khateeb 125

افراد سازی میں امام وخطیب کا کردار

محمد ضیاء الحق نقشبندی
مسلم معاشرے میں امام و خطیب کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، کردار سازی میں امام وخطیب کا منصب مسلمہ ہے مجموعی طور پر دنیا بھر میں کروڑوں نمازی پانچ وقت جبکہ اربوں جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں، پاکستان میں لاکھوں نمازی پانچ وقت اور کروڑوں نمازی جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رخ کرتے ہیں۔ خطیب وہ ہیں جن کے بارے آپ ﷺ نے فرمایا ”اپنی قوم کے امام بن جائو عرض کیا اگر یہ مشکل ہو تو؟“ تو فرمایا ”پھرموؤن بن جاؤ، اس منصب کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ حضورﷺ نے ساری ظاہری حیات میں یہ منصب سنبھالے رکھا۔ اس بارے عرض ہے کہ نرمی اور مسکراہٹ کو اپنی پہچان بنائیں۔ مقتدی کے مسئلہ پوچھنے پر اس کی رہنمائی قرآن وسنت کی روشنی میں ہی اس کی نفسیات اور خاندانی پس منظر کو سامنے رکھ کر کریں۔ جب مقتدی کو دستیاب آسائش کا خیال دل میں آئے، تو نبی کریم ﷺ کے مکی دور کے ابتدائی دنوں کو خوب یاد کریں، مشکل وقت میں اصحاب صفہ کو یاد رکھیں۔ ایک چادر جن کا لباس ہوتا تھا۔ معاشرے سے کٹنے کی بجائے معاشرے میں گھل مل جانا مسائل کا حل ہے، معاشرے میں باوقار زندگی گزارانے کے طریقے تلاش کرنا بے حد ضروری ہے۔ صرف مساجد انتظامیہ پہ انحصار کی بجائے منصبی ذمہ داریوں کے ساتھ روزگار کے دیگر مواقع تلاش کریں، ہر وقت گلے شکوے کرنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کریں آپ کو عزت کے ساتھ رہائش، کھانا، بجلی، گیس پانی اور دیگر ضروریات مفت میں حاصل ہیں۔ ان سہولیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ دنیا میں حقیقی بچت آپ کی اولاد ہے۔ ہر سال درس نظامی کے فاضلین کے لئے لاکھوں مساجد اور مدارس نہیں بنائے جا سکتے، اس لئے اپنے بچوں کو علم دین کے ساتھ عصری تعلیم ضرور دیں۔ اپنے آپ کو فرقہ وارانہ سوچ، نفرت آمیز رویوں، شدت پسندی، فتنہ انگیزی، خارجیت، تکفیریت اور دہشت گردوں کے معاونین اور سہولت کاروں سے بچاکر رکھیں۔ یہ اسی صورت میں ہوگا جب آپ کے ذہن کی تمام تر دلچسپیوں کا مرکز و محور حقیقی اسلام کا ابلاغ ہوگا۔ ہر وقت ذہن میں رکھیں کہ آپ پیغمبروں کے وارث ہیں۔ لہٰذا اپنی علمی و روحانی صلاحیت اور حکمت وتدبر سے معاشرتی بگاڑ کو مثبت رخ دیں۔ معاشرے میں اخلاقی اقدار کو بلندی نظری اورعلم وعمل سے روشن کریں۔ صرف بلند پایہ شعراء کا کلام یاد کریں۔ اپنی زبان کو ادبی رنگ دینے اور پر اثر بنانے کے لئے قرآن، تفاسیر کے ساتھ اخبارات، میگزین اور ڈائجسٹ کا مطالعہ کریں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ کسی نمازی کو دوران خطاب اشارہ سے بھی طعنے نہ دیں اور نہ ہی اس سے کسی قسم کا بدلہ دوران گفتگو لیں۔ اپنے اللہ سے عہد کریں کہ اپنی زبان اور قلم کو کبھی فتنہ انگیزی اور تکفیری فتوی کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔ دین کے ساتھ مخلص ہو جائیں، راستے آسان ہوتے جائیں گے اور منزل قریب ہوجائے گی۔ لالچ سے بچیں صرف اُخروی فائدے کو سامنے رکھیں تکبر، شہرت طلبی اور اپنے ہم عصر دوستوں سے حسد کرنے سے ہر ممکن طریقے سے بچیں کیونکہ تکبر جہاں علم کا دشمن ہے وہیں پر عمل کا بھی دشمن ہے۔ انکساری ہی ہمیشہ اہل علم و تصوف کا شیوہ رہی ہے۔ معاشرے میں زندہ، باضمیر مثبت سوچ اور صاف ستھرے رویے کے ساتھ رہیں کیونکہ زندہ جسم ہی لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے جبکہ مردہ جسم سے ہر کوئی دور بھاگتا ہے۔ خواتین اور بچوں کے لئے خصوصی تقریبات کا اہتمام کریں۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں گناہ اور نکاح کے درمیان درد دل کے ساتھ فرق واضع کریں۔ نکاح کی رسومات کے خلاف حکمت کے ساتھ بات کریں۔ آسان نکاح کی تحریک شروع کریں یا پھر ترغیب دیں۔ عقیدے و مسلک کے خول سے نکل کر امت متوسطہ واحدہ کے تصور سے ہی مسلمان عالمی سازشوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ شہریوں کو قانون پر عمل داری کی تلقین کریں۔ نمازیوں کو ان کی سیاسی پسند اور ناپسند کو صرف ووٹ کی طاقت سے بدلنے کا کہیں۔ حالات اور مشکلات میں مبتلا لوگوں کو روز سڑکوں جلسے، جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں سے باز رکھیں۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں ان کو راستے کے حقوق کے بارے آگاہ کریں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ شروع میں ریاست مساجد کا اہتمام وانصرام کرتی اور امام وخطیب کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھتی تھی۔ اگر کوئی سرکاری ادارہ وطن اصلی یا وطن عارضی میں جائز نگرانی کررہا ہے تو اس پر برا نہ منائیں بلکہ اس کے ساتھ تعاون کریں ایسا کرنے سے آپ کا وطن مضبوط ہوگا۔ ریاست سے وفاداری دین سے وفاداری ہے۔ اخلاقی شعور کو ہمیشہ بیدار رکھیں، اہم، نازک مسائل اور ملکی صورت حال پر بغیر تحقیق خاموش رہیں۔ حکمرانوں کو ان کے برے اعمال پر ٹوکنا اور ان کی اصلاح کرنا علماء حق کا شیوہ رہا ہے اصلاح کے لئے مہذب اور شائستہ انداز استعمال کریں۔ ہر طبقہ نے اپنے حقوق کے لئے یونین بنائی ہوئی ہیں آپ بھی اپنے حقوق کے لئے منظم انداز میں آگے بڑھیں، حکمت وتدبر اور محبت سے اعزازیہ (تنخواہوں) میں اضافہ کرائیں۔ اہم تہواروں پر مساجد میں ”نمائش کتب‘‘ کا اہتمام کر کے لوگوں کا کتاب سے تعلق مضبوط کریں۔ مختلف موضوعات پر ریسرچ کریں روزانہ کم از کم ایک صفحہ لکھیں اس سے سال میں 365صفحات پر مشتمل معیاری کتاب شائع ہوسکتی ہے۔ اس طرح آپ درجنوں کتب کے مصنف ہونے کے ساتھ خاندان کے لئے اچھے ذرائع آمدن بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ جدید اور منفرد موضوعات کا انتخاب کریں سادہ و مختصر عام فہم گفتگو کیجئے۔ کیونکہ آپ کے مخاطب تعلیم یافتہ اور ان پڑھ دونوں ہو سکتے ہیں۔ ہر نماز کے بعد قرآن، حدیث، فقہ، تصوف اور آئین پاکستان کا درس دیں اس وقت سوسائٹی میں آئین پاکستان کی تشریح بے حد ضروری ہو چکی ہے۔ موضوع کے مطابق دلجمعی کے ساتھ 4 سے 8 گھنٹے مطالعہ اور گہرا غوروفکر بہت ضروری ہے۔ اختلافی مسائل پر ہرگز بات نہ کریں اختلافات تو صدیوں سے چلے آرہے ہیں ایسے موضوعات سے اختلافات بڑھ تو سکتے ہیں کم نہیں ہو سکتے۔ سیرت رسول ﷺ کی روشنی میں ریاستی و سفارتی آداب حتیٰ کہ دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات کے اصول و ضوابط بیان کریں۔ نبی کریم ﷺ دوران و عظ اپنا دست مبارک زیادہ سے زیادہ سےنے تک اٹھاتے اور صرف انگلی مبارک سے اشارہ فرماتے تھے۔ خطاب میں قرآنی آیات، صحیح احادیث، تاریخی واقعات حوالہ جات کے ساتھ پیش کریں۔ ہمیشہ قرآن وسنت کی روشنی میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیں۔ باوقار اور صاف ستھرا لباس ہمیشہ زیب تن کریں اس سے لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت بڑھے گی۔ لاؤڈ اسپیکر کا بے جا استعمال نہ کریں، نماز مختصر پڑھائیں، عربی اور انگلش میں مہارت حاصل کریں قانون شکنوں، ٹیکس چوروں، قانون کی حکمرانی نہ ماننے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ لوگوں پر محض علمی رعب جمانے کی بجائے اس حدیث کو سامنے رکھیں کہ جب کریم آقا ﷺنے معراج کی رات دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے۔ جبریل امین سے پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے لیکن خود عمل نہیں کرتے تھے۔ چاند عید کے مسئلہ پر ہمیشہ گورنمنٹ کے اعلان کو ترجیح دیں اور اس کی تشہیر کریں آگاہ رہیں غیرسرکاری اعلان پر خطیب کو ایک سال قید اور 5لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ وابستگان کے سینے میں قرآن کی محبت پیدا کریں تاکہ بروز قیامت نبی کریمﷺ خوش ہوجائیں کہ میرا جانشین دنیا میں افراد سازی کا کام کر کے آیا ہے۔ یاد رکھیں اس وقت امت کو اجتہادی فکر کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں