mishal 25

مشال خان قتل کیس کے اہم مجرمان کون ہیں؟

ہری پور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مشال خان قتل کے مقدمے میں کل 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جس میں 57 کے خلاف بدھ کو عدالت نے فیصلہ سنایا ہے۔بقایا چار ملزمان میں سے تین مفرور ہیں جبکہ ایک ملزم کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے خلاف الگ کیس چلایا جا رہا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مرکزی ملزم عمران علی کو سزائے موت، جب کہ بلال بخش کے علاوہ چار دیگر مجرمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ان کے علاوہ وجاہت اللہ سمیت 24 دوسرے مجرمان کو چار چار برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ذیل میں عمران علی، بلال بخش اور وجاہت اللہ کا خاکہ پیش کیا جا رہا ہے جو اس واقعہ کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ان تینوں مجرمان کا مشال قتل میں اہم کردار تھا۔مشال خان قتل کیس میں سزائے موت پانے والے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم عمران علی کا تعلق ملاکنڈ ایجنسی کے علاقے پلئی سے ہے۔ وہ شعبہ ابلاغ عامہ میں مشال خان کے کلاس فیلو تھے۔پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم عمران علی نے ہنگاموں اور طلبہ کی طرف سے تشدد کے دوران مشال خان پر گولی چلائی جس سے ان کی موت ہوئی۔تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مشال خان کی موت صرف گولی لگنے کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ بدترین تشدد بھی ان کی ہلاکت کا باعث بنا۔

ان کے والد اپنے گاؤں کے سیاست میں سرگرم رہے ہیں جہاں وہ ایک مذہبی جماعت سے بھی منسلک رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم عمران علی ابتدا ہی سے طلبہ سیاست میں پیش پیش رہے ہیں۔ وہ کالج کے زمانے سے طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک رہے جبکہ یونیورسٹی میں بھی وہ جمعیت کے پروگراموں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کے پاس اس تنظیم کا کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں تھا۔ملزم عمران علی کی گرفتاری کے ضمن میں ابتدا ہی سے مختلف اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری صوبے بلوچستان کے پاک افغان سرحدی علاقے چمن سے عمل میں لائی گئی جہاں وہ اس واقعے کے بعد روپوش تھے۔ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے بھی رہا ہے تاہم وہاں وہ زیادہ عرصہ سرگرم نہیں رہے۔بعض معتبر سرکاری ذرائع کے مطابق ملزم عمران علی کچھ عرصہ تک مانسہرہ میں ایک کالعدم تنظیم کے زیر انتظام چلنے والے کیمپ میں ‘جہاد’ کی تربیت حاصل کی تھی تاہم انھوں نے ملک سے باہر کسی جہادی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔لیکن جب مشال خان کو قتل کر دیا گیا تو ملزم نے قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے اسی تنظیم کی مدد سے کچھ عرصہ روپوشی اختیار کی اور بعد میں انھیں چمن میں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ تاہم بااثر سرکاری اداروں کے کہنے پر انھیں واپس خیبر پختونخوا منتقل کیا گیا جہاں انھیں گرفتار کر لیا گیا۔لیکن پولیس ریکارڈ کے مطابق ان کی گرفتاری خیبر پختونخوا میں ہوئی ہے۔ تاہم کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ انھیں چمن سے گرفتار کیا گیا لیکن ان کی گرفتاری یہاں ظاہر کی گئی۔تاہم پولیس نے اس سلسلے میں کسی قسم کی معلومات دینے سے انکار کر دیا۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق کلاس فیلوز ہونے کے ناطے مشال خان اور عمران علی کے درمیان دوستی بھی تھی۔ چونکہ مشال خان اپنے جماعت کے ذہن ترین طالب علم تھے اور تمام سمسٹرز میں ان کی اول پوزیشن بھی تھی اسی وجہ سے اکثر طلبہ ان کے ہاسٹل کے کمرے میں آیا کرتے تھے تاکہ ان کے بنائے ہوئے نوٹس استعمال کر سکیں۔بلال بخش کا تعلق مردان کے علاقے بغدادہ سے بتایا جاتا ہے۔ وہ عبدالوالی خان یونیورسٹی میں کی پنچ آپریٹر (کے پی او) یعنی کلریکل عہدے پر کام کرتے تھے، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے انھیں کیمپس میں سکیورٹی کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی۔بلال بخش پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) کے انتہائی سرگرم رہنما تھے۔ وہ 2009 اور 2010 میں مردان میں پی ایس ایف میں نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ان کی تعیناتی بھی اسی بنیاد پر ہوئی کیونکہ وہ نہ صرف قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے منسلک جماعت کے طلبہ تنظیم کے سرگرم رکن تھے بلکہ پارٹی نے بھی اپنے جلسوں کو کامیاب بنانے کے لیے ان کا بھرپور استعمال کیا۔ ان کی تعیناتی عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں ہوئی تھی۔مردان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ بلال بخش کے خلاف مردان کے مختلف تھانوں میں آٹھ کے قریب ایف آئی آرز درج تھیں اور یہ تمام مقدمات پارٹی کے لیے ہونے والے جلسوں، گھیراؤ جلاؤ یا پی ایس ایف کے مختلف سرگرمیوں کے دوران درج ہوئی تھیں۔ ان پر مردان کالج کے پرنسپل اور سکینڈری بورڈ مردان کے چیئرمین پر حملہ کرنے کے جرم میں دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔

ملزم بلال بخش ویسے تو یونیورسٹی میں ملازم تھے لیکن ملازمت سے زیادہ وہ یونیورسٹی میں پی ایس ایف کے سرگرمیوں میں سرگرم تھے ۔ یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق ملزم بلال بخش پی ایس ایف کے اندر ایک گروپ کے سرغنہ تھے جن میں ان کے ساتھ چند دیگر طلبہ اور ملازمین شامل تھے جن میں تنظیم کے صدر صابر مایار، اجمل مایار، واجد ملنگ اور اسد کاٹلنگ (کلرک) قابل ذکر ہیں۔اجمل مایار بھی مشال خان قتل کیس میں گرفتار ہیں جبکہ دو دیگر ملزمان صابر مایار اور اسد کاٹلنگ بدستور روپوش ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق مشال خان کی اس گروپ کے ساتھ کئی مرتبہ تلخ کلامی اور تو تو میں میں ہو چکی تھی، بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ مقتول اور ملزم بلال بخش کے مابین لڑائی ہوئی تھی جس میں ملزم کو معمولی مار پڑی تھی۔اس کے علاوہ مشال خان بھی پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ تھے اور وہ تنظیم کی سرگرمیوں میں شرکت بھی کرتے تھے جس سے یہ گروپ ان سے خائف تھا۔اس گروپ کو یہ خدشہ تھا کہ چونکہ مشال خان کا تعلق صوابی سے ہے اور ان میں صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں، لہٰذا انھیں یہ ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو کہ کسی مرحلے پر ان سے پی ایس ایف کی صدارت چھن جائے۔سرکاری ذرائع کے مطابق ملزم بلال بخش وہ شخص تھے جس نے طلبہ کو مشال خان کے خلاف اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور وہی نعرے لگا کر ان کے پیچھے دوڑ پڑے جس سے حالات سنگین ہوئے۔انھوں نے شعبہ ابلاغ عامہ کے لیکچرار ضیاء اللہ ہمدرد کو بھی جان سے مارنے کی کوشش کی تاہم پولیس کی طرف سے بروقت کارروائی کے بعد ان کو بچا لیا گیا تھا۔ضیاء اللہ ہمدرد کا جرم یہ تھا کہ وہ مشتعل طلبہ کو مشال خان پر حملہ کرنے سے روکتے رہے جس سے بیشتر طلبہ ان کے بھی خلاف ہو گئے تھے۔مشال خان قتل کیس میں گرفتار ایک اور ملزم وجاہت اللہ کا تعلق سوالڈیر کے علاقے سے ہے۔ وہ شعبہ ابلاغ عامہ میں مشال خان کے ہم جماعت تھے۔بتایا جاتا ہے کہ مقتول مشال خان اور ملزم وجاہت اللہ کے درمیان اکثر اوقات کلاس میں مذہبی موضوعات پر بحث و مباحثے ہوا کرتے تھے جن کا کلاس کے تمام طلبہ کو علم تھا۔یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق ان بحث و مباحثوں کے دوران کبھی کبھار بات تلخ کلامی تک بھی جا پہنچتی۔ وجاہت اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر اوقات اسلامی کتابیں بھی اپنے ساتھ لایا کرتے تھے جس کے حوالے دے کر وہ بحث میں حصہ لیا کرتے تھے۔ یہ بحث سننے کے لیے ابلاغ عامہ کے دیگر طلبہ بھی موجود رہتے تھے۔ملزم وجاہت اللہ کا تعلق بھی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے رہا ہے جہاں وہ ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں۔ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مشال خان کو مبینہ طورپر ‘مرتد’ کہا اور ان کے خلاف تقریر کی جس میں ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے اور جس سے طلبہ میں اشتعال پیدا ہوا۔ بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ وجاہت اللہ نے اسلامی جمعیت طلبہ کے اجلاسوں میں بھی مشال خان کے خلاف منفی باتیں کیں اور ان پر مبینہ توہین مذہب کے الزامات لگائے جس سے یونیورسٹی میں کشیدگی کی فضا پیدا ہو گئی۔بتایا جاتا ہے کہ وجاہت اللہ اور ان کے دوستوں نے ایک دن مشال خان کے دوست عبداللہ کو پکڑ کر ان پر توہین مذہب کا الزام لگایا اور کہا کہ چونکہ وہ مقتول کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں لہٰذا وہ بھی اسلام سے خارج ہو گئے ہیں، تاہم عبداللہ نے انھیں کلمہ پڑھ کر سنایا اور اسلام کے متعلق دیگر سوالات کے درست جوابات دیے۔لیکن اس کے باوجود ان کی جاں بخشی نہیں ہوئی اور بعض مشتعل طلبہ نے ان پر شدید تشدد کیا جس سے وہ زخمی ہو گئے تاہم پولیس کی بروقت کارروائی کے بعد ان کی جان بچ گئی اور بعد میں پولیس انھیں حفاظتی تحویل میں لے کر یونیورسٹی سے لے گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں