nazir-nasir 31

اخلاق باختہ فرقہ واریت کے نام

اخلاق باختہ فرقہ واریت کے نام
زاہد ندیم
خادم حسین رضوی صاحب سے بصد احترام عرض ہے کہ ہم تمام فقہی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ آپ نے ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے حساس ایشوز پر قوم کی سوئی ہوئی دینی غیرت بیدارکی ہے۔ لہذا ہر دین دوست شخص اور مذہبی طبقات نے ان کے اس مقدس مشن سے اظہار یک جہتی کیلئے آپ کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کی ہے۔ سو اگر آپ نے تحفظ ختم نبوت کو زندہ رکھنے کے حوالے ایک سنہری تاریخ رقم کی ہے تو آپ اپنی اس کاوش کے خوش اثرات اور لوگوں کے دلوں میں بنائے مقام کی خوشگواری ضائع مت کریں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ تحریک ختم نبوت کے محاذ پر قوم کو سرگرم و متحرک رکھنے والے صف اول کے مجاہدوں، علمائے دیوبند کیخلاگ ہرزاسرائی سے ختم نبوت کی کاز کو کون سا فائدہ پہنچا رہے ہیں ؟
افسوس کہ پیر آف گولڑہ غلام نظام الدین جامی تحریک لبیک پاکستان کے سٹیج سے یہ لغو بیانی کرتا ہے کہ دیوبندیوں نے ہی قادیانیوں کو راستہ دکھایا۔ آن دی ریکارڈ حقائق ہیں کہ حالیہ دھرنے میں ختم نبوت کے صف اول کے سپاہیوں، علماء دیوبند کو برا بھلا کہا گیا ہے۔ تحذیر الناس کی آڑ میں حجتہ السلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ کو گالیاں دی گئی ہیں ۔ انتہائی افسوس ہے کہ ہمیشہ آپ لوگوں نے تعصب جہالت کا سہارا لیکر اکابرین کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا ہے۔ احمد رضا خان بریلوی کی حسام الحرمين سے لیکر اسلام آباد کے دھرنے تک آپ لوگوں نے جہالت اور فتنہ خیزی سے کام لیتے ہوئے عوام الناس کو گمراہ در گرراہ کیا ہے۔ سو کیا کہنا غلط ہو گا کہ آپ لوگوں نے ہمیشہ ہی فرقہ واریت اور مسلکی تعصب کو ہوا دی ہے۔ ناموس سالت کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا کر عشق رسالت کی آڑ میں عاشقان نبوت کے خلاف زبان درازی کرنا شرمناک ہے۔
خدارا تعصب کی عنیک اتاریں اور اکابرینِ تحریک ختم نبوت اور علماء دیوبند کو برا بھلا کہنے سے پہلے خود آپ اپنے بزرگوں کی کتابیں دیکھیں تو ان حقائق کو جان سکیں گے۔ یاد رہے کہ تاریخ مشائخ چشتیہ صفحہ نمبر 813 ۔814 کے مطابق پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ کو فتنہ قادیانیت کی جہد پر کھڑا کرنے والے مرد مجاہد بانی دارالعلوم دیوبند حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ دیوبندی تھے
شاید آپ بھول گئے جب 1974 میں علامہ شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ نے یہ انکشاف کیا تھا کے قادیانی حضرات پیسے دیکر بریلویت کے منہ کوتالا لگا رہے تھے۔ اور دوسری طرف ایک مرد قلندر مفتی محمود اپنے مسلک کی نہیں ترجمانی امت کا فرض ادا کرتے ہوئے مرزائیت کو پارلیمنٹ میں گھسیٹ رہے تھے۔ مولانا شاہ احمد نورانی سمیت دوسرے مکاتب فکر کے علما کو متحد و یک جان کر کے قادیانیوں کو پارلیمنٹ سے کافر قرار دلوانے والے مفتی محمود دیوبندی ہی تھے۔ جو اس امر کی دلیل ہے کہ علمائے دیوبند محاذِ تحفظ ختم نبوت پر فرقہ واریت نہیں بلکہ اتحاد امت کے داعی رہے ہیں۔
ہم سے ہمارے عقیدے کی وضاحتیں طلب کرنے والے یہ بتائیں کہ آپ نے منبر رسول اور اجتماعات میں بازاری گالیوں کے سوا اور کیا کیا۔ آپ لوگوں نے ہی پیر مہرعلی شاہ رحمہ اللہ کی علمائے دیوبند کے ساتھ ہم آواز ہو کر ختم نبوت کا کام کرنے کی وجہ سے دیوبندی کہہ کر مخالفت کی تھی۔ اب بھی ترمیم کا مسئلہ آیا تو پارلیمنٹ میں بیٹھے دیوبندیوں نے ہی اسے حل کروایا۔

جناب رضوی صاحب آپ علمائے دیوبند کی سنہری تاریخ اور ان کے ملی کردار کو پڑھیں ان کی تاریخی کارناموں کا تفصیلی مطالعہ فرمائیں تو آپ کو ہر میدان میں آپ علماء دیوبند نظر ائیں گے ۔ آپ‏‏1857 کی انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والا مرد مجاہد دیکھیں تو تحریک آزادی میں علماء اور مجاہدین کی قیادت کرنے والا اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ علماء کے مرشد کا لقب پانے والا حاجی امداداللہ مہاجر مکی دیوبندی نظر آئے گا۔ برصغیر میں شرک و بدعت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں توحید و سنت کی روشنی اور علم کا علم لہرانے والا بانی دارالعلوم دیوبند قاسم نانوتوی دیوبندی نظر انداز نہیں ہو سکے گا۔
‏انگریز کے جابرانہ اقتدار کے خلاف حضرت نانوتوی کی قیادت میں پہلی عسکری کاروائی کے دوران شہید ہونے والا پہلا مجاہد حافظ محمد ضامن دیوبندی نظر ائے گا۔ کون انکار کر سکتا ہے کہ کفر و دجل اور عیسائیت کا سرخم کرنے والا فقہیہ امت رشید احمد گنگوہی بھی دیوبندی عالم تھا۔ انگریز غاصبوں کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کرنے والا ریشمی رومال تحریک کا قائد بھی گلستان دیوبند کا پہلا پھول حضرت شیخ الہند محمود حسن تھا۔ وطن سے بہت دور جزیره مالٹا میں طویل مدت تک پس دیوار زنداں رہنے والے کالا پانی کے اسیر شیخ الہند حسین احمد مدنی اور مولانا عزیز گل جیسے کئی دیوبندی تاریخ کے ماتھے پر چمکتے نظر ائیں گے۔
عقائد و نظریات اسلامی کے مقابلے میں کفر و شرک کو مات دینے والا مولانا خلیل احمد سہارنپوری بھی دیوبندی بھی تھا اور ‏رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور کی دیوار کے سائے میں اٹھارہ سال تک احادیث شریف پڑھانے والا جید عالم بھی سیدنا حسین احمد مدنی بھی مکتبہٗ دیوبند سے منسلک نظر ائے گا۔ امت کی صراط مستقیم پر رہنمائی کے لیے تصانیف کے انبار لگانے والا حکیم الامت اشرف علی تھانوی بھی مسلک ِ دیوبند میں نظر ائے گا اور ‏ختم نبوت کے منکر جھوٹےمدعی نبوت مرزا قادیانی کوذلیل و رسوا کرکے اس کے کفر کو عام کرنے والا انور شاہ کاشمیری بھی دیوبند تحریک سے جڑا نظر ائے گا۔
یاد رہے کہ تحریک ختم نبوت میں لاہور کی سڑکوں پر دس ہزار جانیں قربان کرنے والے مسلمانوں کی قیادت کرنے والا امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری بھی اسی خانوادہٗ دیوبندی سے تعلق رکھتا تھا۔ زندہ حقیقت ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر خلافتِ راشدہ کا نمونہ پیش کرنے والا ملا عمر جیسا مجاہد بھی دیوبندی ہی تھا اور اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہچانے والی تبلیغی جماعت کا بانی مولانا الیاس بھی دیوبندی ہی نظر ائے گا۔ مسلکی تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں گے تو فضائل اعمال لکھ کر عام مسلمانوں میں نیک اعمال کی رغبت پیدا کرنے والا شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی نظر ائے گا اور قومی اسمبلی میں قادیانیت کے خلاف معرکتہ آراء مقدمہ لڑ کر سرخرو ہونے والا مفتی محمود دیوبندی نظر ائے گا۔
اتحاد ملت کی دشمن رافضیت کے کفر کو برسرِعام برہنہ کرنے والا حق نواز جھنگوی بھی دیوبندی نظر آئے گا اور آج اپنے اسلاف کے طرز عمل اور ان کی فکر و بصیرت کو لے کر اور ان کے نقشِ پر چل کر علماء کرام کی جماعت جمعیت علماء کی قیادت کرنے والا اور ختم نبوت کے بل کو بحال کرانے والا قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن دیوبندی نظر ائے گا۔۔۔۔
محترم رضوی صاحب ہم تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے حوالے سے آپ کے تمام جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں مگر اپنے بے لگام اور فحش کلام بلوائیوں کو بتا دیجئے، اپنے ان اخلاق باختہ اور زبان دراز مقررین پر واضع کر دیجئے کہ آپ لوگ دھرنے میں ناچیں گائیں یا گالیاں دیں ، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ لیکن جہد ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے علما حق اور اکابرین جہد ختم نبوت کے خلاف ہرزاسرائیاں ، فرقہ واریت اور گالم گلوچ ہرگز ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں