12 2

مذہبی جماعتوں کا نیا اتحاد بن سکے گا؟

12
پاکستان میں آئندہ برس ہونے والے عام انتخابات کا وقت قریب آتے ہی ملک میں سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز ہو گیا ہے۔لاہور میں جماعتِ اسلامی کے ہیڈ کوراٹر منصورہ میں جمعرات کو ماضی کے مذہبی سیاسی اتحاد متحدہ مجلسِ عمل میں شامل چھ بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے ایک اجلاس کے بعد اس سیاسی اتحاد کو دوبارہ بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا جس کا باضابطہ اعلان آئندہ ماہ کراچی میں کیا جائے گا۔
سنہ 2002 کے عام انتخابات سے پہلے وجود میں آنے والی متحدہ مجلسِ عمل نے ان انتخابات میں نہ صرف قومی اسمبلی میں 40 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہو گئی تھی۔
چھ جماعتی اتحاد کی اس کامیابی میں زیادہ تر حصہ جماعتِ اسلامی اور جمیعتِ علما اسلام (ف) کا تھا جن کے طرزِسیاست کے لیے اس وقت کے ملکی حالات انتہائی موزوں تھے۔
سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو اقتدار سنبھالے تین برس ہو چکے تھے اور ملک کی دو بڑی جماعتوں کی قیادت ملک بدر کر دی گئی تھی۔ دوسری جانب امریکہ افغانستان پر حملہ کر چکا تھا۔ ایسی فضا میں مذہبی جماعتوں کے اسلامی اتحاد کے پیغام کو خاصی حمایت ملی۔
تاہم موجودہ حالات اس سے کہیں مختلف ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی سود مند ثابت ہوگی؟ خصوصاٌ اس وقت جب اس میں شامل دو بڑی جماعتیں جماعتِ اسلامی اور جمیعتِ علما اسلام (ف) گذشتہ تقریباً پانچ سالوں سے ملک کی دو بڑی حریف جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کیے ہوئے ہیں۔
سراج الحق جماعتِ اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت میں پاکستان تحریکِ انصاف جبکہ جے یو آئی ایف مرکز میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایتی ہے۔ کیا اب وہ پانچ سالہ پرانے ان سیاسی اتحاد کو خیرباد کہہ دیں گے؟
دونوں جماعتوں کے رہنما اس حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی ایف کے رہنما اور سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ان دونوں جماعتوں کے موجودہ اتحاد ختم ہو جائیں گے۔
‘جب متحدہ مجلسِ عمل کے اتحاد کا باضابطہ اعلان ہو گا تو اس کے بعد ہم اپنے (موجودہ) اتحادیوں سے یہ کہہ سکیں گے کہ چونکہ اب ہمارا ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل پا چکا ہے تو اب ہمارے فیصلے اس پلیٹ فارم سے ہوں گے۔ اب یہ ممکن نہیں ہو گا کہ ہم آپ کے ساتھ رہیں اور آپ کے فیصلوں کو بھی مانیں اور اپنے (نئے) اتحادیوں کے فیصلوں پر بھی عمل کریں۔ دو کشتیوں میں پاؤں نہیں رکھے جا سکتے۔’
مولانا عبدالغفور حیدری گذشتہ کچھ عرصے سے ذاتی طور پر متحدہ مجلسِ عمل کی بحالی کے لیے کوشاں تھے اور حالیہ اعلان سے قبل ان کی جماعتِ اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کے سربراہان سے متعدد ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی اتحادی سے بلا جواز یا لڑ جھگڑ کر علیحدٰہ ہونا بھی مناسب نہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کے موجودہ اتحادی ان کے نئے اتحاد کی تشکیل کے بعد ان کی مجبوری کو سمجھ پائیں گے۔
جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں جماعتوں کے موجودہ اتحاد چھوڑنے، اس کے وقت اور طریقۂ کار کے حوالے سے تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔دوسری جانب جے یو آئی ایف کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے جمعے کو وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف سمیت چند دینی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے شہباز شریف کے اس موقف کی تائید کی کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں۔
بنیادی طور پر چھ جماعتوں کے سیاسی اتحاد کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ نئے اتحاد میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ جو دینی جماعتیں انتخابات میں حصہ لینا چاہیں ان کو مسلک کی تفریق کیے بغیر شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔جماعت الدعوۃ کے ایک عہدیدار کے مطابق متحدہ مجلسِ عمل کے بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے اوائل میں ان کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دینے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ طے یہ پایا تھا کہ اتحاد کا باضابطہ اعلان ہونے تک انتظار کیا جائے گا۔یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تاحال باضابطہ طور پر ملی مسلم لیگ کا سیاسی جماعت کے طور پر اندارج نہیں کیا ہے۔ملی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کو تاحال اتحاد میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملی مسلم لیگ کو اتحاد میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔’وہ تو ابھی تک رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ جب رجسٹرڈ ہو جائے گی تو اس کو دعوت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ مشترکہ فورم ہی سے کیا جائے گا۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں