nazzir 90

72 جماعتوں کو چندہ دینے والوکیخلاف کاروائی کا اعلان

پاکستان میں ہفتے کو شائع ہونے والے تمام بڑے اخبارات میں وزارتِ داخلہ کی طرف سے ایک سرکاری اشتہار کے ذریعے 72 کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں عوام کو ان تنظیموں کو چندہ دینے اور مالی معاونت کرنے کے بارے میں متنبہہ بھی کیا گیا ہے۔اس اشتہار میں خبردار کیا گیا ہے کہ کالعدم یا زیر نگرانی قرار دی جانے والی 72 تنظیموں کی معاونت یا مالی امدا کرنے والے افراد کو سزا اور قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔خیال رہے کہ کالعدم تنظیموں کا نام بدل کر کام کرنے یہاں تک کہ سیاسی جماعتوں کے طور پر رجسٹرڈ ہونے کی روایت بہت پرانی رہی ہے اور ایسے میں اکثر اوقات ریاستی مشینری اور ادارے ان کی فنڈنگ روکنے میں کم ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔اس فہرست میں لشکر جھنگوی، جیش محمد، لشکر طیبہ، تحریک طالبان، پیپلز امن کمیٹی، اہل سنت والجماعت، بلوچستان یونائٹڈ آرمی، جیش اسلام، داعش، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن، 313 برگیڈ سمیت 72 نام شامل ہیں۔ملک کے تمام اخبارات میں چھپنے والے اس حکومتی اشتہار میں عوام کے نام پیغام میں لکھا گیا ہے کہ عطایت اور صدقات ضرور دیجیے مگر احتیاط کے ساتھ۔ یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ ’کالعدم یا زیر نگرانی تنظئموں کی معاونت یا مالی امداد قابل سزا جرم ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ’ یاد رکھیے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل ایکٹ 1948 کے تحت قرار دی گئی کالعدم یا زیر نگرانی تنظیموں کی کسی بھی قسم کی معاونت یا مالی امداد یا سہولیات فراہم کرنا قانوناً جرم ہے۔ جس کی سزا پانچ سے 10 سال قید، ایک کرورڑ روپے جرمانا یا دونوں ہو سکتی ہے۔‘اگست میں امریکہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا جس کے بعد نومبر میں حکومت نے اسے کالعدم قرار دیا۔حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں ان تنظیموں کو مدد دینے والوں کی جائیداد بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔اس اشتہار کے آخر میں امن مخالف کسی بھی سرگرمی کی اطلاع دینے کے لیے عوام کو نیکٹا نے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی دیا ہے تاہم 1717 (ہیلپ لائن) پر بارہا کال کرنے کے باوجود یہی لگا کہ یہ نمبر ابھی دستیاب نہیں ہے۔خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سکیورٹی امداد کی بندش کی وجہ انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کی کارکردگی پر عدم اطمینان بتائی گئی ہے۔امریکی حکام کی جانب سے جب گذشتہ ہفتے یہ بیانات سامنے آئے تو ان ہی دنوں پاکستان کے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے اپنے نوٹیفیکیشن میں کہا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے سکیشن 453 کے مطابق اب سبھی کمپنیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان اداروں اور افراد کو چندہ نہ دیں جن کا اقوامِ متحدہ (یو این ایس سی) کی اقتصادی پابندیوں کی کمیٹی کی لسٹ میں نام ہے۔اگرچہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی دباؤ کی وجہ سے نہیں کیا گیا تاہم زیر نگرانی جماعت اور تنظیم جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید نے حکومتی وزیر کے بیان پر جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائیاں آپریشن رد الفساد کا حصہ ہیں انھیں قانونی نوٹس بھجوا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں