nazir-nasir 173

مانسہرہ: داڑھی کی ڈیزائننگ ’شرعاً ناجائز‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے دو دیہاتوں میں ایک تنظیم کی جانب سے داڑھی کے فرنچ کٹ اور ایل کٹس بنائے جانے پر پابندی لگائی گئی ہے البتہ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔مانسہرہ کی یونین کونسل خاکی اور یونین کونسل بیرکون میں ایک تنظیم انٹرنیشنل ختم نبوت کی جانب سے پابندی کا یہ اعلان پمفلٹ کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ تنظیم غیرمعروف ہے۔ اردو زبان میں یہ پمفلٹ چھاپے گئے ہیں لیکن ان پر کہیں نہ کوئی دستخط ہے اور نہ ہی کسی کا نام تحریر کیا گیا ہے۔اس پمفلٹ میں لکھا گیا ہے کہ داڑھی کی بے حرمتی، بے ادبی اور گستاخی شرعاً ناجائز ہے۔ پمفلٹ میں تحریر کیا گیا ہے کہ جس دکان پر بھی داڑھی کی ڈیزائنگ کی جائے گی یعنی فرینچ کٹ وغیرہ تو اس حجام کی دکان پندرہ دن کے نوٹس پر خالی کروائی جائے گی۔اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم مالکان و دکان ایسوسی ایشن باربر اور زیر نگرانی مانسہرہ امیر انٹرنیشنل ختم نبوت کی جانب سے ہے۔یونین کونسل خاکی کے ایک حجام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ پمفلٹ انھیں موصول ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں نے چند ہفتے پہلے ایک دکان کے شیشے بھی اسی وجہ سے توڑے تھےان کا کہنا تھا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ داڑھی کے ڈیزائن نہیں بنائے جائیں گے جن میں فرنچ کٹ اور ایل کٹس نمایاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب ان کے گاؤں خاکی اور مانسہرہ کے قریب دوسرے گاؤں بیرکون میں حجام داڑھی کے فرنچ کٹ اور ایل کٹ ڈیزائن نہیں بناتے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اب بھی ان کے پاس آتے ہیں کہ یہ کٹ بنا دیں لیکن اب حجام انکار کر دیتے ہیں۔یونین کونسل بٹل میں حجام کا کہنا تھا کہ انھیں ایسا کوئی پمفلٹ موصول نہیں ہوا تاہم انھوں نے فون پر کہا کہ وہ خود بھی داڑھی کے ایسے ڈیزائن نہیں بناتے۔اس بارے میں مانسہرہ کے ضلع پولیس افسر شہزاد ندیم بخاری سے رابطہ کیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی کوئی بات ان کے نوٹس میں نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انٹرنیشنل ختم نبوت اور حجام سے اس بارے میں رابطہ کیا تو انھوں نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرنا انتتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ان سے جب کہا گیا کہ ان علاقوں کو حجام نے بعض صحافیوں سے کہا ہے کہ انھیں داڑھی کی ڈیزائننگ سے روکا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اس علاقے میں کوئی ایسا کر بھی نہیں سکتا۔
مانسہرہ بظاہر ایک پر امن علاقہ سمجھا جاتا ہے لیکن ایک عشرے سے جاری شدت پسندی کے واقعات سے یہ علاقہ محفوظ نہیں رہا ۔ مانسہرہ کے مضافاتی علاقوں میں جہاں تعمیراتی کام روکنے کی اطلاعات موصول ہوئیں وہاں ذرائع ابلاغ میں شدت پسندوں کے بیس کیمپس کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں جبکہ مختلف علاقوں سے کچھ شدت پسندوں کی گرفتاری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں