Libyan rebel fighters hold up a packet of cigarettes on which they had put a homemade joke health warning featuring a caricature of Moammar Gadhafi, on the outskirts of Ajdabiya, Libya Monday, April 18, 2011. Libya's fighting, which erupted two months ago, has reached a deadlock, with neither side able to gain a decisive advantage and the front line shifting back and forth across a stretch of desert near the eastern city of Ajdabiya. Writing on cigarette packet in arabic reads "Warning, Moammar destroys Libya and causes death. The destructive impact of Moammar affects civilians and non-civilians alike." (AP Photo/Ben Curtis) 1

انتہا پسندوں نے سگریٹوں کی اسمگلنگ سے کیسے 1 ارب ڈالرز وصول پا لیے؟

سگریٹوں کی اسمگلنگ انتہا پسند گروپوں کے لیے بہت ہی منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ مغرب میں القاعدہ کے سابق کمانڈر اور الجزائری جنگجو مختار بالمختار ’’ مسٹر مارلبرو ‘‘ کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔

خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں پھونکے جانے والے تین چوتھائی سے زیادہ سگریٹ غیر قانونی طریقے سے آتے ہیں۔2016ء میں مغرب (شمالی افریقا) کے خطے میں استعمال کیے گئے تیرہ ارب سے زیادہ سگریٹ غیر قانونی طور پر لائے گئے تھے یا وہ غیر قانونی اساس رکھتے تھے۔ اب سگریٹوں کی اسمگلنگ مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندوں کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

کارنیگی مڈل ایسٹ سنٹر بیروت میں العریان فیلو ڈا کٹر دالیا غانم یزبیک کا کہنا ہے کہ ’’ مشرق وسطیٰ میں تنازعات نے اسمگلنگ کو انتہا پسند گروپوں کے لیے آمدن کا ایک بہت ہی منافع بخش ذریعہ بنا دیا ہے کیونکہ دشوار گذار سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کا کوئی موثر انتظام نہیں اور بعض علاقوں میں تو سرحدوں پر کنٹرول کے لیے سکیورٹی فورسز کے پاس مطلوبہ تعداد میں نفری ہے اور نہ آلات ‘‘۔

قبل ازیں انتہا پسند گروپ اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں اور بھتے سے رقوم اکٹھی کیا کرتے تھے لیکن اب اسمگلنگ ان کے لیے زیادہ منافع بخش ذریعہ آمدن بن چکی ہے۔

شمالی افریقا کے خطے میں تمباکو کی غیر قانونی تجارت کی مالیت ایک ارب ڈالرز سے بھی متجاوز ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم ( یو این او ڈی سی) کے تخمینے کے مطابق افریقی عوام ایک سال میں 400 ارب سے زیادہ سگریٹ پھونک جاتے ہیں اور ان میں سے 60 ارب بلیک مارکیٹ سے خرید کیے جاتے ہیں۔

غانم یزبیک نے العربیہ انگلش سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا’’ صحارا ( صحرا) کے علاقے میں قبل ازیں بہت سی غیرملکی کمپنیاں کام کرتی تھیں اور انتہا پسند گروپوں کے ہاتھوں غیر ملکیوں کے اغوا کے زیادہ امکانات رہتے تھے لیکن اب صورت حال یکسرتبدیل ہوچکی ہے۔بہت سی کمپنیاں اس علاقے سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر جاچکی ہیں اور دہشت گرد گروپوں نے آمدن کے نئے ذرائع ڈھونڈ لیے ہیں۔ان میں سے ایک اسمگلنگ ہے‘‘۔
سلفی نظریے کا غیر قانونی استعمال

ایک رپورٹ کے مطابق سال 2016ء میں مغرب کے خطے میں ساڑھے 56 کروڑ ڈالرز مالیت کے سگریٹوں کی غیر قانونی تجارت ہوئی تھی۔ یہ بھاری رقم براہ راست انتہا پسند تنظیموں سمیت غیر قانونی گروپوں کے ہاتھ لگی تھی۔

’’بعض اوقات دہشت گرد گروپ براہ راست اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتے ہیں کیونکہ یہ ان کے سلفی نظریے کے خلاف ہے ۔یہ نظریہ کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔اس لیے یہ گروپ ایک اور طریقہ اختیار کرتے ہیں اور وہ اسمگلروں کے قافلوں کو تحفظ مہیا کرتے ہیں۔اس خدمت کے عوض وہ انھیں رقوم دیتے ہیں‘‘۔

مراکش ، الجزائر ، تیونس اور لیبیا میں سگریٹوں کے علاوہ اور بھی بہت سی مصنوعات اسمگل کی جاسکتی ہیں۔ان ممالک میں روٹی سے چینی اور تیل سے تعمیراتی سامان تک تمام اشیاء پر زرتلافی دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں کافی فرق پیدا ہوجاتا ہے ۔اس لیے سرحدوں سے ان اشیاء کو بھی اسمگل کرکے لایا جاتا ہے۔

داعش نے 2015ء میں قریباًدو ارب ڈالرز کی رقم تیل کی اسمگلنگ سے وصول کی تھی۔ایک مرحلے پر تو داعش کے جنگجو شام میں تیل کی غیر قانونی فروخت سے یومیہ تیرہ لاکھ ڈالرز تک حاصل کررہے تھے۔

ڈاکٹر یزبیک نے جہادیوں ، انتہا پسند وں اور دہشت گردوں کے نظریات اور سرگرمیوں سے متعلق امور کی ماہر ہیں۔انھوں نے اپنی بات ان الفاظ پر ختم کی:’’ اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف جنگ مشکل ہے کیونکہ دہشت گرد گروپوں کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ اسمگلنگ سے مالی وسائل حاصل کررہے ہیں۔ ان کی زندگیوں کی گزر بسر اس کاروبار پر ہے۔اگر ہم اسمگلنگ کے کاروبار کو روکنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ان لوگوں اور ان سرگرمیوں میں ملوث سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے متبادل اور باعزت روزگار کا بندوبست کرنا ہوگا ‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں