12 4

عالمی سازشیں اور متحدہ مجلس عمل

تحریر:عبدالقادر غوری

متحدہ مجلس عمل کا پھر سے فعال ہونا وقت کی ضرورت تو ہے لیکن اتحاد میں شامل ہونے والی کوئی بھی پارٹی خود کو مجبور ظاہر نہیں کرنا چاہتی حلانکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے علاوہ تمام پارٹیاں بشمول جماعت اسلامی بھی آئندہ ہونے والے الیکشن میں بدترین ناکامی سے خوفزدہ نظر آرہی ہیں۔
اگر ہم ایم ایم اے میں شمولیت کی خوائش مند تمام پارٹیوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ جمیعت علماء اسلام(س) جمیعت علماء اسلام)(نورانی) جمیعت اہل حدیث ، مجلس وحدت المسلمین اور وہ جماعتیں جن کو ایم ایم اے میں شامل کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا جن میں سنی تحریک ۔ جماعت اہل سنت ۔ لبیک اور دیگر پارٹیوں کی اکیلے الیکشن میں جانے کی اوقات نہیں ہے
اوقات کا لفظ آپ کو سخت نہیں لگے گا ۔جب آپ ان کو ملنے والی عطائی سیٹیں دیکھیں گے یا پھر پچھلے دس سالوں میں ان جماعتوں کی اسمبلی میں غیرموجودگی پر نظر ڈالیں گے ۔ ہاں البتہ جماعت اسلامی خود کے بَل پر آنے والے الیکشن میں کراچی اور کے پی کے سے چار پانچ سیٹ لینے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان کے پی کے میں اتحادی اور، بلوچستان میں اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آرہے ہیں. لیکن پھر بھی ایم ایم اے فعال کرنے میں سنجیدہ ہیں اور اسکا ہر پہلو سے جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے۔
کیونکہ پاکستان کے بڑے فتنے قادیانی بحثت کو چنگاری لگا دی گئی ہے وہ بھی ربیع اول سے چند دن پہلے اسی لیے میں نے کہا کہ اگلا ایک مھینہ بہت اہم ہے ۔اللّہ ملک کی حفاظت فرمائے اندرونی بیرونی دشمنوں سے ۔ آمین
اگر ہم باقی ننی منی پارٹیوں کو چھوڑ کر صرف جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام (ف) کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس وقت کونسی پارٹی اکیلی ہے۔
جماعت اسلامی ۔ پی ٹی آئی گزشتہ چار سال ایک دوسرے سے بیزار اور ساتھ ملکر حکومت کرنے کے فیصلے سے شرمندہ دیکھائی دیے ۔ آئندہ کیا جماعت اسلامی کا اتحاد ن لیگ، پیپلزپارٹی، مولانا فضل الرحمن، ایم کیو ایم سے ہوسکتا ہے۔؟
میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوگا ۔ ہاں اگر 2013 والی پوزیشن ہوتی ہے تو پھر پی ٹی آئی یا جماعت اسلامی جو مضبوط ہوئی وہ اے این پی یا جمیعت علماء اسلام ف سے ملکر حکومت تو بناسکتے ہیں لیکن آپس میں ان کی توبہ ہوچکی ہے اس وقت جماعت اسلام اور تحریک انصاف کا رشتہ اُن میاں بیوی جیسا ہے جو ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے لیکن ارب پتی دادا کی وصیت کے مطابق رشتے کی گاڑی چلارہے ہوں کہ اگر طلاق ہوئی تو دونوں کے حصے میں آنے والا مال یتیم خانے کو دے دیا جائے گا ۔
پر مولانا اس وقت مذھبی جماعتوں میں پہلے نمبر پر موجود ہیں ان کے ساتھ اتحاد کرنا ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، متحدہ چار پانچ جتنی بھی ہیں، ارباب رحیم اور فنکنشل گروپ الغرض مولانا کی سیاسی اور اخلاقی ریکارڈ دیکھتے ہوئے تمام پارٹیاں الیکشن اور الیکشن کے بعد کی زندگی میں بھی اتحاد کرنا باعث فخر سمجھتی ہیں ۔
مولانا سمیع الحق کو ساتھ ملانا اس لے ضروری ہے کہ وہ جزبات میں کہیں تحریک انصاف کے پاس نہ چلے جائیں انکی شہرت میں کمی اُس وقت آئی جب یہ مزاکرات میں طالبان کے فریق کی صورت میں نظر آئے ۔ ورنہ اگر انکے عالم ہونے کے علاوہ دیکھا جائے تو وہ انکی پارٹی اور شیخ رشید کی پارٹی ایک برابر ہے ۔
اب یہ تو ثابت ہوچکا کہ متحدہ مجلس عمل تمام مذھبی پارٹیوں کی بقا کے لیے ضروری اور مجبوری ہوسکتی ہے پر مولانا فضل الرحمان کی نہیں لیکن مولانا صاحب پھر بھی ایم ایم اے بنانے میں سنجیدہ نظر آرہے ہیں آخر کیوں؟
کیونکہ کہ مولانا پاکستان کی اندوری سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی معاملات کو بھی بڑی باریکی سے دیکھ رہے ہیں ۔ اس وقت امریکہ اور دیگر دشمن ممالک پاکستان میں فرقہ واریت فسادات کروانے کی مکمل فیصلہ کرچکے ہیں جس پر عمل درآمد کے ارادے سے بڑی تعداد میں داعش کے لوگوں کو افغانستان میں آباد کرنا شروع کردیا ہے جہاں سے وہ راء اور دیگر ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان میں فرقہ واریت اور مذھبی گڑبڑ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ مولانا صاحب صرف پاکستان کی بقا سلامتی اور دشمن کی سازش ناکام بنانے کے لیے متحدہ مجلس عمل کو فعال کرنے میں تمام پارٹیوں سے زیادہ سنجیدہ ہیں کیونکہ باقی مذھبی جماعتیں تو صرف خود کو بچانے اور کچھ کھانے کے لیے سمندر میں آنا چاہتی ہیں لیکن مولانا صاحب کو صرف ملک و قوم کی فکر کھائے جارہی ہے ۔ وہ صدیوں سے آگے سوچ رہے ہیں کہ ابھی تو صرف قادیانی والا مسلہ چھڑ کر فوج اور عوام میں خانہ جنگی کروانے کی سازش کی گئی کل اگر شیعہ سنی دیوبندی بریلوی اختلافات کو ہوا دیکر فسادات کروانے کی سازش ہوئی تو یہ آگ گھر گھر لگے گی سگے بھائی آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرینگے کیونکہ ہر گھر میں ایک شیعہ ایک سنی ایک بریلوی اور ایک دیوبندی ہوتا ہے ۔
امریکہ کا کسی بھی اسلامی ملک میں داخل ہونے کا یہ ایک ہی پُرانا اور کارآمد طریقہ واردات ہے جسے مولانا کی سربراہی میں مذھبی جماعتوں کا اتحاد ہی ناکام بناسکتا ہے ۔ فاٹا پر بھی مولانا کے موقف کی وجہ بھی یہ ہی ہے ۔
امریکہ ضد میں افغانستان سے داعش وغیرہ کے زریعے حملہ کرواکر اور پھر اسے جواز بنا کر فاٹا وزیستان کو برباد کی کی اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناسکتا ہے ۔ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے اس لیے ہمیں پھونک پھونک کر سازشوں کو سمجھتے ہوئے قدم اُٹھانے ہونگے۔
لھذہ یہ بات زھن نشین کرلیں متحدہ مجلس عمل جماعت اسلامی یا کسی بھی ننی منی مذھبی پارٹیوں کی طرح مولانا فضل الرحمن صاحب کی سیاسی مجبوری نہیں ۔ دوسرا مولانا صاحب ایم ایم اے کی 70 سیٹوں کے لیے نہیں بلکہ عاملی سازشوں سے ملک اور قوم کو بچانے کے لیے اس اتحاد میں شامل ہورہے ہیں ۔
تیسرا ۔ ملی مسلم لیگ کو جمیعت ف کی طرف سے صاف لفظوں میں اُسی دن کہہ دیا گیا تھا جس دن وہ حافظ سعید کا پیغام لیکر جمیعت علماء اسلام ف کے لوگوں سے ملے کہ حافظ صاحب کی خوائش ہے کہ مولانا ہماری جماعت کی سیاسی رہنمائی فرمائیں جس پر انھیں جواب ملا کہ پہلے آپ لوگ سیاسی جماعت بن کر آئیں ۔ جس کے بعد ہی ملی مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی لاھور الیکشن میں آزاد لڑ بھی لیے لیکن الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کی فرمائش اور ان کی انٹرنیشنل بدنامی کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی رجسٹر کرنے ان کی درخواست رد کردی ۔ یہ فلحال تو متحدہ مجلس عمل کا ظاہری حصہ بنتے نظر نہیں آتے ۔
دوسری گالیوں سے شہرت پانے والی جماعت جن سے انکے اپنے سنجیدہ اور پارسا لوگ بھی پریشان ہیں انکی قسمت مجھے اگلے کچھ عرصے میں مجھے چمکدار نظر آرہی ہے۔
کیونکہ قادیانی والا مسلہ چل رہا ہے اور ربیع اول آگیا ۔
خیر چھوڑیں بس یہ بات زھن سے نکال دیں کہ متحدہ مجلس عمل مولانا فضل الرحمن کی کوئی ذاتی مجبوری ہے کیونکہ 70 اسی سیٹوں سے اتحاد تو ہوسکتا ہے حکومت نہیں بنائی جاسکتی ، اتحاد میں تو مولانا صاحب پہلے ہیں موجود ہیں ۔ یہ وقت اور حالات کی ڈیمانڈ ہے ۔ غوری نامہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں