KARACHI, PAKISTAN, NOV 19: Activists of Tehreek Labaik Ya Rasool Allah holding protest 
M.A Jinnah Road in Karachi against Election Reforms Bill -2017, on Sunday, November 19, 
2017. (S.Imran Ali/PPI Images). 34

اسلام آباد دھرنا

( تحریر نعمان محمود
ختم نبوت کے نام پر گذشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصہ سے اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت کے رہنماء اور کارکنان ایک اہم شاہراہ کے درمیان دھرنا دئیے ہوئے براجمان ہیں۔ یوں تو ختم نبوت کا مسئلہ ہمیشہ سے ہی پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ رہا ہے اور جب بھی کسی کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو قوم کو مشتعل کرکے سڑکوں پر لانے کیلئے رحمت العالمین صل الله علیہ وسلم کا نام استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسطرح جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان ملک کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں، ناموس رسالت داخلہ پالیسی کا جزو اعظم ہے۔ ناموس کے شتر بے مہار کا جس طرف چاہیں رخ موڑ کر ہر چیز کو تہس نہس کردیا جاتا ہے۔ اگرچہ نشانہ ہمیشہ مختلف رہا ہے لیکن نام احمدیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اسوقت بھی اسلام آباد میں لبیک یارسول الله تحریک کے کارکنان، رسول الله صل الله علیہ وسلم کے ہی مقرر فرموہ “ راستوں کے حق” کو اپنے پیروں تلے روند کر عین ایک بڑی شاہراہ کے درمیان بیٹھ کر منافقانہ طور پر رسول الله صل الله علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت کا اظہار کررہے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ خدا اور اسکے رسول الله صل الله علیہ وسلم کے کن کن احکامات کی نافرمانی کرکے اس تحریک کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔
۱- سب پہلے تو جیسے میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ رسول الله صل الله علیہ وسلم کے راستوں پر بیٹھنے سے ممانعت کے فرمان کو پیروں تلے روند دیا گیا ہے۔ رسول الله صل الله علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ “ ایاکم و الجلوس فی الطرقات” یعنی تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ اگر انسان کے دل میں رسول الله صل الله علیہ وسلم کی حقیقی محبت ہو اور یہ محض ایک دکھاوا نہ ہو تو پھر صرف یہ مختصر حکم ہی دھرنا ختم کرنے کیلئے کسی بھی عدالتی یا سرکاری حکم نامے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
۲- اس دھرنے کے دوران جو غلیظ اور بازاری زبان اپنے مخالفین کےلئے استعمال کی جارہی ہے وہ بھی قران کے حکم “ قولو للناس حسنا” کے صریحاً مخالف ہے۔ رسول الله صل الله علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک بھی واقعہ ایسا نظر نہیں آتا کہ آپ صل الله عليه وصلعم نے مخالفین کے بارے میں ایسی زبان استعمال کی ہو۔ یہاں پر ملاں کہہ سکتا ہے کہ چوں کہ رسول الله صل الله علیہ وسلم کی ناموس اور محبت کا تقاضا ہے اسلئے ہم ایسی زبان استعمال کرنے پر مجبور ہیں تو یاد رہے کہ رسول الله صل الله علیہ وسلم کے سامنے بھی آپ کے محبوب حقیقی یعنی خدا تعالی کی توہین کی جاتی تھی لیکن اس محبت کے نتیجے میں آپ صل الله عليه وصلعم نے کبھی خداتعالی کے احکامات کو پس پشت نہیں ڈالا تھا جسطرح یہ دھرنا گروپ کررہا ہے۔
۳- اس دھرنے کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ وزیر قانون کو برطرف کیا جائے جس نے انتخابی اصلاحات میں ترمیم کی سفارش کی تھی۔ وزیر موصوف نے نہ صرف اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے بلکہ غیر مشروط معافی بھی مانگی ہے بلکہ وزیر داخلہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ “ ہم نے قیامت تک کیلئے ختم نبوت کا مسئلہ حل کردیا ہے” اس لطیفہ پرپھر کسی وقت بحث کریں گے لیکن اسوقت موضوع بحث دھرنا شرکاء کااسلام مخالف رویہ ہے۔
مولوی خادم رضوی نے اس معافی پربھی ایک بھونڈا استدلال دیا ہے کہ اگر ایک چور پکڑا جائے اور اس سے چوری شدہ رقم برآمد ہوجائے تو معافی مانگنے پر کیا اس کو معاف کردیا جاتا ہے یا پھر جیل بھیجا جاتا ہے؟
یہاں پر بھی یہ لوگ ایک اسلامی اصول کی صریح مخالفت کررہے ہیں۔ حدیث میں لکھا ہے کہ “ التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ” یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اسنے گناہ کیا ہی نہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول الله صل الله علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کےقاتلوں کیساتھ کیا سلوک فرمایا؟ قیامت کے دن جب الله تعالی چوروں کو معاف فرمائے گا تو کیا پہلے انکو جہنم بھی بھیجے گا؟
حقیقت یہی ہے کہ ان دھرنوں اور جلسوں کا مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ ملک کی داخلی پالیسی کا ایک ہتھیار ہے جسے جب چاہیں اور جس کے خلاف چاہیں استعمال کرتے ہیں۔ ٹارگٹ بدلتا رہتا ہے لیکن بندوق چلانے کیلئے کندھا ہمیشہ جماعت احمدیہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دھرنا شرکاء کو تو صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ
سر آئینہ تیرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
مذہب کے نام پر اکٹھے ہونے والوں ، اللہ اور اسکے رسول کےفرمان کا کفر کرنے والوں کو تو صرف اس قرانی آیت سے ہی تنبھیہ کی جاسکتی ہے
“ ذالک جزاوھم جہنم بما کفروا واتخذوا آیتی ورسلی ھزوا “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں