benazir 109

بینظیر بھٹو، خودساختہ جمہوریت کا بُت:محمد بلال خان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینظیر بھٹو کی دسویں برسی ہے، مجھے بینظیربھٹو میں ایک شاہی خاندان میں سونے کا چمچ منہ میں لے پیدا ہونے کے علاوہ دوسری کوئی انوکھی چیز نظر نہیں آتی، ذوالفقارعلی بھٹو کی بیٹی ہونا اس کی سند ٹھہری، دو دفعہ وزیراعظم بن کر پاکستان میں بدترین فرقہ واریت کو پروان چڑھانا، ایرانی انقلاب اور رافضیت کیلئے تمام راستے کھولنا مقتولہ بینظیر بھٹو کے ہی مرہونِ منت تھا، مجھے یاد ہے، میں ایبٹ آباد اپنے گھر میں بیٹھا تھا، والدہ، ماموں اور بھائی بیٹھے تھے، اتنے میں کسی نے ماموں کو فون کیا کہ بینظیربھٹو کو لیاقت باغ میں نشانہ بنایا گیا ہے، میرے ماموں اُس زمانے میں کسی حد تک ذوالفقارعلی بھٹو کے حامی تھے، اسی وجہ سے بینظیر کے قتل پر میں نے ان کی آنکھیں بھیگی دیکھیں، مگر زرداری دور والی پیپلزپارٹی سے میرے وہ ماموں اب ایسے پناہ مانگتے ہیں، جیسے شیطان سے مانگی جاتی ہے۔ جبکہ میرے لیے اس وقت یہ خبر صرف اور صرف اس حد تک تھی کہ آنکھوں کے سامنے لال مسجد آپریشن کے مناظر، بینظیر کا انگریزی اخبار میں اس آپریشن کی حمایت میں لگی سرخی اور پھر بینظیربھٹو کے اڑتے چیتھڑے نظروں کے سامنے تھے۔

2007 میں اپنے قتل سے چند ماہ قبل لال مسجد پر درندے پرویز مشرف کے آپریشن کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے تالیاں بجائی تھیں، مجھے بینظیربھٹو کے قتل پر کوئی خاص افسوس نہ ہوا، اور نہ آج ہے، نہ ہی بینظیر نے پاکستان کو اوجِ ثریا تک پہنچایا کہ اسے آج جمہوریت کا استعارہ سمجھوں، یا کوئی دوسرا بڑا کریڈٹ ان کے نام کروں، سوائے اس چیز کے، کہ وہ ایک دلیر یا بے باک خاتون تھیں، چاہے وہ اخلاقی لحاظ سے ہوں یا سیاسی لحاظ سے، باقی اگر کوئی مجھے یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ مرنے والوں پر بات نہیں کرتے تو بھائیو! ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ضیاءالحق کو گالیاں دینا پیپلزپارٹی کے منشور میں ویسے ہی شامل ہے، جیسے صحابہؓ پر تبرا کرنا شیعوں کے مذہب میں شامل ہے، اگر آج میں بینظیر جیسے ایک سیاسی بت کو آئیڈیل پڑھوں، یا میرے بچے پڑھیں، تو کل کو آنے والی نسل مریم نواز کو بھی جمہوریت کی چیمپیئن سمجھے گی ۔۔۔۔؟؟

ہمارے ہاں ہر وہ شخص شہید کہلاتا ہے، جسے جہاد کے لفظ سے بھی الرجی ہوتی ہے، جبکہ خودساختہ شہادت کے رتبے اور سرٹیفیکیٹ بانٹنے والے بچہ جمہورے قوم کا خون چوسنے کے بعد قبروں میں بھی قومی دولت لوٹ لیتے ہیں، کروڑوں روپے اُن کے مزارات پر لگتے ہیں، اور ان کے مزاروں بلند و بانگ عمارتیں بھی غریب عوام کے خون اور پسینے پر کھڑی ہوتی ہیں، مگر اس جمہوریت کا صلہ آپ آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جس بینظیر کے خون پر 2008 کا الیکشن پیپلزپارٹی جیتی، وہ پانچ سالہ وفاقی اور پانچ سالہ سندھ کی حکومت میں رہ کر بھی بینظیر کے اعلانیہ قاتل پرویز مشرف کو سزا نہ دلا سکی، بینظیر اور عبدالرشید غازیؒ کا قاتل ایک ہی ہے، مگر آج بینظیر کے چاہنے والوں کی کیا عزت ہے، اور عبدالرشید غازیؒ کے چاہنے والے لوگ معاشرے میں کس حیثيت سے رہ رہے ہیں، اس کا فیصلہ آپ پر چھوڑ دیتا ہوں، ، میں آپ کو اپنے نکتۂ نظر سے اختلاف کا حق دیتا ہوں، مگر اس امید کے ساتھ کہ آپ میری رائے کا بھی احترام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں