5 45

اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے سلسلے میں قائم کیے گئے نیب ریفرنس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔

احتساب عدالت نے آج پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ، ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء اور تفتیشی افسر نادر عباس کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔

8 فروری کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں اصل جے آئی ٹی رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے واجد ضیاء کا بیان قلمبند نہیں ہوسکا تھا۔

آج سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے استفسار کیا، ‘کیا واجد ضیاء نہیں آئے؟’

پراسیکیوٹر نیب نے آگاہ کیا کہ ‘جےآئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو بلایا ہوا ہے’۔

معزز جج نے کہا کہ ‘آج پھر تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کروا لیں’۔

پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ ‘جی بالکل آج ہی واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ کرائیں گے، کل تو بہت رش ہوگا۔’

جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ ‘سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا،جے آئی ٹی نے بھی وقت پر تحقیقات کیں، ہم سماعت میں تاخیر کریں یہ مناسب نہیں’۔

معزز نے مزید کہا کہ ‘کچھ دیر کا وقفہ کرتے ہیں’، جس کے بعد سماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر خزانہ کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس میں 28 میں سے 26 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں۔

کیس کا پس منظر
سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔

تاہم بعدازاں مسلسل غیر حاضری پر احتساب عدالت نے 11 دسمبر 2017 کو اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا تھا۔

سابق وزیرخزانہ اِن دنوں علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں