i-am-f 18

’بلاگرز کے خلاف توہین آمیز مواد کی اشاعت کے ثبوت نہیں ملے‘

ایف آئی اے کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ سال رواں کے آغاز میں جن بلاگرز پر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے ان کے خلاف کسی اقدام کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔جمعے کو عدالت میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ جن پانچ بلاگرز کے خلاف عدالت میں درخواست دی گئی تھی کہ وہ مبینہ طور پر گستاخانہ مواد سوشل میڈیا پر چلانے میں ملوث ہیں، ان افراد کے خلاف کوئی شواہد نہیں ملے۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ جن افراد کے خلاف شواہد نہیں ملے تو ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگانے والا دوہرے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے گی کہ الزام لگانے والا جھوٹا ہے یا شواہد ناکافی ہیں۔خیال رہے کہ عدالت میں پروفیسر سلمان حیدر، احمد وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا نصیر اور ثمر عباس کے خلاف درخواست دی گئی تھی جس میں ان پر فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسے صفحات چلانے کا الزام لگایا گیا تھا جس پر مبینہ طور پر توہین آمیز مواد شائع کیا گیا تھا۔یہ تمام افراد رواں سال جنوری میں لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی گمشدگی کا الزام ملک کے خفیہ اداروں پر لگایا گیا تھا۔ ان کی گمشدگی کے دوران ہی ان افراد پر توہینِ رسالت و مذہب کے الزامات لگائے گئے تھے۔ان کے لاپتہ ہونے کے بعد ملک میں سوشل میڈیا اور میڈیا پر ان کی بازیابی کے لیے باقاعدہ مہم چلی تھی جس کے نتیجے میں ان میں سے چار افراد سلمان حیدر، احمد وقاص، عاصم سعید اور احمد رضا نصیر جنوری کے آخری ہفتے میں واپس آ گئے تھے جبکہ ثمر عباس تاحال لاپتہ ہیں۔جمعرات کو اپنی رپورٹ میں ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو یہ بھی بتایا ہے اس معاملے میں جو چار افراد گرفتار ہیں ان سے تفتیش مکمل کرلی گئی ہے اور ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کیا جا چکا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیرون ملک فرار ہونے والے چار ملزمان کو واپس لانے کیلئے انٹرپول سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے حکام نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ جلد ہی اس میں پیش رفت ہو گی۔جن ملزمان کو وطن واپس لانے کے لیے انٹرپول سے اربطہ کیا گیا ہے ان میں پرویز اقبال، طیب سردار،راؤ قیصر شہزاد اور فراز پرویز شامل ہیں۔درخواست گزار اور لال مسجد فاونڈیشن کے ترجمان حافظ احتشام احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جن چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں پروفیسر انوار، ناصر سلطانی، رانا نعمان اور عبدالوحید شامل ہیں اور ان افراد کا سوشل میڈیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس سہولتوں کا فقدان ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ 12 ہزار درخواستیں آئی ہیں جبکہ ان کے پاس 15 تفتیشی افسران ہیں۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پاکستان الیکٹرانک کرائم بل کا ترمیمی مسودہ عدالت میں پیش کیا جس میں توہین آمیز اور غیر اخلاقی مواد بھی نئے قانون میں شامل کیا گیا ہے اور انھیں جرم قرار دیا گیا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ترمیمی مسودہ 26 دسمبر کو ہونے والے کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ عدالت نے وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور پی ٹی اے کو مل کر ورکنگ پیپر تیار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں