12 113

سعودی خواتین کا اسٹیڈیم میں پہلی مرتبہ میچ دیکھنے کا تجربہ کیسا رہا؟

سعودی عرب میں خواتین کو پہلی مرتبہ اپنے خاندانوں کے ساتھ اسٹیڈیم میں جا کر فٹ بال میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کے بعد سعودی خاندانوں کی ایک بڑی تعداد پہلی مرتبہ جدہ میں واقع شاہ عبداللہ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے آئی تھی اور دارالحکومت الریاض میں ہفتے کے روز دو فٹ بال ٹیموں میں میچ دیکھنے کے لیے آئی ہے۔

جدہ اسٹیڈیم میں خاندانوں کے لیے مختص حصے کے دروازوں پر سیاہ عبایا اوران کے اوپر نارنجی رنگ کی چمکتی دھمکتی ویسٹ کوٹ پہنے خواتین اہلکار ان کے استقبال کے لیے موجود تھیں۔اسٹیڈیم میں سعودی عرب کی مردوں کی دو فٹ بال ٹیموں الاہلی اور الباطن کے درمیان میچ کھیلا جارہا تھا۔ اس میچ کو دیکھنے کے لیے خواتین اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ اسٹیڈیم میں آئی تھیں۔

سعودی عرب کی جنرل اسپورٹس اتھارٹی نے اکتوبر میں جدہ ، الدمام اور الریاض میں واقع اسٹیڈیموں میں 2018ء سے خاندانوں کو بھی میچ دیکھنے کے لیے بٹھانے کے انتظامات کرنے کا اعلان کیا تھا۔قبل ازیں صرف مرد حضرات ہی مردوں کے فٹ بال میچ دیکھ سکتے تھے اور خواتین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

میچ دیکھنے کے لیے آنے والی منیرہ الغامدی نامی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’’ سچی بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ یہ اب درست وقت پر کیا گیا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں خواتین کے لیے مزید اچھے اچھے اقدامات کیے جائیں گے‘‘۔

گذشتہ جمعرات کو جدہ ہی میں سعودی عرب میں خواتین کے لیے پہلا کار میلہ بھی سجایا گیا تھا اور یہ سعودی حکومت کی جانب سے جون 2018ء سے خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت دینے کے اعلان کے بعد منعقد کیا گیا تھا ۔

آج ہفتے کے روز دارالحکومت الریاض میں ہونے والے ایک اور فٹ بال میچ کو دیکھنے کے لے بھی خواتین شائقین کو اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ مغربی شہر الدمام میں آیندہ جمعرات کو خواتین پہلی مرتبہ میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں آئیں گی۔

جدہ کے اسٹیڈیم میں عبایا کے اوپر نارنجی رنگ کی ویسٹ کوٹ پہنے نوجوان خواتین آنے والی معزز مہمان خواتین کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھیں اور وہ ان کی رہ نمائی بھی کررہی تھیں۔اسٹیڈیم میں خواتین کے لیے مختص حصے پر لگائے گئے ایک بورڈ پر عربی زبان میں لکھا تھا: سعودی خاندانوں کو خوش آمدید ۔

سعودی عرب میں جاری جامع اصلاحات کے عمل کے تحت اب معاشرے کو زیادہ وسیع الظرف اور وسیع النظر بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کو بھی نمائندگی دی جارہی ہے۔سعودی حکومت کی ان اصلاحات کے تحت ہی اسٹیڈیموں میں خواتین کے لیے الگ حصے مختص کیے گئے ہیں۔ان کے اور مردوں کے لیے مختص حصوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کی گئی ہیں۔خواتین کے لیے داخلی دروازے اور گاڑیاں کھڑی کرنے کی بھی الگ الگ جگہیں مختص کی گئی ہیں۔

جمعہ کو جدہ میں ہونے والے میچ کا ایک ٹکٹ صرف بیس ریال تھا لیکن اس کے باوجود اسٹیڈیم کا خاندانوں کے لیے مختص حصہ صرف آدھا بھرا ہوا تھا۔ سعودی عرب کی کھیلوں کی تنظیم کی ایک عہدے دار کے مطابق مرد شائقین کے مقابلے میں صرف تیرہ فی صد خواتین میچ دیکھنے کے لیے موجود تھیں ۔ ہم 2030ء تک یہ تعداد بڑھا کر چالیس فی صد کرنا چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں