1 93

قصور میں حالات بدستور کشیدہ، احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری

قصور: زینب قتل کیس پر قصور میں فضا بدستور سوگوار ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر دوسرے روز بھی مظاہرے کیے گئے جب کہ شہر کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہو گیا۔ قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ بچی زینب کے قاتل اب تک گرفتار نہیں کیے جا سکے جس پر دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ قصور کا فیروز پور روڈ ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے بند ہے اور مظاہرین کا کالی پل چوک پر دھرنا جاری ہے جب کہ قصور کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔ وکلا نے قصور میں بچی کے قتل کے خلاف ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا، پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ میں مکمل ہڑتال کی گئی جب کہ لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چوہدری ذوالفقار کا کہنا ہے کہ وکلا عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے، بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور کالے جھنڈے لہرائیں گے۔ زینب قتل کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شعیب اور محمد علی کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا جس کی رپورٹ آنے کے بعد ان کی تدفین کی جائے گی۔ مظاہرین پر فائرنگ کے الزام میں 2 پولیس اور دو سول ڈیفنس اہلکار گرفتار ہیں جب کہ مقتولین کے بھائیوں کی مدعیت میں 2 مقدمات 16 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیے گئے جس میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ادھر بچی سے زیادتی کے ملزم کا پولیس کی جانب سے جاری کیا گیا خاکہ بھی غلط نکلا کیوں کہ خاکہ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص سے مشابہت نہیں رکھتا۔ ذرائع کے مطابق خاکہ جلد بازی میں اہل علاقہ کی معلومات کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 7 سالہ زینب 4 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء ہوئی اور 4 دن بعد اس کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا، جس کی تصدیق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوئی۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ زینب کے گھر پہنچے اور والدین سے اظہار تعزیت کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف صبح 5 بجے اچانک قصور میں مقتولہ زینب کے گھر پہنچے اور اہلخانہ سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ترجمان پنجاب حکومت محمد احمد خان اور اعلیٰ افسران بھی موجود تھے جب کہ ڈی پی او قصور زاہد خان مروت نے واقعہ کی بریفنگ دی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا جتنا ظلم اور زیادتی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے، لمحہ بہ لمحہ اس کیس کی نگرانی کر رہا ہوں اور واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملزم قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ کمسن بچی کے خاندان کو انصاف دلانا میری ذمہ داری ہے اور جب تک مجرم کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں