salmti 101

ٹرمپ کا بیان امریکی سفیر سے احتجاج، سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اعلیٰ سول اور فوجی حکام شریک ہیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان مخالف بیان بازی کے بعد جہاں پاکستان نے امریکی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کیا ہے وہیں ملک کی قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کے موقعے پر ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ گذشتہ پندرہ برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر کی امداد دینا بیوقوفی تھی کیونکہ اس کے بدلے پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر کے اس بیان کے بعد پیر کی شب امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو اسلام آباد میں دفترِ خارجہ طلب کیا گیا۔پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم اے ایف پی کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ ڈیوڈ ہیل نے پاکستانی حکام سے ملاقات کی تھی تاہم انھوں نے اس ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ داخلہ، وزیرِ دفاع، مسلح افواج کے سربراہان سمیت اعلیٰ شخصیات شریک ہیں۔پاکستان کے وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ٹوئٹر پر ہی اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ ’پاکستان نے اب تک افغانستان میں القاعدہ کو شکست دینے کے لیے امریکہ کے ساتھ بےمثال تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور پاکستانی قوم اور افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بےمثال قربانیاں دی ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل منگل کو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں کور کمانڈرز کانفرنس بھی منعقد ہوئی۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کانفرنس میں تبدیل ہوتے جیو سٹریٹیجک ماحول اور اندرونی سکیورٹی صورتحال کے علاوہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں