12 22

سعودی صاحب خیر نے” نیکی کر دریا میں ڈال” کی عملی تفسیر پیش کر دی

سعودی عرب میں ایک نامعلوم صاحب خیر نے 35 لاکھ ریال مالیت کے قرضے جیب خاص سے ادا کر کے 79 قیدیوں کو رہائی دلوا دی۔ شہر مکہ مکرمہ جیل خانہ جات کی انتظامیہ نے کا کہنا ہے کہ قرض ادائیگی کے لئے رقم فراہم کرنے والے سعودی صاحب خیر نے اپنا نام اور شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔یاد رہے کہ قرضے ادا نہ کر پانے کی وجہ سے 79 مقامی شہری جیل میں قید وبند کی زندگی گزار رہے تھے۔ رہائی کے سلسلے میں انسانی حقوق کی قومی انجمن کے نگران سلیمان الزایدی انجمن کے قانونی اسکالر عبداللہ ماہر بن فاضل اور الایتام فلاحی انجمن کے ڈائریکٹر جنرل رداد الثمالی نے اہم کردار اد ا کیا۔ادھر محکمہ جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر کرنل صالح القحطانی نے بتایا کہ مکہ اصلاح خانے میں حقوق ادا نہ کرنے کے باعث زیر حراست افراد کے ساتھ بھی انتہائی انسانیت نواز معاملہ کیا جا رہا ہے۔ القحطانی نے کہا کہ محکمہ جیل خانہ جات کا نصب العین قیدیوں کی اصلاح اور انہیں معاشرے کا صالح فرد بنانا ہے۔کرنل القحطانی کے بقول کوشش کی جاتی ہے کہ قیدی رہائی پا کر نہ صرف یہ کہ اپنی مدد آپ کرے بلکہ دوسروں کا بھی سہارا بنے۔ اصلاح خانے کے عہدیدار اس سلسلے میں اپنا فرض احسن طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں