13 22

سوڈانی جزیرے سواکن اور سلیمان علیہ السلام کے بیچ کہانی ؟

سوڈان کا جزیرہ “سواکن” اپنی تاریخ میں کئی کہانیوں اور مفروضات کا حامل ہے۔ سوڈانی مؤرخ محمد صالح ضرار (1892 – 1972ء) نے اپنی کتاب “تاريخ سواكن والبحر الاحمر” میں لکھا ہے کہ “سواکن کی تاریخ کا ایک حصّہ اس قدیم خرافات سے بھرا ہوا ہے کہ وہ بحر احمر پر دیگر جزیروں کی طرح آبادی سے خالی ایک جزیرہ تھا اور صرف جِنوں کا بسیرا تھا”۔

صالح کے مطابق “کہا جاتا ہے کہ ایتھوپیا (حبشہ) کے ایک بادشاہ نے اللہ کے نبی سلیمان بن داؤد علیہ السلام کو 70 کنیزیں تحفے کے طور پر پیش کرتے ہوئے انہیں بیت القدس بھیجا۔ راستے میں بحری جہاز نے سواکن جزیرے پر قیام کیا۔ وہاں کے مکینوں یعنی جِنوں نے (جیسا کہ دعوی کیا جاتا ہے) ان کنیزوں کو جزیرے پر اُترتے دیکھا تو ششدر رہ گئے۔ کچھ عرصے بعد یہاں سے بحری جہاز کے ذریعے ان کو عقبہ (اردن) کی بندرگاہ تک لے جایا گیا۔ وہاں سے ان کنیزوں نے بیت المقدس کا سفر کیا۔ اس دوران اُن پر حمل کے آثار نمودار ہوئے۔ جہازوں کے سربراہان کے ساتھ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سواکن میں ان کا قیام کافی طویل تھا اور جو کچھ ہوا اس کے ذمّہ دار سواکن میں رہنے والے ہیں۔ اس پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کو واپس سواکن بھیجنے کا حکم دیا۔ اس طرح وہ اور ان کی اولاد جزیرے کے رہنے والوں میں گھل مل گئی اور ساتھ ہی سواکن جزیرے کو مجرموں کے لیے جیل کی حیثیت دے دی گئی”۔

اسی واسطے آج بھی بعض مفروضوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ سواکن نام دراصل “سواجن” سے ماخوذ ہے جو لفظِ “سجن” یعنی قید خانے یا جیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

عرب ورثے سے متعلق پرانی کتابوں میں سواکن کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی اولاد میں سے چار شخصیات اسلام کے ابتدا میں سواکن پہنچے تھے۔ انہوں نے وہاں قیام کی اور اس دین کو پھیلایا۔

16
اسی طرح معروف سیاح ابن حوقل نے دستاویزات اور کتابوں میں سواکن کا ذکر کیا ہے جن میں سے اکثر ضائع ہو چکی ہیں۔ اس نے تقریبا 1000ء میں اس جزیرے کا دورہ کیا تھا۔

مؤرخ محمد صالح ضرار کے مطابق سواکن نے اپنی تاریخ کے دوران نشیب و فراز کے کئی ادوار دیکھے۔

سواکن جزیرے کے ساتھ ہی ایک قدیم سمندری بندرگاہ واقع ہے۔ بیس ویں صدی کے اوائل میں انگریز سامراج کی جانب سے نئے شہر پورٹ سوڈان کی بندرگاہ بنائے جانے سے پہلے تک سواکن سے ملحقہ یہ بندرگاہ کئی زمانوں تک مشہور رہی۔

بعض مؤرخين کے مطابق سواکن ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی روشن شہر یا امن کا شہر ہے۔ مؤرخ صالح کا کہنا ہے کہ یہ اُس وقت پہلی بندرگاہ تھی جہاں مشرق بعید سے بحری جہاز پہنچا کرتے تھے۔

17
مصر میں 1415 قبل مسیح میں بادشاہت کا تخت سنبھالنے والے رمسیس دوم نے سواکن کو اپنے تجارتی بیڑے کا اڈّہ بنایا تھا۔

اس کے بعد 285 قبل مسیح میں مصر کے تخت پر بیٹھنے والے بطلیموس دوم نے بحر احمر کے ساحلوں کو دریافت کرنے کے لیے اپنے لوگوں کو بھیجا۔ یہ لوگ سواکن پہنچے تو انہیں یہ مقام پسند آیا اور انہوں نے بطلیموس کو اس کے بارے میں لکھ بھیجا۔ بطلیموس نے سواکن کو سوڈان اور حبشہ کی آمدنی کے حوالے سے تجارتی مرکز بنا لیا۔ مصر کے لوگ مشرقی افریقہ سے لوبان، دار چینی اور ہاتھی دانت درآمد کیا کرتے تھے۔

18
اس کے بعد 284ء میں رومی دور میں سواکن کی اہمیت دھند لا گئی۔ مشرقی سوڈان کے علاقے میں سونے اور زمرد کی کانوں پر رومیوں کے قبضے کے سبب رومی بادشاہ کے مصر میں مندوب اور مقامی اصلی قبائل کے شاہ کے بیچ اختلاف ہو گیا۔

اس کے بعد پھر سواکن کا ذکر 1516ء میں پرتگالی سامراج کے دور میں جا کر ملتا ہے۔ اس دوران عثمانی سلطان کی افواج شام اور بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔

سترھویں صدی عیسوی میں سواکن جزیرے پر سو تُرک مقیم سکونت پذیر تھے اور وہاں پاشا سلاطین کا گورنر بھی رہتا تھا۔

عثمانی دور میں سواکن نے بحر احمر پر جنگی اڈے کی حیثیت اختیار کر لی۔ معروف سیاح بورگ ہارٹ نے 1813ء کے زمانے کے بارے میں لکھا ہے کہ اس وقت تجارت کرنے والی مقامی آبادی درحقیقت یمن کے علاقے حضرموت سے تعلق رکھتی تھی۔

اس کے بعد سواکن بھرپور انداز سے ایک اقتصادی شہر میں تبدیل ہو گیا جہاں کئی تجارتی ایجنسیوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے ذریعے ہندوستان اور چین سے سامان یورپ پہنچا کرتا تھا۔ انیسویں صدی میں سواکن کی تجارتی حیثیت عروج پر تھی۔ 1863ء میں اسماعیل پاشا وہ پہلی شخصیت تھی جس نے علاقے کو ریلوے ٹریک کے ذریعے ملانے کا سوچا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں