67 38

صحابہ کرام جنگ میں زخمیوں کے علاج کے لیے یہ پودا استعمال کرتے تھے

صحابہ کرام جنگ میں زخمیوں کے علاج کے لیے یہ پودا استعمال کرتے تھے
78
“البشام” ایک نادر نوعیت کا چھوٹا سا پودا ہے جس کی مہک معطّر ہوتی ہے اور اس کی بلندی چار میٹر تک ہوتی ہے۔یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک معروف پودا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اس پودے کو غزوات اور جنگوں میں زخمیوں کے علاج کے واسطے استعمال کیا کرتے تھے۔ اس کی شاخوں سے حاصل ہونے والا گوند زخموں کے علاج کے لیے بہترین اینٹی بائیوٹک کا کام کرتا ہے۔ جنگوں سے قبل اس گوند کو بڑی مقدار میں جمع کر لیا جاتا تھا تا کہ ضرورت پڑنے پر زخمیوں کے لیے فوری طور دستیاب ہو سکے۔
23اس پودے کی زراعت کے ماہر احمد عساف نےکے مطابق البشام پودا تہامہ (عرب کے بحیرہ احمر کے ساحلی میدان) اور پہاڑی علاقوں میں پرورش پاتا ہے۔ البشام کی زراعت کی قلت کے سبب اس پودے کو معدومیت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ریستورانوں میں یہ پودا گوشت کو مہک اور رنگ دینے کے کام آتا ہے۔ عامری کے مطابق اگر پہاڑوں سے اس کی ٹہنیوں کو لے کر دوبارہ لگایا جائے تو اس کی زراعت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔عامری نے بتایا کہ البشام کے تُخمی پودے 30 سے 50 ریال میں فروخت ہوتے ہیں۔ اس سے عود کا روغن بھی حاصل کیا جاتا ہے جس کی قیمت 800 ریال تک ہوتی ہے۔
45 اس کی شاخیں بطور مسواک بھی استعمال ہوتی ہیں جن کا مقصد مُنہ کی صفائی اور اس کی بُو کو دور کرنا ہوتا ہے۔البشام پودے کی چھال سے نکلنے والا روغن نادر نوعیت کا تیل شمار کیا جاتا ہے۔ طبی لحاظ سے اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ “مرہمِ مکّہ” کے نام سے جانا جاتا ہے جس کو کئی امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔البشام پودے کے تمام ہی اجزاء امتیازی خصوصیات اور علاج کی حقیقی قدرت کے حامل ہوتے ہیں۔ کپڑوں کو رنگنے اور دھاگوں کی بنائی میں اس پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس کا ابال کر استعمال کئی اقسام کے جراثیم کے خاتمے میں کام آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں