11 27

ویب براؤزرز میں پاس ورڈ محفوظ کرنا ‘غیر محفوظ’

ویب براؤزرز یعنی گوگل کروم یا سفاری میں آٹو سیو پاس ورڈ کے آپشن کا انتخاب غیر محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔

حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ صارفین اکثر اوقات اپنا پاس ورڈ ویب براؤزرز میں خودکار طور پر محفوظ ’آٹو سیو‘ (Auto Save) کردیتے ہیں تاہم چند ایسی اشتہاری کمپنیاں ہیں جو صارفین کی خفیہ معلومات چوری کرلیتی ہیں اور پھر وہ ہیکرز تک پہنچاتی ہیں۔

محققین نے خبردار کیا ہے کہ براؤزر میں پاس ورڈ کو آٹو سیو نہ کیا جائے، یہ غیر محفوظ ہے اور اس سے کسی بھی صارف کے بزنس اور اس کی ذاتی معلومات کا غلط فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ آج کل سب ہی ویب براؤزرز میں پاس ورڈ مینیجر ٹول موجود ہوتا ہے جس سے یوزر نیم (user name) اور پاس ورڈ(password) محفوظ ہوجاتا ہے اور اگر صارف بھول بھی جائے تو اس صورت میں پاس ورڈ مینیجر ٹول کار آمد ثابت ہوتا ہے اور آئی ڈی(id) کھل جاتی ہے۔

امریکا کے شہر نیو جرسی کی پرنسٹن یونیورسٹی کے سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے غیر محفوظ قرار دیا جا رہا ہے کہ پاس ورڈ مینیجر ٹول کی مدد سے بہت سی اشتہاری کمپنیوں نے صارفین کی خفیہ معلومات نکال کر ان کا غلط استعمال کیا ہے اور ہیکرز کو جب بھی کسی کی معلومات چوری کرنی ہوتی ہیں تو وہ اکثر اشتہاری کمپنیوں اور اس ٹول کا سہارا لیتے ہیں۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق محققین نے بتایا کہ دو مشہور سافٹ ویئرز ‘ایڈ تھنک’ (ad think) اور ‘آن آڈینس’ (on audience) صارفین کو ٹریک کرنے کے لیے پاس ورڈ مینیجر کا استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایڈ تھنک سے صارفین کی معلومات حاصل کرکے فائلز بنائی جاتی ہیں جو اشتہاری ٹارگٹ آڈینس بنانے میں مدد دیتی ہیں اور یہ معلومات صارفین کی اجازت کے بغیر لی جاتی ہیں۔

اس لیے صارفین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اپنا پاس ورڈ خفیہ اور یاد رکھیں اور ویب براؤزر میں آٹو سیو پاس ورڈ کے بجائے اپنے ڈیسک ٹاپ یا موبائل کی کسی فائل میں پاس ورڈ خفیہ طور پر محفوظ رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں