imam 39

کے پی کے میں‌ائمہ کرام کی تنخواہیں اور تحفظات

تحریر:راشد حمزہ
سجد، منبر، محراب اور پیش امام ہمارے مقامات مقدسہ ہیں، ہمارے اسلامی معاشرے میں اسکی اہمیت جدید معاشرے کے سکول، ٹیچر، عدالت اور پولیس سٹیشن جتنی ہے بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی ہے، ہماری ریاست کو جب ان کی ضرورت پڑی ہے اپنے مفاد کی خاطر خوب استعمال کیا ہے، افغان جہاد میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح ریاست نے ان مقامات کا استعمال کیا ہے لیکن جب ضرورت پوری ہوگئی ہے تو ریاست نے ان کو دور پھینک کر اس طرح بھلادیا ہے جس طرح یہ ریاست کی حدود میں واقع ہی نہیں ــ
ریاست کے خود غرضی پر مبنی اس مزاج، نگرانی سے پہلو تہی اور غیر زمہ دارانہ رویے سے کئی قسم کی برائیاں بھی پیدا ہوگئی ہیں، ان میں سب سے بڑی برائی ان مقامات مقدسہ کا ریاست سے اجنبیت اور غیریت کا گہرا احساس ہے جو مایوسی کی شکل میں ڈھل گئی ہے، مایوسی اور محرومی کا یہ احساس ریاست کے اندر غیراعلانیہ ریاست کا بنیادی محرک بن گیا، اس احساس میں ایک طرف اپنے فنا کا خوف تو دوسری طرف باقی اور موثر رہنے کی کوشش شامل ہے ــ
ان مقامات مقدسہ میں احساس محرومی، موجود رہنے کی کوشش اور فنا کے خوف کی نفسی وجوہات کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرے کے اس غریب، پِسے ہوئے اور کمزور طبقے نے بھی ان مقامات کی طرف بڑی تعداد میں ہجرت کی جو احساس محرومی کا شکار تھے، ریاست پر غصہ اور کس قدر نالاں تھے، ان کی کوشش تھی کہ وہ ریاست کو اپنی اہمیت جتلائے یا مقامات مقدسہ کی آڑ میں اپنا بدلہ لے لیں،
ریاست اور مقامات مقدسہ کے درمیان اس باہمی چپقلش کے ہمارے عام معاشرے پر بہت برے اثرات مرتب ہوگئے، انھیں مقامات کی کوششوں سے ایک ایسا طبقہ تخلیق کیا گیا جنھوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور ہر اس شخص کو ریاست کا دلال اور کافر قرار دے کر واجب سزا ٹہرا دیا جو ریاست کے کسی شعبے سے وابستہ تھا ،ــــ
اس چپقلش باہمی ہی کی وجہ سے عام آدمی کا بہت نقصان ہوا ملک میں خون کی ندیاں بہہ گئیں، لاکھوں افراد کے اندرون ملک ہجرت کے واقعات بھی رونما ہوئے، ملک میں بدامنی کی لہر پھیل گئی، کسی کی جان و آبرو محفوظ نہیں رہی اور ملکی معشیت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوگئی،ـــ
ان بڑے واقعات کے بعد ریاست کو ان مقامات مقدسہ کو اپنا کر کڑی نگرانی میں لانا چاہئے تھا، اسے مکمل نظام کے ذریعے اپنی تحویل و گرفت میں لانا چاہئے تھا، پیش امام کو اتنی ہی اہمیت دینی چاہئے تھی جتنی سکول کے ٹیچر کو حاصل تھی، لیکن ریاست غفلت کا شکار رہی یا شاید اس نے ایسا کرنا ضروری نہیں سمجھاــ
البتہ اس حوالے سے پختونخواہ حکومت نے کوششیں شروع کردی ہیں، حکومت کی کوشش ہے کہ ان مقامات مقدسہ کو جسے ریاست اپنی حدود سے باہر تسلیم کرکے اپنی عملداری کے حق سے دستبردار ہوگئی تھی اب ریاستی عملداری میں لایا جائے اس سلسلے میں حکومت نے تیس ہزار مساجد کے آئمہ کرام کو ماہانہ دس ہزار وظیفہ جاری کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے،ـــ
پختونخواہ حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں کرنا چاہئے لیکن یہ تحفظات ضرور موجود ہیں کہ اگر صرف وظیفہ جاری ہوتا ہے مقامات مقدسہ کو ریاست کی تحویل میں نہیں لایا جاتا، اس کا کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا جاتا تو حکومت کی خلوص نیت پر مبنی یہ اقدام بھی رائیگاں جائے گا..(بشکریہ راشد حمزہ فیس بک پروفائل)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں