Donald Trump 78

ُپاکستان کےلئے ڈومور کا نیا ایڈیشن

پاکستان امریکہ تعلقات میں ’ڈو مور‘ کا نیا ایڈیشن جو آج تک چل رہا
افغانستان میں بین الاقوامی سیاست اور ترجیحات سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ 2001 میں امریکی آمد کے بعد سے بعض ایسی چیزیں ہیں جو تبدیل نہیں ہو رہیں۔اس تکونی صورتحال کو اگر افغانستان کے ’مستقل اشاریہ‘ کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہو گا۔پاکستان: امریکی افواج کی موجودگی کے باوجود افغان سرزمین کا اس کے خلاف استعمال ہو رہا ہے لہٰذا افغان طالبان کی مدد تینوں فریق اس صورتحال میں ایک دوسرے کو اس مستقل پہلو یا ’ڈو مور‘ کرنے کو کہہ رہے ہیں لیکن کوئی بھی اپنی پوزیشن سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں ایک دوسرے سے ڈومور کا راگ سننے کو ملتا چلا آ رہا ہے۔
پاکستان امریکہ تعلقات پر ابتداء سے اگر نگاہ ڈالی جائے تو اسلام آباد نے تو تابع داری پہلے روز سے شروع کر رکھی تھی۔ سویت یونین کے خلاف اس وقت کی سرد جنگ میں سیٹو اور سینٹو کے زمانے سے امریکہ کی سیوا میں رہا ہے۔گرمجوشی اور بڑھی تو امریکہ بھی پھیلنے لگا اور اسے ’مزید کرنے‘ کا کہنے لگا۔ 1956 میں امریکہ نے پشاور میں ایک ہوائی اڈے کے استعمال کی درخواست دے دی۔ پاکستان نے وہ بھی مان لی اور بلاآخر بڈھابیر سے اڑان بھرنے والے جاسوس طیارے کا روسیوں نے استقبال کیا تو سب کو معلوم ہوا کہ پاکستان نے تو یہ بھی امریکہ کے لیے کیا ہے۔
بات جب1972 تک پہنچی تو امریکہ کے کہنے پر پاکستان نے صدر نکسن کے دورہ چین کا بھی انتظام کروا دیا۔ پھر جب پاکستان کی انڈیا کے ساتھ جوہری دھماکوں کی دوڑ شروع ہوئی تو امریکہ نے پاکستان کا ساتھ دینے کی بجائے اس پر پریسلر ترمیم کے ذریعے اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ کبھی خوشی اور کبھی غم کی حالت میں دونوں ممالک کے تعلقات اسی طرح چلتے رہے۔
لیکن پھر سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ پاکستان نے سویت یونین کو تو گرم پانیوں تک پہنچنے نہیں دیا لیکن اب چین کو خود گوادر کا راستہ دکھا رہا ہے۔ مجاہدین کی فتح تک پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے لیکن جب مشترکہ پراجیکٹ ’سویت یونین کی شکست‘ ختم ہوا تو اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے۔ یہی زمانہ ہے جب سے ’ڈو مور‘ کا نیا ایڈیشن سامنے آیا اور آج تک چل رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ڈو مور‘ کا بدنام جملہ تو استعمال نہیں کیا لیکن اپنی نئی حکمت عملی میں جنوبی ایشیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم پاکستان پر اس کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں تیزی لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لیے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی ہے۔’
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ کے ڈو مور کا تعلق محض افغانستان میں سرگرم طالبان یا حقانی نیٹ ورک تک محدود نہیں بلکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم شدت پسندوں کے خلاف بھی وہ مزید اقدامات چاہتا ہے۔
سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے لیے اصل مسئلہ القاعدہ نہیں تھا بلکہ افغان طالبان تھے اور آج بھی ہیں۔ وہ اس تاثر سے متفق نہیں کہ اگر پاکستان حقانی نیٹ ورک سے کہے کہ وہ افغانستان چلے جائیں تو وہ ایسا کر دیں گے۔’وہ صرف کہنے سے نہیں بلکہ چھڑی چلانے سے ہی جائیں گے۔ یہ امریکہ کو بھی معلوم ہیں۔‘
پاکستان اسی ملک کے اندر منفی ردعمل کے ممکنہ خوف کی وجہ سے بظاہر ایسا نہیں کر رہا ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کہہ چکے ہیں کہ پاکستان افغانستان کی دوسری جنگ پاکستان میں نہیں لڑنا چاہتا ہے۔لیکن اس کے علاوہ بڑا شدید خدشہ پاکستان کو افغانستان میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ ہے۔صدر ٹرمپ نے تازہ تقریر میں بھارت کو خطے میں بڑا سکیورٹی کردار دینے کی بات کرکے پاکستان کے خدشات کو تقویت دی ہے۔ جواب میں دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ کیوں امریکہ ایک ایسے ملک کو جو اقوام متحدہ کی قرادادیں نظر انداز کرتا ہے اور خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا موجد ہے بڑا کردار کیسے دے سکتا ہے۔اگر امریکہ بھارت کو علاقائی طاقت بناتا ہے تو کیا اس سے پاکستان افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کی مدد چھوڑنے پر دو بار سوچے گا نہیں؟
اس پر افغان امور کے سینیئر تجزیہ نگار طاہر خان اتفاق کرتے ہیں۔ ’میں نے حالیہ دنوں میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کا آڈیو بیان سنا ہے جس میں ان کا امریکی پالیسیوں اور اعلانات کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ غلط سوچ ہے اور اس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘
پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ اعلی سطح کے دوروں اور بیانات سے لگتا نہیں کہ دونوں کے درمیان افغانستان کی حد تک ایک پیج پر ہونے کے کوئی حوصلہ افزا اشارے ملتے ہیں۔طاہر خان کہتے ہیں کہ امریکہ اور افغانستان دونوں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر وقت دے رہے ہیں تاکہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز تک لائیں۔’دونوں پاکستان سے مذہبی اعتبار سے افغانستان میں جنگ کے خلاف فتوے اور طالبان کو بات چیت پر رضامند کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘پاکستان مری کی طرح انھیں ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز تک لا پاتا ہے یا نہیں یہ سوال کافی اہم ہے اور کیا اگر فریقین اپنی اپنی پوزیشنوں سے ہٹنے کو تیار نہیں تو مذاکرات کا کوئی فائدہ بھی ہے؟
ہارون رشید
بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں