nazir-nasir 147

​سورہ ٔاخلاص تہائی قرآن کے برابرہے

مولانا محمد جہان یعقوب
توحید ، رسالت اور آخرت۔ دین اسلام کے تین اہم ترین عقاید ہیں،سورۂ اخلاص عقیدہ ٔ توحید کوبیان کرتی اور وحدت ِ ِمعبود کے اصول تا قیامت طے کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ یہ چار آیات مبارکہ پر مشتمل سورت ادیان باطلہ اور عقائدِ فرقِ ضالہ کا ردبھی کرتی ہے ،اور بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمام معبود باطل ،شیطان کی پھیلائی ہوئی گم راہی اور انسانی خواہشات کی ایجادہیں اور ان کے نام بھی اسی شیطان کے دیے ہوئے ہیں۔ذیل میں احادیث ِمبارکہ کی روشنی میں اس عظیم سورت کے فضائل ذکر کیے جاتے ہیں،جس کی تلاوت کا ثواب ایک تہائی قرآن یعنی تقریباً 2022آیات کی تلاوت کے برابرہے ،جس سے محبت کرنے والو ں کو جنت اوراللہ تعالیٰ کی محبت اور دوستی کی بشارت دی گئی ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جلدی جمع ہوجاؤ،میں ابھی تمھارے سامنے تہائی قرآن کی تلاوت کروں گا۔ بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ شریف سے باہر تشریف لائے اور سورہ ٔ اخلاص کی تلاوت فرمائی اور واپس لوٹ گئے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ گفت گوکرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا تھا: میں تمھارے سامنے تہائی قرآن کی تلاوت کروں گا، شاید آسمان سے کوئی وحی نازل ہوگئی ہے۔ تھوڑی دیر بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ ارشاد فرمایا : میں نے تمھیں کہا تھا کہ میں تمہارے سامنے تہائی قرآن کی تلاوت کروں گا۔ ذراغور سے سنو۔یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ رات کو ایک تہائی قرآن پڑھ لیا کرے؟صحابہ کرام کو یہ بات بڑی مشکل لگی،انھوں نے عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھ سکتا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”قل ھو اللّٰہ احد” تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ پوری رات اس سورة مبارکہ کی تلاوت کیا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! یہ نصف یا تہائی قرآن کے برابر ہے۔
حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے”قل ھو اللّٰہ احد” پڑھی، اس نے ایک تہائی قرآن پاک پڑھا۔حضرت ابو دردا ، حضرت ابو سعید خدری، حضرت قتادہ ، حضرت انس بن مالک اور کئی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی اس کی مثل روایات مروی ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاروایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ایک دستے کا امیر بنا کر جہاد کے لیے بھیجا ۔وہ ہر نماز میں قراء ت کے آخر میں سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔ جب وہ واپس لوٹے تو انھوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے یہ خبر دو کہ اللہ بھی تمھیں دوست رکھتا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری مسجدِ قبا کے امام تھے۔ ان کی عادت تھی کہ اکثر امامت کراتے توپہلے سورۂ اخلاص پڑھتے، پھر اس کے بعد کوئی دوسری سورت یاآیات پڑھتے، ہر رکعت میں ان کا یہی معمول تھا۔ لوگوں نے اعتراض کیا،تو فرمایا:میں تو اسے نہیں چھوڑوں گا، اگر تم چاہو گے تو نماز پڑھاؤں گا اور اگر تم ناپسند کرتے ہو ،تومیں نماز پڑھانا چھوڑ دیتا ہوں ۔یعنی امامت چھوڑنا تو گوارا ہے،اس سورت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل ِقباکے پاس تشریف لے گئے،توان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ مسئلہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی سے پوچھا :تم ہر رکعت میں اس سورت کو پڑھنا لازمی کیوں سمجھتے ہو؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ !مجھے یہ سورت بڑی پسند ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے اس سے یہ پسندیدگی اور محبت جنت میں داخل کردے گی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سورہ ٔ اخلاص تلاوت کرتے ہوئے سنا،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری اس سورت سے یہ محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔
اس سورت کی مخصوص تعداد میں تلاوت کے فضائل بھی احادیث ِ طیبہ میں وارد ہوئے ہیں،ذیل میں ان میں سے بعض فضائل کا ذکر کیا جاتا ہے:
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین عمل ایسے ہیں کہ جن کو اگر کوئی ایمان کی حالت میں کرتا ہے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہوجائے گااورجس حور سے چاہے گا، نکاح کرلے گا:(ا)جو اپنے قاتل کو معاف کردے(٢)جوخفیہ طور پرکسی کا قرض ادا کردے(٣)جوہر فرض نماز کے بعددس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اگر ان میں کوئی ایک کام کرے۔ فرمایا: اسے بھی یہی درجہ حاصل ہوگا۔
ابو عبید روایت کرتے ہیں، انہوں نے حضرت سعید بن مسیب کو فرماتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے گیارہ مربتہ ”قل ھواللہ احد” پڑھی، اس کے لیے اللہ تعالی جنت میں ایک محل بنائے گا، جس نے اکیس مرتبہ پڑھی اس کے لیے دو، اور جس نے تیس مرتبہ پڑھی اس کے لیے تین محل بنائے گا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے”قل ھواللّٰہ احد” کو دس مرتبہ پڑھا، اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک محل بنائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فضیلت سن کر عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تب تو ہم اسے کثرت سے پڑھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اور وہ بہت پاکیزہ ہے۔یعنی تم جتنا زیادہ پڑھوگے،اللہ تعالیٰ اتنے ہی زیادہ محلات عطا فرمادے گا۔
اسی طرح مخصوص مواقع پر اس سورت کی تلاوت کے فضائل بھی احادیث ِ طیّبہ میں وارد ہوئے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ کر ایک سو مرتبہ ‘ ‘قل ھواللہ احد” پڑھے، قیامت کے دن اللہ تعالی اسے فرمائے گا:اے میرے بندے! اپنی دائیں جانب سے جنت میں داخل ہوجا۔
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے گھر داخل ہوتے وقت”قل ھواللّٰہ احد” پڑھی، یہ سورت اس کے گھر اور پڑوسیوں کے گھر سے شر کو دور بھگا دیتی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب بستر پر تشریف لے جاتے تو ہر رات ان تینوں سورتوں کو پڑھ کر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر دم کرتے اور جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتے، اپنے جسم مبارک پر پھیرتے ۔ پہلے سرمبارک پر، پھر منہ مبارک پر اور پھر باقی جسم مبارک پر اور یہ عمل تین مرتبہ دہراتے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلقین فرمایا کرتے تھے ،چناں چہ:حضرت عبد اللہ بن حبیباپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں پیاس لگی ہوئی تھی،رات انتہائی تاریک تھی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کررہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عشا کی نماز پڑھائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: پڑھو۔ میں خاموش رہا۔ آپ نے مجھے فرمایا: پڑھو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں کیا پڑھوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قل ھو اللّٰہ احد، قل اعوذ برب النّاس تین تین مرتبہ صبح و شام پڑھ لیا کرو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم غزوہ ٔ تبوک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک دن سورج ایسے نور اور روشن کرنوں کے ساتھ طلوع ہوا کہ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل! جیسے آج سورج طلوع ہوا، اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں دیکھا ۔عرض کی:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی معاویہ بن معاویہ لیثی مدینہ طیبہ میں انتقال فرماگئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کی نماز جنازہ میں ستر ہزار فرشتے بھیجے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: انھیں یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟ فرمایا: یہ دن رات چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں ‘قل ھواللّٰہ احد” کی تلاوت کیا کرتے تھے۔یہ اسی کا اجر ہے۔
بحمد اللّٰہ!یہ سورت ہر مسلمان مرد وزن اور بچے بچی کو یاد ہوتی ہے،اس اعتبار سے ان فضائل کا حصول ہم سے ہر شخص کی دست رس میں ہے،کیوں نہ ہم آج سے ہی ان فضائل کے حصول کے لیے کمر بستہ ہو جائیں،سورۂ اخلاص کی تلاوت اس کے فضائل کو سامنے رکھتے ہوئے کرنے کا اہتمام کریں گے ،تو ان شاء اللہ! ہمارے نامۂ اعمال میں بھی یہ تمام اجور وثواب لکھے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کواس کی توفیق وہمّت مرحمت فرمائے۔آمین!
٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں