13 121

(ق) لیگ کے عبدالقدوس بزنجو نئے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی نے مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو کو صوبے کا نیا وزیراعلیٰ منتخب کرلیا۔

نواب ثناء اللہ زہری نے اپنی ہی جماعت کے ناراض اراکین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے سے قبل ہی 9 جنوری کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ درانی کی سربراہی میں شروع ہوا تو اجلاس کے آغاز میں قصور میں قتل ہونے والی کمسن زینب اور ایئرمارشل (ر) اصغر خان سمیت کوئٹہ دھماکے کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اس کے بعد اسپیکر نے اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ کار بتایا جس کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے رائے شماری کی گئی۔

اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنےو الے میر عبدالقدوس بزنجو کے حمایتی ارکان کے لیے اے لابی اور پشتونخوا میپ کے لیاقت علی کے حمایتی اراکن کے لیے بی لابی بنائی گئی جب کہ صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کیا گیا۔

اسمبلی میں اراکین نے مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو کو نیا قائد ایوان منتخب کیا، عبدالقدوس بزنجو آج ہی وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔

اسمبلی اجلاس سے کچھ دیر قبل ہی پشتونخوا میپ کے عبدالرحیم زیارتوال وزارت اعلیٰ کے دوسرے امیدوار سید لیاقت علی کے حق میں دستبردار ہوگئے جس کی تحریری درخواست انہوں نے سیکریٹری اسمبلی کو جمع کرائی۔

عبدالقدوس بزنجو
صوبے کے نئے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے 2013 کے عام انتخابات میں صرف 544 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔

عبدالقدوس بزنجو یکم جنوی 1974 کو بلوچستان کے ضلع آواران کے گاوں شنڈی جھو میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے پہلی بار 2002ء میں پرویز مشرف دور میں صوبائی حلقے پی بی 41 سے کامیابی حاصل کی۔ 2013ء کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو نے مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے کم یعنی 544 ووٹ لے کر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب ایک اعشاریہ ایک 8 فی صد رہا۔ عبدالقدوس بزنجو 2013 سے 2015 تک صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جو بعد میں مستعفی ہو گئے۔

عبدالقدوس بزنجو تاریخ میں سب سے کم 544 ووٹ حاصل کرنے والے پہلے رکن اسمبلی ہیں جو ملک کے کسی صوبے کے وزیراعلیٰ بنے ہیں۔

سیکیورٹی انتظامات
دوسری جانب اسمبلی اجلاس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور اسمبلی آنے والے تمام راستے صبح 8 بجے سے بند کردیئے گئے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ کے مطابق اسمبلی کی سیکیورٹی پر 900 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ نے بتایا کہ اسمبلی میں بغیر شناختی کوائف کے کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔

واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) اور نیشنل پارٹی کے درمیان معاہدے کے تحت عبدالمالک بلوچ کی مدت پوری ہونے پر ثنااءللہ زہری نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے لیکن صوبائی حکومت گزشتہ دنوں سیاسی بحران کا شکار ہوگئی اور ثناءاللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا۔

نواب ثناءاللہ زہری نے پہلے تحریک کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا لیکن بعد ازاں سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر بلوچستان کو پیش کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں