sark 93

ایران اندورونی خلفشار کا شکار کیوں؟

لاکھوں نوجوان ایرانیوں میں بیروزگاری سرکاری اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہے۔بیروز گاری میں اضافے اور اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے باوجود عام ایرانیوں کے معیار زندگی میں کوئی بہتری نہ آنے کے نتیجے میں شروع ہونے والے حالیہ مظاہروں کے بعد لگتا ہے کہ صدر حسن روحانی کو اپنی معاشی پالیسیوں میں کچھ بنیادی تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حالیہ مظاہرے، جن میں اب تک بائیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اس مایوسی کے بعد شروع ہوئے کہ جنوری 2016 میں بین الاقوامی اقتصادی پاپبندیاں اٹھائے جانے کے بعد بھی ایرانی معیشت میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں آئی ۔بلکہ ایرانی معیشت کے وہ شعبے بھی مشکل میں ہیں جن کا انحصار تیل پر نہیں ہے۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بیروزگاری کی شرح 12 اعشاریہ پانچ فیصد ہے لیکن لاکھوں نوجوان ایرانیوں میں بیروزگاری اس سے کہیں زیادہ ہے اور ملک میں افراط زر کی شرح بھی دس فیصد ہو چکی ہے۔استنبول میں قائم ایک تحقیقی ادارے ’الشرق فورم‘ سے منسلک طامر بداوی کے بقول ایران میں جو ہو رہا ہے ’ وہ امیدوں کا بحران ہے اور لوگ شدید معاشی محرومی کا شکار ہیں۔‘روئٹرز کے مطابق اس بے چینی پر قابو پانے کے لیے ہو سکتا ہے کہ صدر روحانی کو نئے ذرائع آمدن پیدا کرنے پر زیادہ رقم خرچ کرنا پڑے، افراط زر پر قابو پانے کے لیے ایرانی ریال کی شرح مبادلہ کو تبدیل کرنا پڑے اور ملک میں پھیلی ہوئی اُس بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنا پڑیں جو ان مظاہروں کی ایک بڑی وجہ ہے۔بدعنوانی کی بیخ کنی کرنا صدر روحانی کے لیے کسی صبر آزما مہم سے کم نہیں ہوگا۔
لیکن ان تمام اقدامات کا مطلب یہ ہے کہ صدر روحانی کو اپنی حالیہ پالیسی بدلنا ہو گی۔ صدر اب تک سرکاری اخراجات میں عدم توازن پر قابو پانے کے لیے ایک قدامت پسندانہ بجٹ پالیسی پر عمل کرتے رہے ہیں جس کا ایک مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایران کو ایک پرکشش ملک بنانا تھا۔ اس دوران اگر وہ مالی بدعنوانیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتے تو انھیں ملک کے طاقتور معاشی حلقوں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔ لیکن شاید اب صدر کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا۔لندن میں قائم توانائی کے شعبے میں مخلتف ممالک اور کمپنیوں کو مشورے دینے والی ایک کمپنی بیٹا میٹرکس سے منسلک ایرانی ماہر معاشیات مہرداد عمادی کا کہنا ہے کہ ایران میں بدعنوانی کی بیخ کنی کرنا صدر روحانی کے لیے کسی صبر آزما مہم سے کم نہیں ہوگا۔ لیکن ان کا کہنا کہ اب صدر کے پاس دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔’اب لوگوں میں مایوسی بہت بڑھتی جا رہی ہے۔ اس قسم کی صورت حال میں آئے روز مزاحمت اور ہنگامے ہوتے رہیں گے۔‘
سنہ 2013 میں حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد صدر حسن روحانی نے محمود احمدی نژاد کی فضول خرچی کی پالیسی ترک کر دی تھی جس کے تحت متوسط اور کم آمدن والے ایرانی خاندانوں کو حکومت کی جانب سے نقد رقوم فراہم کی جاتی تھیں۔پچھلے ہی ماہ انھوں نے اگلے سال مارچ سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں حکومتی اخراجات کو کم ہی رکھا گیا ہے۔ اگرچہ 104 ارب ڈالر کا یہ بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں چھ فیصد زیادہ ہے لیکن اگر افراط زر کو دیکھا جائے تو بجٹ میں اخراجات زیادہ کی بجائے کم کر دیے گئے ہیں۔لیکن اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کے باجود اس قسم کی کفایت شعاری سے ایرانی عوام بہت بیزار ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی غیر ملکی کپمنیاں بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے ہچکچا رہی ہیں، جس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے خلاف سخت موقف ہے۔مہرداد عمادی کے بقول ان کی کمپنی کے ایک مطالعے کے مطابق ملک کی معاشی قورت حال پر ایرانی عوام کی بے اطمینانی کی پانچ وجوہات ہیں۔ بے روزگاری، قوت خرید میں کمی، بدعنوانی، کمزور ایرانی ریال اور ایرانی کے مختلف حصوں کے درمیان دولت کی غیر مساوی تقسیم۔اس مطالعے میں دیکھا گیا کہ مندرجہ بالا وجوہات میں سے پہلی تین میں اس سال مزید ابتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مثلاً ایران کے شمال مشرقی علاقوں میں نوجوانوں میں بیروزگاری کا تناسب 45 فیصد تک بڑھ چکا ہے اور ان علاقوں میں روزگار کے مواقع مزید کم ہو رہے ہیں۔ایک سال پہلے ایک امریکی ڈالر 36,000 ایرانی ریال کے برابر تھا لیکن اب اس کی قیمت کم ہو کے 42900 ہو چکی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت بیرون ملک ایرانی اثاثوں سے رقم واپس لا کر ایرانی کرنسی کومزید گرنے سے بچا لیں۔ لیکن خطرہ یہ ہے کہ اس قسم کے اقدام سے غیر ملکی سرمایہ کار مایوس ہو جائیں گے اور پچھلے ہی ماہ آئی ایم ایف نے ایرانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ یہ پالیسی ایرانی معیشت کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔مہرباد عمادی ایرانی معیشت کی بری کارکردگی کا ذمہ دار اقتصادی پالیسی کی بجائے دوسرے عوامل کو سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خرابی کی اصل وجہ کاروباری شعبے میں پاسدارانِ انقلاب اور دیگر مذہبی اداروں کی دخل اندازی ہے۔ایک اندازے کے مطابق ایران کے معاشی اثاثوں کا ساٹھ فیصد سے زیادہ پاسدارانِ انقلاب اور اس قسم کے دیگر اداروں کے ہاتھ میں ہے۔ چونکہ یہ ادارے ٹیکس ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے چھوٹی کاروباری کپمنیوں میں مقابلے کی فضا متاثر ہوتی ہے اور نئی ملازمتیں پیدا نہیں ہوتیں۔مہرباد عمادی کے بقول روحانی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اور تمام اداروں کو ٹیکس کا حساب کتاب رکھنے کی پابندی کرنے اور کاروباری دنیا کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔لیکن بداوی کا کہنا ہے کہ حکومت معیشت میں کسی قسم کی فوری بہتری نہیں لا سکے گی۔اگرچہ ممکن ہے کہ حکومت روزگار بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کر دے لیکن یہ ممکن نہیں کہ حکومت غریب خاندانوں کو نقد مالی امداد بند کر سکے اور بینکوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے معیشت میں تنوع پیدا کرنے جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے صرف دیرپا پالیسی ہی کام کر سکتی ہے۔’میرا خیال ہے کہ ایرانی حکومت کی پالیسی میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آئے گی۔ حکومت کوشش کرے گی کہ وہ لوگوں سے کھل کے بات کرے، ان کے سامنے کوئی نئی پالیسی رکھے، لیکن اصل مسئلہ ایرانی معیشت کے ڈھانچے کی خرابیاں ہیں، جیسے معیشت میں تنوع کا فقدان، بینکوں کے مسائل اور دیگر دنیا کے ساتھ ایران کے مسائل، خاص طور پر مسٹر ٹرمپ کے ساتھ۔‘ بی بی سی رپورٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں