میاں صاحب کی سیاسی بصیر ت کا امتحان

(mjehany26@gmail.com)
میاں محمد نواز شریف پاکستان کے کام یاب ترین سیاست دانوں میں سے ہیں۔ عہدہ ومنصب کی دیوی اس حوالے سے میاں صاحب پر روز اول سے مہر بان رہی ہے۔جنرل محمد ضیاء الحق کی نظر انتخاب جانے کس خدمت کے صلے میں،ان پر پڑی،کہ اس” نظر کیمیا اثر” نے اسے برسوں کے فاصلے دنوں میں طے کرادیے اور ڈائریکٹ پنجاب کا وزیر خزانہ بنا ڈالا،یوں خزانے کی چابی میاں صاحب کے ہاتھ لگ گئی اور اس کے ثمرات واثرات ان کی نجی زندگی پر کیا اور کتنے پڑے،اس کا فیصلہ توسپریم کورٹ کرنے جا رہاہے، بہر حال سب اچھا نہیں تھا،اگر سب اچھا ہوتا تو پانامہ لیکس میں میاں صاحب کے صاحب زادوں اور صاحب زادی کا نام نہ آتا،میاں صاحب کے وزارائے باتدبیر کی دوڑیں نہ لگتیں،ان پر ”الہامی جواز”القا کرنے کے لیے سینئر صحافیوں کی ”ڈیوٹیاں”نہ لگائی جاتیں… دھند بھرے پنجاب کی سیاست وعدلیہ کے افق سے دھند چھٹتی جا رہی ہے،جس کا اظہار معزز عدالت کا یہ بیان بھی ہے کہ اگر میاں صاحب !کی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے تو پھر…اس کتاب کے کچھ صفحات غائب ہیں۔اللہ کرے !سپریم کورٹ ان غائب صفحات کا کھوج لگانے میں کام یاب ہو جائے۔عمران خان ،میاں صاحب سے کئی درجے بہتر کھلاڑی تو ضرور ہیں بل کہ ان ،لیکن سیاسی میدان میں وہ میاں صاحب کے پاسنگ تو کیا عشر عشیر بھی نہیں۔ان کے احتساب کے نعرے کے پس منظر میں وزارت عظمیٰ کے خواب کی تعبیر کی تلاش ہو،نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے کا جنون ہو،ملکی معیشت کی بہتری ہویا کچھ اور ،بہر حال وہ اس حوالے سے ایک طویل اننگز کھیلنے کی پوری تیاری کیے بیٹھے ہیں اور سپریم کورٹ سے ان کا یہ کہنا کہ آرٹیکل اکسٹھ باسٹھ کا اطلاق کردیں،چاہے اس کی وجہ سے مجھے بھی نا اہل ہونا پڑے،ملک کا تو بھلا ہوجائے گا…ان کے عزم مصمم کی غمازی کرتا ہے،کہ وہ ماضی کی طرح اس مطالبے کو سیاسی مجبوریوں کی نذر نہیں کریں گے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ”یوٹرن”لیں گے۔
آمدم بر سر مطلب،میاں صاحب میدان سیاست کے کام یاب کھلاڑی ہیں،جس طرح بڑے زرداری میدان سیاست کے مہا جواری ہیں۔وہ اپنی سیاسی زندگی کے اس آخری راؤنڈ میں سیکولراور لبرل پاکستان کی بات کرتے ہیں،حالاں کہ ماضی میں انھیں اسلام پسندی کی وجہ سے ووٹ ملتے رہے،ان کے ووٹ بینک میں اضافہ دینی جماعتوں کی وجہ سے ہوا،چاہے وہ جماعت اسلامی ہو،جمعیت علمائے اسلام وپاکستان کا کوئی دھڑا ہو،جمعیت اہلحدیث ہو یا کوئی اور جماعت…اب صورت حال اس سے مختلف ہے،پروفیسر ساجد میر اور مولانا فضل الرحمن کے علاوہ کوئی مذہبی جماعت اب ان کی اتحادی نہیں۔میاں صاحب جو ماضی میں اسلام اسلام کی مالا جپتے تھے اب یوٹرن لے چکے ہیں۔وہ اٹھانوے فیصد مسلم اکثریتی ملک کے سربراہ ہیں،جس ملک کی بنیاد ہی اسلام اور دوقومی نظریے پر رکھی گئی،اس کے باوجود ان کی ہم دردیوں کا رخ قادیانیوں اور اقلیتوں کی طرف ہے۔
میاں صاحب گوکہ ایک سینئر اور سرد وگرم چشیدہ سیاست دان ہیں،اس کے باوجود وہ انتقامی جذبات سے مغلوب ہوجاتے ہیں۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اس میں یہ خصلت بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے اوپر کیے جانے والے احسانات کا بدلہ چکانے میں بہت مشاق ہو تاہے،میاں صاحب میں بھی یہ خوبی موجود ہے۔ہمارے محترم صدر مملکت اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ان کے سیاسی نامہ ٔ اعمال میں ہماری دانست کے مطابق جو نیکی میاں صاحب کے میزان کے مطابق سب سے بھاری تھی وہ یہ کہ جب میاں برادران لانھی جیل میں قید تھے تو کھاناممنون حسین صاحب کے ہاں سے جا تا تھا،اس پر میاں صاحب ممنون صاحب کے ”ممنون احسان ”تھے جس کا بدلہ انھیں ملک کے سب سے بڑے منصب پر فائز کرکے دے دیا گیا،گوکہ اس کی دیگر وجوہات سے انکار نہیں،لیکن ہم سب سے بڑی نیکی کی بات کررہے ہیں۔اللہ مغفرت فرمائے مرحوم گورنر سندھ جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی صاحب کی ،انھوں نے بھی پی سی اوکے تحت حلف لینے سے انکار کرکے میاں صاحب پر بڑا احسان کیا تھا،جس کا بدلہ انھیں ایسے عالم میں سندھ جیسے شورش زدہ صوبے میں قفاق کا نمایندہ بناکر دیا گیا،جس کے لیے ایک جاں بلب اور بیمار ولاغر گورنر کی نہیں ایک بیدار مغز،جہد مسلسل کا نمونہ ،ان تھک وسرد وگرم چشیدہ میدان سیاست کے مشاق کھلاڑی کی ،بطور گورنر ضرورت تھی۔ہم آج تک یہ بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ بعض اپنے اپنے شعبوں کے شہ دماغوں کو عمر کے آخری حصے میں کوچہ ٔ سیاست میں قدم رنجہ ہونے کا شوق کیوں ہو جاتاہے،حالاں کہ وہ اس کوچے سے جب نکلتے ہیں تو اپنی سابقہ نیک نامی اور ساکھ کو بھی ضائع کردیتے ہیں،محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوں،جسٹس افتخار محمد چوہدری ہوں،عمران خان ہوں یا سعیدالزماں صدیقی،سب اپنے شعبوں کے ماہر اور ملک وقوم کے ماتھے کا جھومر رہے ہیں،مگر یہ ظالم کوچہ ٔ سیاست،ایسوں کے لیے بھلا ہے ہی کہاں…!!
جاں بلب گورنرکی سانسوں کا رشتہ اب جسم سے ٹوٹ چکاہے اور وہ اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ چکے ہیں،اب پھر میاں صاحب کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہے،کہ آیا وہ گورنر کی مسند کسی اور محسن کوتھما کر بدلہ اتارتے ہیں یا کسی بیدار مغزسیاست دان اور بیورو کریٹ کو یہ ذمے داری تفویض کرکے قوم ہر احسان کرتے ہیں۔اللہ کرے !وہ کوئی اور جسٹس سعید الزماں صدیقی اور جسٹس محمد رفیق تارڈ تلاش کرنے کے بجائے ملک وقوم کے اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں۔تادم تحریرشاہد آفریدی،نہال ہاشمی،عشرت العباد اور پرویز مشرف کے نام سننے میں آرہے ہیں،ممتاز علی بھٹو اور غوث علی شاہ جیسے سینئر سیاست دانوں کے نام بھی زیر غور آتے اور پھر پس منظر میں دھکیل دیے جاتے ہیں،شاید یہ دور ہی قحط الرجال کا ہے یا پھر ہمارے اہل وعقد میں مردم شناسی کی حس کم زور پڑچکی ہے!
مولانامحمد جہان یعقوب
سینئر ریسرچ اسکالر،استاد صحافت وانچارج شعبہ تفسیر،جامعہ بنوریہ عالمیہ