخابات کے بعد وہ مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کی قائم کردہ جمیعت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی ناظم عمومی بنے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا حصہ بھی رہے۔
1 مئی 1972 کو وہ صوبہ سرحد (موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا) کے وزیراعلیٰ منتخب ہوۓ۔
قلیل مدتی دورِ حکومت میں کارہائےنمایاں سرانجام و دور رس فیصلے کئے۔
1972ء میں آپ نے وزیر اعلیٰ سر حد کے عہدے کا حلف اٹھایا تو چیف سیکرٹری رہائش کے لیے گیسٹ ہاؤس منتخب کیا اور مفتی محمود ؒ سے گزارش کی کہ انگریزوں کے دور کا فرنیچر اور سامان تبدیل کرانے کی کوشش کریں مگر مفتی صاحب نے فرمایا اے اللہ کے بندے یہ تم کس چکر میں پڑگئے ہو میرے اپنے گھر میں تو کوئی ٹوٹا پھوٹا صوفہ بھی نہیں۔ وزارت اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے بعد شراب بنانے ،رکھنے اور بیچنے پر پابندی عائد کر دی گئی،آپ کی سب سے بڑی خوبی بروقت نماز کی ادائیگی تھی ۔
ایک مرتبہ بہت بڑا مجمعہ آپ کے ساتھ جا رہا تھا کہ آذان ہوگئی اسی وقت تمام لوگوں کو روکا اور نماز پڑہوائی،ایک پولیس اہلکار سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے وضو کیا ہے تو پولیس والے نے جواب دیا کہ جب سے مفتی صاحب کے ساتھ ہیں ہم پہلے سے ہی وضو کرتے ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کی ہر حال میں مفتی صاحب نے ہم سے نماز پڑھوانی ہے۔۔
صوبہ بھر میں اردو کوبطور سرکاری زبان نافذکیا اور عورتوں کو پردے کا حکم دیا۔
انہوں نے اپنی کابینہ کے ساتھ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمیعت علماء اسلام کی مشترکہ حکومت کے جبراً اختتام کے خلاف 14 فروری 1973 کو احتجاجاً استعفا دیا۔
1973 کے آئین کی تدوین میں آپ کا نہ صرف اھم کردار ہے بلکہ اس پہ آپ کے دستخط بھی ہیں ۔
مفتی صاحب نے پاکستان میں ختم نبوت کے موضوع پر بحث میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے علماء کرام کی قیادت کی جو قادیانیوں (احمدیوں اور لاھوری گروپ) کو غیر مسلم ثابت کرنے پر کام کر رہے تھے۔
قادیانی لیڈر مرزا ناصر سے گیارہ دن اور لاہوری فرقہ سےسات گھنٹے اسمبلی میں مناظرہ کیا۔ تمام علماء کرام کی ,مشترکہ جدوجہد سے,7ستمبر 1974ء کوقادیانی کافر قرار دیا گیا ۔
حضرت مولانا مفتی محمود کا شمار ایسے علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے پوری زندگی علوم دینیہ کی خدمت اور تحفظ ختم نبوتﷺ میں گزاری،وہ اپنے عہد کے مفسر،محدث،مدبر ،عالم با عمل سیاست دان اور فقیہیہ تھے،آپکی پوری زندگی قال اللہ وقالرّسول میں گزاری۔
14اکتوبر 1980 ء کو کراچی میں حج کے سفر کے دوران جامعہ بنوریہ میں فقہی مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ،آپ کو اپنے آبائی گاؤں عبدالخیل پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مدفن کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں