2 23

فوج آخری نجات دہندہ؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 20 دنوں سے زائد جاری رہنے والے دھرنا فوج کی ثالثی میں حکومت اور تحرک لبیک یارسول اللہ کے درمیان معاہدے پر اختتام پذیر ہوا، اس دھرنے کوختم کرانے کے لیے حکومت، عدلیہ اور فوج کا کردار تو نظر آتا ہے لیکن پاکستان میں موجود سیاسی اور مذہبی جماعتوں کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔
قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد اور تجزیہ نگار پرویز ہود بائی کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں زیادہ تر خاموش رہی ہیں۔ تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔ بجائے اس کے کہ وہ دھرنے والوں پر اعتراض کرتے، انھوں نے صرف مسلم لیگ ن کو نشانہ بنایا۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم لیگ ن کمزور پڑ گئی، اور اسٹیبلشمنٹ کی جیت ہوئی ہے، اور خادم حسین رضوی کی تحریک کو تقویت پہنچی۔’تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ یہ حساس معاملات ہوتے ہیں اس میں سیاسی جماعتوں کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
‘جو لوگ احتجاج کر رہے تھے ان کی شروع سے مانگ تھی کہ زاہد حامد استعفیٰ دیں، حالات کی بہتری کے لیے ضروری تھا کہ وہ مستعفی ہوجاتے اور صورتحال ڈفیوز ہوجاتی۔ اس میں سیاسی جماعتوں کا کوئی کردار نہیں تھا، اگر ہوتا تو جس طرح احسن اقبال الزامات عائد کر رہے تھے کہ فلاں سیاسی جماعت اس دھرنے کے پیچھے ہے، وہ بات سامنے آجاتی ہے۔’
پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف بھی تحریک انصاف سے ملتا جلتا ہی نظر آتا ہے۔ سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کہتے ہیں کہ حکومت نے یہ کوتاہی برتی کہ جب یہ لوگ لاہور سے چلے تھے اس وقت کوئی انتظامات نہیں کیے اور جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نہیں آیا اس وقت تک مذاکرات کا اہتمام کیا اور نہ ہی جن شہریوں کو تکلیف پہنچ رہی تھی ان کے ازالے کے لیے کچھ کیا۔
‘جب یہ معاملہ حساس نوعیت کا بن گیا یا بنا دیا گیا تھا تو حکومت کے لیے ضروری تھا کہ وہ پارلیمان کے سامنے تمام چیزوں کو رکھتی کیونکہ جس حلف نامے میں ترمیم کی بات کی جا رہی تھی اس کو پارلیمان درست کر چکی تھی، لیکن اس پورے معاملے میں حکومت کہیں نظر نہیں آئی، ایک سیاسی جماعت جو کسی ایک ایسے ایشو پر احتجاج کر رہی ہو جو حساس ہو دوسری جماعتوں نے براہ راست اس میں شامل ہونے کو درست نہیں سمجھا، اگر کوئی دوسرا احتجاج ہوتا تو ہم شاید ثالثی کرتے لیکن اس میں کافی مشکل ہو رہی تھی۔’
پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے، سعید غنی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ حکومت نے فیض آباد دھرنے کے مسئلے پر ان کا ساتھ نہیں مانگا تھا۔
‘حکومت اگر مدد چاہ بھی رہی ہے تو وہ اور مسئلے ہیں، جیسے پارلیمان میں انھیں مشکل پیش آ رہی ہے، نواز شریف پر جو مقدمات ہیں انھیں اس میں دشواری کا سامنا ہے لیکن دھرنے کے حوالے سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی تھی۔’
تجزیہ نگار اور سینئر صحافی اویس توحید کا کہنا ہے کہ ‘سیاسی جماعتیں یہ تفریق اور تمیز کرنا بھول گئیں کہ یہ معاملہ حکومت یا مسلم لیگ ن کا نہیں بلکہ معاملہ ریاست کا تھا کیونکہ انتہا پسند جتھے نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا تھا۔ تحریک انصاف ہو یا جے یو آئی فضل الرحمان، انھوں نے یہ تفریق کہیں چھوڑ دی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں لگ گئے، وہ یہ بھول گئے کہ آج مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے گھروں پر حملہ ہوا ہے کل ان کے گھروں پر بھی حملہ ہو سکتا ہے اگر انھیں فوجیوں کی کوئی بات پسند نہیں آئی تو ان کے گھروں پر بھی حملے ہوں گے۔’
اویس توحید سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ انتظامی طور پر طے ہونا تھا لیکن یہ عدالت میں پہنچا، اس کے بعد پھر فوج کی مداخلت ہوئی اس سے مزید بگاڑ پیدا بوا۔ ‘مسلم لیگ حکومت اور انتہا پسند گروپ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے وہ ریاست کی ناکامی ہے جس سے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا، فوج کا بیان بھی مناسب نہیں تھا اس نے حکومت اور انتہا پسند جتھے کو ایک جگہ لاکر کھڑا کر دیا۔’
تجزیہ نگار اور سینیئر صحافی بابر ایاز کا کہنا ہے کہ اس پورے کھیل میں دو فریقین کو فائدہ ہوا ہے ایک بریلوی مسلک کا پاکستان کی سیاست میں دوبارہ ابھار اور دوسرا بطور آخری نجات دہندہ فوج کے امیج کی مزید مضبوطی۔’فوج نے یہ کہا کہ وہ اس میں نہیں پڑنا چاہتے لیکن انھوں نے رینجرز کے میجر جنرل کو مقرر کر دیا کہ وہ جا کر بات کریں اور یوں فوج کے کہنے پر یہ معاہدہ ہو گیا، جس سے فوج کا امیج بڑھا ہے کہ دیکھو صاحب آرمی نے کتنا مشکل مسئلہ حل کر دیا، جس میں لگتا تھا کہ سول حکومت کی بڑی ناکامی ہوئی ہے۔ حالانکہ مظاہرین انھی مطالبات پر راضی ہو گئے جن کو ماننے کے لیے حکومت پہلے ہی تیار تھی۔ حکومت نے کہا تھا کہ زاہد حامد کا استعفیٰ بھی ہو سکتا ہے لیکن اس وقت انھوں نے کہا کہ نہیں ہم تو کابینہ کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔’
اسلام آباد دھرنے کے دوران متنازع تقاریر بھی کی گئیں اور ہنگامہ آرائی کے واقعات بھی پیش آئے، تجزیہ نگار پرویز ہود بائی کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان غیر موثر ہو رہے گیا ہے، دھرنے کے یہ لوگ ایکدم اکٹھے نہیں ہوئے تھے انھیں کئی دن لگ گئے تھے، اور اس وقت اگر ان کے خلاف ایکشن ہوتا تو وہ اتنی مصیبت نہ ڈالتے۔
‘جب حکومت نے ایکشن لینے کا فیصلہ کیا تو آئی ایس پی آر کا بیان آ گیا کہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہونا چاہیے، ہم اس میں آپ کی کوئی مدد نہیں کریں گے، اگر کریں گے تو شرائط کے تحت ہو گی، اس کی وجہ سے احتجاج کرنے والوں میں ایک جوش پیدا ہو گیا اور انھیں یقین ہو گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے۔’
بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں