4 10

تیل اور ڈیزل پر چلنے والے کئی پاور پلانٹس بند

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی ہدایت پر تیل اور ڈیزل پرچلنے والے 4250 میگا واٹ کے پاور پلانٹس بند کر دیے گئے ہیں جب کہ پانی سے بجلی کی پیداوار بھی کم ہو گئی ہے جس سے لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں اضا فے کا خدشہ ہے ،پاور ڈویژن کی جانب سے این پی سی سی کو 72 گھنٹو ں کے لیے لوڈ شیڈنگ کا ہنگامی پلان تیار کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔پاور ڈویڑ ن کے ترجمان کے مطابق فرنس آئل اور ڈیزل پر چلنے والے 4250 میگاواٹ کے تمام مہنگے پاور پلانٹس بند کر دیے گئے ہیں، جس سے لوڈ شیڈنگ میں اضافے کا خدشہ ہے بند ہونے والے پلانٹس میں 950 میگا واٹ کا حبکو اور 1000 میگاواٹ کا مظفر گڑھ پاور پلانٹ 400 میگا واٹ کا جامشورو اور 700 میگاواٹ کا کیپکو پاور پلانٹ شامل ہیں صوبوں کی ڈیمانڈ کے مطابق ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کی بدولت پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیدوار کم ہو گئی ہے اور ہائیڈل 7 ہزار میگاواٹ سے کم ہو کر 2700 میگاواٹ تک رہ گئی ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ سوئی نادرن نے 3 سے 7 نومبر تک مرمتی کاموں کی وجہ سے 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی سپلائی کم کر دی ہے گیس میں کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار 500 میگاواٹ کم ہو گئی ہے پاور ڈویڑن کے ترجمان کے مطابق مذکورہ عوامل کی وجہ سے ملک میں بجلی کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بجلی کی تقسیم کا نظام کچھ عرصے کے لیے متاثر ہو گا۔ ترجمان کے مطابق دھند سے چشمہ کے تمام جوہری پاور پلانٹس بند ہو گئے ہیں اور جوہری پاور پلانٹس کی بحالی کے لیے کام جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں