nasir 165

خامنہ ای کی اپیلیں‌مسترد حکومت مخالف مظاہروں میں شدت ،تہران :سرکاری عمارت پرقبضے کوشش

ایران میں جاری مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کو سنہ 2009 کے بعد پہلی مرتبہ شدید مزاحمت کا سامنا ہے جس کے دوران مظاہرین نے رات گئے ایک پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کر دیا۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین پولیس سٹشین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کے پانچویں دن ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 13 تک پہنچ گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں ایک پولیس اہلکار کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ وسطی شہر نجف آباد میں پیش آیا ہے۔ ایران میں جمعرات سے شروع ہونے والے ان مظاہروں میں کسی پولیس اہلکار کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ کہا جا رہا ہے۔اس سے قبل اتوار کی شب صوبہ خوزستان کے شہر ایذہ میں دو افراد گولیاں لگنے سے مارے گئے۔اپنے تازہ بیان میں ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم ‘قانون توڑنے والی اقلیت’ سے نمٹ لے گی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی ہے کہ ایران میں اب تبدیلی کا وقت آن پہنچا ہے۔ایذہ سے ایرانی پارلیمان نے رکن ہدایت‌ الله خادمی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار مظاہرین تھے یا پولیس۔اس سے قبل چار افراد مغربی صوبے لورستان کے شہر دورود میں مارے گئے تھے۔ بقیہ چار ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔صدر حسن روحانی کے خطاب کے بعد بھی اتوار کی شب ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ تہران کے علاوہ کرمان شاہ، خرم آباد، شاہین شہر اور زنجان میں بھی جلوس نکالے گئے۔اپنے خطاب میں صدر روحانی نے تھا کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن سکیورٹی کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے۔ انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ کچھ معاشی مسائل ہیں جن کا حل کرنا ضروری ہے لیکن ساتھ ہی متنبہ بھی کیا کہ پرتشدد کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔مظاہروں کا آغاز جمعرات کو ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد سے ہوا تھاخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کی شب تہران کے میدانِ انقلاب میں ایک مظاہرے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور آبی توپ استعمال کی۔ان مظاہروں کا آغاز جمعرات کو ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد سے ہوا تھا۔ ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والا یہ احتجاج سنہ 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔ان مظاہروں کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ایرانی عوام میں بالآخر عقل آ رہی ہے کہ کیسے ان کی دولت کو لوٹا جا رہا ہے اور دہشت گردی پر خرچ کی جا رہی ہے۔ایرانی صدر نے کابینہ کے اجلاس سے اپنے خطاب میں امریکی صدر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’امریکہ میں یہ شخص جو اب ہماری عوام کے ساتھ ہمدردی دکھا رہا ہے بھول گیا ہے کہ اس نے چند ماہ قبل ایرانی عوام کو دہشت گرد کہا تھا۔‘ایرانی صدر نے کابینہ کے اجلاس سے اپنے خطاب میں میں امریکی صدر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاانھوں نے مزید کہا ’یہ شخص جو اوپر سے نیچے تک ایرانی عوام کا دشمن ہے اس کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ایرانی عوام سے ہمدردی کرے۔‘دوسری جانب ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام جاری رہنے پر مظاہرین سے ’سختی سے نمٹا‘ جائے گا۔ایران میں پاسدارانِ انقلاب کا شمار بااثر فوج میں ہوتا ہے اور ملک میں اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے ملک کے رہبرِ اعلیٰ کے ساتھ اُن کے گہرے روابط ہیں۔ادھر ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ چھٹے روز بھی جاری رہا جس کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی چھڑپوں میں مزید نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔دوسری جانب ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ‘ملک کے دشمن’ اس احتجاج کو ہوا دے رہے ہیںگزشتہ جمعرات کو مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا بیان ہے۔’حالیہ دنوں میں ایران کے دشمنوں نے رقم، ہتھیار، سیاست اور خفیہ اداروں سمیت مختلف ہتھکنڈوں کو ایران میں حالات خراب کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔’ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ بیان ان کی اپنی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ حالیہ واقعات کے بارے میں صحیح وقت آنے پر قوم سے خطاب کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں