nazir-sabir 10

حوثی باغیوں کے حملے میں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت کی اطلاعات

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثی باغیوں نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے گھر کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں ان کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔یمنی باغیوں کی خود ساختہ حکومت نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر علی عبداللہ صالح کی لاش دکھائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کی ہلاکت کے بعد بحران کا خاتمہ ہوگیا۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں اور حوثی باغیوں کے درمیان گزشتہ ہفتے اتحاد ٹوٹ گیا تھا اور دونوں گروپس آپس میں برسرپیکار ہوگئے تھے جبکہ علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عرب عسکری اتحاد کو مذاکرات کی بھی پیشکش کی تھی۔
اب یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حوثی باغیوں نے صنعاء میں واقع علی عبداللہ صالح کے گھر کو دھماکے سے اڑادیا ہے تاہم یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ وہ گھر پر موجود تھے یا نہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر خبریں گردش کررہی تھیں کہ اس حملے کے نتیجے میں علی عبداللہ صالح جاں بحق ہوگئے ہیں تاہم ان کی سیاسی پارٹی جنرلز پیپلز کانگریس نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے۔علی عبداللہ صالح کے قریبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ حملے میں صالح کے سیکیورٹی سربراہ حسین الحامدی ہلاک ہوگئے ہیں۔قبل ازیں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء کے زیادہ تر حصے کا کنٹرول صالح کی فورسز سے چھین لیا ہے اور مختلف علاقوں میں دونوں گروپس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یمن کے بین الاقوامی طور تسلیم شدہ صدر منصور ہادی نے علی عبداللہ صالح کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد دارالحکومت صنعاء کو حوثی باغیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔یمنی حکومت کے مطابق آپریشن کے دوران ان تمام لوگوں کو تحفظ حاصل ہوگا جو خود کو حوثی باغیوں سے علیحدہ کرلیں گے۔اس آپریشن کا نام ’’آپریشن عریبیئن صنعاء‘‘ رکھا گیا ہے اور منصور ہادی اس حوالے سے جلد مزید تفصیلات کا اعلان کریں گے۔حکومتی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں حوثی باغیوں کی معاونت کرنے والے افراد کو بھی رعایت دی جائے گی اگر وہ خود کو باغیوں سے علیحدہ کرلیں۔یاد رہے کہ دو روز قبل ہی علی عبداللہ صالح نے ملک کو خانہ جنگی کی دلدل سے نکالنے کے لیے سعودی سربراہی میں قائم ہونے والے عسکری اتحاد کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔عبداللہ صالح نے سعودی عرب کی سربراہی میں یمنی صدر منصور ہادی کی مدد کے لیے قائم ہونے والے عسکری اتحاد کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عسکری اتحاد شمالی یمن میں ناکہ بندیاں ختم کرنے اور اپنے حملے روکنے کے لیے تیار ہے تو وہ بھی پرانی باتوں کو بھول کر نئی شروعات کرنے کے لیے تیار ہیں۔عبداللہ صالح کے اس اقدام کی حوثی باغیوں نے پیٹ پر چھرا مارنے کے مترادف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے غداری کی۔صالح کی فورسز نے حوثی باغیوں پر صنعاء کی مرکزی مسجد پر دھاوا بولنے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد دونوں گروپس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں